قرآن کریم کے حقوق
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو قیامت تک نسلِ انسانی کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور اس وقت ان آسمانی کتابوں میں سے صرف وہی محفوظ حالت
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو قیامت تک نسلِ انسانی کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور اس وقت ان آسمانی کتابوں میں سے صرف وہی محفوظ حالت
(گزشتہ سے پیوستہ) جہاں تک خیر و شر کا تعلق ہے، اس کا معیار قائم کرنے کے لیے ہمیں بہت گہرائی میں جانا ہو گا۔ اس لیے کہ مغرب نے تو خیر و شر کا معیار یہ قرار دے دیا
بدقسمتی سے اندلس کی شکست کے بعد سائنس ہماری تعلیم و تحقیق کا اہم موضوع نہیں رہا۔ اور ہم نے اندلس کی درسگاہوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی بلکہ عمرانیات اور معاشرتی علوم کے حوالے سے بھی جو پیشرفت کی تھی،
ذی الحجہ میں سیدنا حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی عظمت اور قربانیوں کے ذکر اور ان کے ساتھ عقیدت و محبت کے اظہار کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ
(گزشتہ سے پیوستہ) یہ الفاظ کے تھوڑے بہت مختلف ہونے کے باوجود وہی تعریف ہے جو عام محدثین کے ہاں پائی جاتی ہے اور جو تعریف ہم عمومی طور پر حدیث کی کیا کرتے ہیں۔ جبکہ پہلے جملہ میں حضرت
اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں صدیوں سے چلے آنے والے مسلم اقتدار کو شدید بیرونی و اندرونی خطرات سے سابقہ درپیش تھا، اور جہاں ایک طرف سات سمندر پار سے آنے والے
(گزشتہ سے پیوستہ) لیکن ان دو الجھنوں اور رکاوٹوں کے باوجود مغرب کے اس موقف کو اصولی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جن ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں اور جن
آج کے دور میں دینی کام کے لیے سب سے پہلے آج کی دنیا کے مجموعی تناظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، اقوام عالم میں ہماری حیثیت کیا ہے
قرآن مجید پڑھنے اور سننے کا حکم بھی دیتا ہے ’’فاقرؤوا ما تیسر من القرآن‘‘ جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھو۔ ’’واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا‘‘ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو غور سے سنو۔ قرآن مجید پڑھنے
اصحابِ تصوف اور خانقاہوں سے وابستہ حضرات جو خدمات سر انجام دے رہے ہیں، یہ بھی دین کا ایک اہم حصہ ہے اور دینی تعلیم و تربیت کا بڑا شعبہ ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے ’’فلولا نفر من