اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں صدیوں سے چلے آنے والے مسلم اقتدار کو شدید بیرونی و اندرونی خطرات سے سابقہ درپیش تھا، اور جہاں ایک طرف سات سمندر پار سے آنے والے برطانوی، فرانسیسی اور پرتگیزی استعماری گروہ اس خطہ پر تجارت کے عنوان سے تسلط جمانے کے لیے مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے، وہاں جنوبی ہند کے مرہٹوں اور پنجاب کے سکھوں نے قوت پکڑ کر دہلی کی مسلم مغل حکومت کے لیے حقیقی خطرات کھڑے کر دیے تھے۔ جبکہ مسلمان حکمران، نواب، امراء اور دیگر بااثر طبقات اقتدار کی باہمی کشمکش اور عیش پرستی میں الجھے ہوئے ہر محاذ پر پسپائی اختیار کرتے جا رہے تھے۔
عام مسلمان اور دیندار حلقے اس صورتحال پر سخت پریشان اور مضطرب تھے اور انہیں اصلاحِ احوال کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اس ماحول میں اہلِ حق کے سرخیل حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے قافلۂ حق کی ترجمانی کرتے ہوئے ملت کی راہنمائی اور ترجمانی کی ذمہ داری سنبھالی اور فکری و عملی محاذ پر جو کچھ ان کے بس میں تھا کر گزرے۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ اورنگزیب عالمگیرؒ کی وفات کے بعد مغل حکومت کے دورِ زوال کے آغاز میں ابھرنے والی ایک ایسی علمی و فکری اور روحانی شخصیت ہیں، جنہوں نے اس زوال کی رفتار، اس کے تنوع اور اس کے نتائج کو بروقت محسوس کر کے جنوبی ایشیا میں امت مسلمہ کے مستقبل کی علمی و فکری شیرازہ بندی کا بیڑا اٹھایا اور تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اس خطے کے مسلمانوں کو ایک ایسی علمی، فکری، دینی اور روحانی قیادت فراہم کر دی جو نہ صرف گزشتہ تین صدیوں سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی علمی، فکری اور سیاسی رہنمائی کر رہی ہے، بلکہ اہلِ فکر و نظر نے مستقبل میں بھی اس خدمت کے لیے اسی سے توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکری تحریک کا سب سے بڑا علمبردار دارالعلوم دیوبند ہے جس نے ایک سو چالیس سال کی جدوجہد کے ذریعہ اسلامی تعلیمات و احکام اور تہذیب و ثقافت کی نہ صرف حفاظت کی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے لاکھوں مسلمانوں کو مختلف شعبوں میں اس کی حفاظت و ترویج اور نفاذ و غلبہ کے لیے تیار کیا ہے۔ حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ اور حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کے تلامذہ میں سے حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا مملوک علی نانوتویؒ کے حلقہ نے اپنا مورچہ دیوبند میں لگایا اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اصلاحی تحریک کے تسلسل کو (بالخصوص فکری اور سیاسی محاذ پر) آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔ دیوبند میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ۱۸۶۶ء میں جس مدرسہ کا آغاز ہوا، اس کے بانیوں میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حاجی عابد حسینؒ نے اپنے اس نئے مدرسے میں، جو بعد میں دار العلوم دیوبند کے نام سے دنیا بھر میں متعارف ہوا، نصاب تعلیم کی بنیاد درس نظامی پر رکھی، لیکن اس میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمی اصلاحات اور سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے روحانی تربیتی ذوق کو بھی شامل کر لیا، چنانچہ ان تینوں کے امتزاج سے ایک مستقل فقہی مکتب فکر وجود میں آ گیا جس کے اثرات و ثمرات آج دنیا بھر میں بالخصوص برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علمی، دینی اور تعلیمی حلقوں میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ خود علوم قرآن و حدیث کے متبحرِ عالم تھے، انہیں اپنے لائق فرزندوں اور قابل فخر شاگردوں کی صورت میں علمی کام کرنے والی ایک مضبوط ٹیم میسر تھی اس لیے ان کے ایجنڈے نے ایک باقاعدہ علمی حلقے کی شکل اختیار کر لی اور جنوبی ایشیا کی دینی فکر پر ابھی تک اسی کا سکہ چل رہا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ جسے حضرت شاہ صاحبؒ نے بنیادی طور پر احادیث نبویہؐ کی کتاب کے طور پر ہی پیش کیا ہے، ہمارے ہاں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اس کے بعض ابواب دورۂ حدیث کے نصاب میں شامل ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں حدیث نبویؐ کی اہمیت بیان کی ہے، جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات و اعمال کی حکمتوں پر بحث کی ہے، اسلامی شریعت کی حکمتوں اور فوائد کو واضح کیا ہے، محدثین اور فقہاء کے اسلوب میں فرق کی نشاندہی کی ہے، اور احادیث نبویؐ سے مسائل و احکام کے استنباط و استدلال کے حوالہ سے صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمہ مجتہدینؒ کے اسالیب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ مختلف فقہوں کے وجود میں آنے کا پس منظر اور تاریخ بیان کی ہے۔ اسلامی احکام اور مسائلِ شریعت سماجی و معاشرتی کی حکمتوں اور اسرار و رموز سے واقفیت اور اس اسلوب سے استفادہ کے لیے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے، اس لیے ہماری رائے میں حدیثِ نبویؐ کے اس پہلو سے ہمارے طلبہ اور اساتذہ کا واقف ہونا ضروری ہے، بلکہ آج کے دور میں اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
حدیث نبویؐ کو ہمارے ہاں عمومی طور پر علوم دینیہ میں سے ایک علم کے طور پر پڑھا جاتا ہے اور قرآن کریم، حدیث نبوی، فقہ اسلامی، عقائد اور دیگر شعبوں میں علم حدیث کو بھی ایک شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ حدیث نبویؐ کو علوم اسلامیہ میں سے ایک علم کے طور پر نہیں بلکہ تمام علوم دینیہ کے مأخذ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ان کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ان عمدۃ العلوم الیقینیۃ رأسھا ومبنی الفنون الدینیۃ واَساسہا ھو علم الحدیث النبوی الشریف الذی یذکر فیہ ماصدر عن سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم من قول أو فعل أو تقریر ۔۔ الخ‘‘۔ اس میں دوسرا جملہ ’’الذی یذکر فیہ ما صدر عن سید المرسلینؐ من قول أو فعل أو تقریر‘‘ حدیث کی تعریف ہے۔
(جاری ہے)