امتِ مسلمہ کے عالمی چیلنجز — سیرتِ طیبہ کی روشنی میں
(گزشتہ سے پیوستہ) (۱) آپ بتوں کو توڑ رہے ہیں، ہمارا بنو ثقیف کا بت ’’لات‘‘ ہے، ہم اس کی عبادت نہیں کریں گے لیکن آپ اسے نہیں توڑیں گے اور وہ قائم رہے گا، اس لیے کہ وہ ہمارا
(گزشتہ سے پیوستہ) (۱) آپ بتوں کو توڑ رہے ہیں، ہمارا بنو ثقیف کا بت ’’لات‘‘ ہے، ہم اس کی عبادت نہیں کریں گے لیکن آپ اسے نہیں توڑیں گے اور وہ قائم رہے گا، اس لیے کہ وہ ہمارا
میں سراجا ً ‘ منیرا ً سیرت انسٹیٹیوٹ ڈھاکہ کی انتظامیہ بالخصوص مولانا ابو صابر عبد اللہ کا شکر گزار ہوں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقدہ اس آن لائن سیمینار
(گزشتہ سے پیوستہ) میں عرض کیا کرتا ہوں یہ حضورؐ کی دعا کی برکت ہے۔ مکہ کیلئے دعا ہمارے بڑے بابا جی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی جس کی برکات آج تک ہم دیکھ رہے ہیں، جبکہ مدینے
آج انسانیت اسی موڑ پر کھڑی ہے جس پر جناب نبی کریمؐ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر ’’أیھا الناس‘‘ کہتے ہوئے پہلی آواز لگائی تھی۔ جہاں انسانیت اس وقت کھڑی تھی آج بھی وہیں کھڑی نظر آتی ہے،
نصف صدی قبل سالہا سال تک میرا یہ معمول رہا ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام مردان اور سخاکوٹ میں گزرتے تھے۔ حضرت مولانا سید گل بادشاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری ہوتی، وہاں سے
(گزشتہ سے پیوستہ) پانچویں گزارش یہ ہے کہ اسلامی احکام و قوانین پر آج کے دور میں جو اعتراضات کیے جاتے ہیں یا ان کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے، ان سے فقہ کے استاذ
(گزشتہ سے پیوستہ) اس کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ فقہی مسائل و احکام میں دوسرے فقہی مذاہب کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے اگر انداز مجادلہ و مناظرہ کی بجائے افہام و تفہیم اور بریفنگ
قرنِ اول میں ’’فقہ‘‘ اور ’’تفقہ‘‘ کا لفظ جس مقصد کے لیے اور جس معنٰی میں بولا جاتا تھا وہ آج کے اس مفہوم سے بہت زیادہ وسیع تھا جس پر ہمارے اِس دور میں فقہ کا اطلاق ہوتا ہے۔
سیدنا ابراہیم علیٰ نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام وہ ذات گرامی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساری کائنات میں افضل ترین مقام و مرتبہ عطا
(گزشتہ سے پیوستہ) قرآن کریم میں صفا اور مروہ کی سعی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’’فمن حج البیت اواعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما‘‘ جو شخص حج کرے یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں کہ