Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

’’شرائع الٰہیہ اور انسانی تمدن کا باہمی تعلق

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ الفاظ کے تھوڑے بہت مختلف ہونے کے باوجود وہی تعریف ہے جو عام محدثین کے ہاں پائی جاتی ہے اور جو تعریف ہم عمومی طور پر حدیث کی کیا کرتے ہیں۔ جبکہ پہلے جملہ میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حدیث نبویؐ کا تعارف اور دین میں اس کے مقام و حیثیت کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تمام علوم دینیہ کا مأخذ اور اساس علمِ حدیث ہے، یعنی دین سے متعلقہ تمام علوم ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث کے ذریعے ملا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ ان تمام علوم کو علم حدیث کے شعبوں کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور حضرت شاہ صاحبؒ کی یہ تعبیر و تشریح پیش نظر رہے تو حدیث و فقہ کے باب میں بہت سے عقدے خودبخود حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔
شاہ ولی اللہؒ کو اپنے دور میں فقہی جمود کا سامنا تھا اور اس جمود کو توڑنے کے لیے انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو قرآن و حدیث سے براہ راست استفادہ کرنے کی دعوت دی بلکہ قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری کیا اور فقہ میں انہوں نے فقہ حنفی کے اصولی دائرہ کو قائم رکھتے ہوئے وقت کے تقاضوں اور مستقبل کی سماجی ضروریات کے حوالہ سے توسع اور اجتہاد کو فروغ دینے کی بات کی۔
علماء کرام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آج کے ماحول اور مستقبل کی علمی و فکری ضروریات کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا مطالعہ کس انداز سے کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ایک اور بات بھی شامل کرنا چاہوں گا جس کا ذکر خود حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں کیا ہے کہ اب نظاموں کے مقابلہ کا دور ہے، جس میں اسلامی احکام و قوانین اور قرآن و سنت کی تعلیمات و فرمودات کی معاشرتی حکمتوں کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے حضرت شاہ صاحبؒ نے قرآن کریم کی وجوہِ اعجاز میں ایک نیا پہلو اجاگر کرنے سے تعبیر کیا ہے کہ جس طرح دنیا فصاحت و بلاغت اور بہت سے دیگر پہلوؤں میں قرآن کریم کا مقابلہ کرنے سے عاجز چلی آ رہی ہے، اسی طرح معاشرتی قوانین و احکام کے دائروں میں بھی قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات کی معاشرتی حکمتوں، مصلحتوں اور افادیت و تاثیر کا مقابلہ کرنا بھی دنیا کے کسی نظام کے بس میں نہیں ہے، اور یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نمایاں معجزہ ہے۔
اسلامی تعلیمات کے اس سماجی پہلو کو جسے آج کی دنیا میں ’’سوشیالوجی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کی سماجی تشریحات کا راستہ اختیار کیا اور خاص طور پر ’’ارتفاقات‘‘ کا عنوان اختیار کیا، جس کی وجہ ہمارے خیال میں یہ ہے کہ قرآن کریم نے ’’جنت کی سوسائٹی‘‘ کو ’’حسنت مرتفقا‘‘ اور دوزخ کے ماحول کو ’’ساءت مرتفقا‘‘ قرار دیا ہے۔ چنانچہ دنیا کی انسانی سوسائٹی کو جنت جیسا ماحول فراہم کرنے کو انہوں نے ارتفاقات کے عنوان سے بیان فرمایا ہے۔
حضرت شاہ صاحبؒ کے اس فکر و فلسفہ کو مختلف اوقات میں جن اکابر علماء کرام نے اپنے مطالعہ و تحقیق اور تدریس و اشاعت کا موضوع بنایا، ان میں ہمارے عمِ محترم استاذ گرامی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہ اللہ تعالیٰ بانئ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ہیں، جن سے ہزاروں علماء کرام نے استفادہ کیا اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و افکار کی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا، جن میں ان کے پوتے، مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، کے فرزند اور راقم الحروف کے نواسے حافظ محمد خزیمہ خان سواتی سلّمہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے زیر نظر مقالہ (’’شرائع الٰہیہ اور انسانی تمدن کا باہمی تعلق: فکرِ شاہ ولی اللہ کی روشنی میں‘‘ جسے ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے ’’فکرِ امام شاہ ولی اللہ نمبر‘‘ کے عنوان سے خصوصی اشاعت جنوری ۲۰۲۵ء کی صورت میں شائع کیا ہے) میں معاشرہ اور سماج کے حوالہ سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشادات و تعلیمات کو آج کی زبان اور ضروریات کے مطابق پیش کر کے اس عظیم علمی خدمت میں وقیع حصہ ڈالا ہے جو بلاشبہ حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی کاوشوں کا تسلسل ہے اور ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیزم خزیمہ خان کی اس محنت کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں