قرآن مجید پڑھنے اور سننے کا حکم بھی دیتا ہے ’’فاقرؤوا ما تیسر من القرآن‘‘ جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھو۔ ’’واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا‘‘ جب قرآن مجید پڑھا جائے تو غور سے سنو۔ قرآن مجید پڑھنے اور سننے کا بہت اجر و فضیلت بیان کیا گیا ہے۔ لیکن اس سے اگلی بات قرآن مجید نے یہ بیان کی ہے ’’کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا اٰیاتہ ولیتذکر اولوا الالباب‘‘ کہ یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ پر اس لیے اُتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقل رکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔ اور دوسری جگہ فرمایا ’’حتٰی تعلموا ما تقولون‘‘ اسے سمجھو بھی کہ کیا پڑھ اور سن رہے ہو۔ الحمد للہ پڑھنے اور سننے کی طرف تو ہماری توجہ ہے، لیکن سمجھنے کی طرف ہماری توجہ کم، بلکہ بہت ہی کم ہے، جبکہ عمل تو سمجھنے کے بعد ہوتا ہے۔ جب میں کسی بات کو سمجھوں گا تو عمل کروں گا، اگر سمجھوں گا ہی نہیں تو عمل کیا کروں گا۔
صحابہ کرامؓ کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ قرآن مجید کی کوئی آیت نازل ہوئی تو وہ اسے سن کر پریشان ہو گئے۔ میں ان واقعات میں سے ایک عرض کر دیتا ہوں۔ جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی ’’یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ‘‘ کہ اے ایمان والو! تقوٰی کا حق ادا کرو، اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اس پر صحابہ کرامؓ پریشان ہوگئے کہ یہ کون کر سکتا ہے، کس کی ہمت ہے کہ وہ اللہ سے ڈرنے کا حق ادا کر سکے۔ صحابہ کرامؓ ایسے مواقع پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اپنی پریشانی عرض کرتے تھے۔ حضورؐ اس کی وضاحت فرماتے تھے اور ان کی تسلی کرا دیتے۔ حضورؐ سے بہتر وضاحت کون کر سکتا ہے، اور پھر اس کے بعد کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس آیت کے نزول پر صحابہ کرامؓ نے پریشان ہو کر حضور نبی کریمؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ’’حق تقاتہ‘‘ تو ہم سے نہیں ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ادا کر سکیں۔ چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں وضاحت اتار دی ’’فاتقوااللہ ما استطعتم‘‘ کہ جتنی تمہاری طاقت ہے اتنا تو اللہ سے ڈرو، باقی میں معاف کر دوں گا۔ اور یہ اصول قرآن مجید میں بیان فرمایا ’’لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کسی آدمی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
یہ بات میں آج کے نوجوانوں سے کہا کرتا ہوں کہ قرآن مجید پڑھتے سنتے ہوئے کوئی الجھن پیدا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرو۔ قرآن مجید کو آج کے فلسفوں پر مت پرکھو۔ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھتے ہوئے، مفہوم سنتے ہوئے کسی بات میں الجھن یا کنفیوژن آجانا فطری بات ہے۔ اس زمانے میں تو آسان بات تھی کہ جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں جا کر عرض کرتے کہ یا رسول اللہ! اس کا کیا مطلب ہے اور آپؐ اس کا صحیح مفہوم سمجھا دیتے تو بات واضح ہو جاتی اور اشکال دور ہو جاتا۔ آج جناب نبی کریمؐ کی ذات گرامی تو ہمارے سامنے نہیں ہے لیکن آپؐ کے ارشادات سامنے موجود ہیں، آپؐ کی تشریحات موجود ہیں جو با آسانی مل جاتی ہیں۔ اگر کوئی کنفیوژن آئے تو معلوم کرو کہ حضورؐ نے اس بارے میں کیا وضاحت فرمائی ہے، آپؐ کی وضاحت مل جانے کے بعد پھر ادھر ادھر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
میں نے ذکر کیا کہ صحابہ کرامؓ قرآن مجید کی کوئی بات سن کر پریشان ہو جاتے تھے۔ اس پر میں عرض کیا کرتا ہوں کہ صحابہ کرامؓ چونکہ قرآن مجید کو سمجھتے تھے اس لیے پریشان ہوتے تھے۔ ہم نہ سمجھتے ہیں نہ پریشان ہوتے ہیں۔ ہمارا فارمولا ہی الگ ہے کہ جب سمجھتے ہی نہیں تو پریشان کیوں ہوں گے۔ ہم قرآن سے صرف ثواب چاہتے ہیں کہ ثواب مل گیا ہے تو کافی ہے۔ جبکہ قرآن مجید قراءت، سماعت اور تلاوت کے بعد ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ مجھے سمجھیں بھی۔
قرآن مجید اپنے بارے میں کیا وضاحت کرتا ہے، اس حوالے سے میں نے ابتدائی آیات تلاوت کی ہیں ’’ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین‘‘ کہ سورۃ البقرہ کے آغاز میں اللہ رب العزت نے سب سے پہلے قرآن مجید کا تعارف کرایا ہے۔ پہلی بات یہ کہی ہے کہ یہ کس موضوع کی کتاب ہے۔ کیونکہ ہم کوئی بھی کتاب اٹھاتے ہیں تو پڑھنے سے پہلے یہ ذہن میں ہوتا ہے کہ یہ کس سبجیکٹ کی کتاب ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، سوشیالوجی، لغت، تاریخ، ناول یا افسانہ کس موضوع کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قرآن مجید کا تعارف کرایا کہ یہ کتاب شک و شبہ سے بالاتر ہے، اور پھر اس کا موضوع یہ بیان فرمایا کہ یہ نسل انسانی کی ہدایت کی کتاب ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ’’ھدی للناس‘‘ انسانوں کے لیے ان کی زندگی کی گائیڈ بک ہے۔ انسان دنیا میں آیا ہے اور اس نے یہاں رہنا ہے تو یہاں رہ کر کیا کرنا ہے؟ یہ اس کتاب کا موضوع ہے۔
سورۃ الفاتحۃ میں اللہ تعالی کی حمد و ثنا کرنے کے بعد یہ دعا سکھلائی گئی کہ ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ اے اللہ! ہماری سیدھے رستے کی طرف رہنمائی فرما، ہمیں ہدایت دے۔ اور سورۃ البقرۃ کے آغاز میں یہ بتایا کہ وہ ہدایت جو سورۃ الفاتحۃ میں مانگی تھی وہ یہ ہے۔ وہاں دعا سکھائی گئی کہ یا اللہ ہدایت دے اور ہماری رہنمائی فرما کہ ہم نے زندگی کیسے گزارنی ہے۔ اور یہ اس کا جواب ہے کہ وہ ہدایت یہ کتاب ہی ہے، یا اس کتاب میں ہی ہے جس کے مانگنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔
اس کے ساتھ اگر اس کا یہ پس منظر بھی شامل کر لیں تو بات زیادہ واضح ہو جائے گی۔ اسی سورت بقرہ میں دو رکوع بعد اللہ رب العزت نے بتایا ہے کہ اس زمین پر نسلِ انسانی کی آبادی کا آغاز کب اور کیسے ہوا تھا؟ ہمارے جد امجد حضرت آدمؑ اور حضرت حواؓ جنت میں آرام سے رہ رہے تھے، اللہ رب العزت نے ایک آزمائش میں ڈالا اور پھر دنیا میں بھیج دیا۔
لیکن درمیان میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں کہ انسان اس زمین کی مخلوق نہیں ہے، باہر سے آیا ہے۔ یہ بات آج سائنس بھی ڈسکس کر رہی ہے۔
( جاری ہے )