Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

دورِ جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

آج کے دور میں دینی کام کے لیے سب سے پہلے آج کی دنیا کے مجموعی تناظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، اقوام عالم میں ہماری حیثیت کیا ہے اور ہمارے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ اس لیے علماء کرام اور بالخصوص نوجوان علماء کرام کو چاہیے کہ وہ دنیا کے حالات سے باخبر رہیں، معاصر اقوام و مذاہب سے واقفیت حاصل کریں اور اس عالمی تہذیبی کشمکش کا شعور حاصل کریں جو اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کے بغیر کوئی نوجوان عالم دین دینی و علمی خدمات سرانجام دینا چاہتا ہے تو وہ اپنے مخصوص اور محدود ماحول کے دائرے میں تھوڑا بہت کام ضرور کر لے گا لیکن اسلام کی دعوت اور ملت اسلامیہ کے مسائل و مشکلات کے حوالے سے کچھ نہیں کر پائے گا۔
اسلام اور مغرب کی کشمکش کے پس منظر میں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ مغرب کا موقف کیا ہے اور اس موقف کا پس منظر کیا ہے؟ ہم مغرب کے موقف کو اصولی طور پر دو حوالوں سے زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں:
ایک تو یہ تاریخی پس منظر ہمارے پیش نظر رہنا چاہیے کہ مغرب نے قرون وسطیٰ یا قرون مظلمہ میں مذہب کے جس کردار کا مشاہدہ کیا ہے بلکہ مذہب کے جس کردار کو بھگتا ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے مغرب کی مذہب دشمنی کو سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں رہتا۔ مغرب نے صدیوں تک اس صورتحال میں وقت گزارا ہے کہ عام آبادی بادشاہت اور جاگیردارانہ نظام کے مظالم کی چکی میں پستی رہی ہے۔ عام آدمی اس دور میں غلام سے بد تر حیثیت اختیار کر چکا تھا اور انسانوں کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ مذہب نے اس دوران عام آدمی کا ساتھ دینے کے بجائے بادشاہ اور جاگیردار کا ساتھ دیا اور اپنا پورا وزن مظلوم کے بجائے ظالم کے پلڑے میں ڈال دیا۔ حتیٰ کہ بادشاہت اور جاگیرداری کے خلاف عوامی بغاوت کے موقع پر بھی مذہب کا پرچم تھامے ہوئے اس دور کے اہلِ مذہب نے غریب عوام کے بجائے بادشاہت اور جاگیرداری کی حمایت و تعاون کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں شدید رد عمل کی طوفانی لہروں نے بادشاہت اور جاگیرداری کے ساتھ مذہب کا بیڑا بھی گہرے سمندر میں غرق کر دیا۔
اس لیے آج جب مغرب والوں کے سامنے مذہب کا نام آتا ہے تو ان کی نظروں کے سامنے قرون وسطیٰ کا منظر گھوم جاتا ہے اور ان کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مذہب اور اہل مذہب کا اس کے سوا بھی کوئی کردار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں مغرب کے سامنے مذہب کی بات کرتے ہوئے مذہب سے اس کی شدید نفرت کے اس بڑے سبب کا لحاظ کرنا ہوگا؛ اور دلیل، منطق اور کردار کے ساتھ واضح کرنا ہوگا کہ اسلام اور قرون وسطیٰ کی مسیحیت کے معاشرتی کردار میں کیا فرق ہے۔ اور عام اہل مغرب کو باور کرانا ہوگا کہ اسلام بادشاہت کا نہیں بلکہ عوام کا ساتھی ہے اور جاگیردار کا نہیں بلکہ مظلوم کا حمایتی ہے۔
مذہب سے اہل مغرب کی شدید نفرت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ مذہب نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں اہل مغرب کی پیش رفت اور ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے اور اس کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی مخالفت کی ہے۔ مذہب نے کائنات کے مطالعہ اور زمین و آسمان کے نظام کی سائنسی تعبیرات کو کفر و الحاد قرار دے کر سائنس دانوں پر فتوے عائد کیے ہیں اور مذہبی عدالتوں نے انہیں خوفناک سزائیں دی ہیں۔ یہ ایک مستقل باب ہے جس کے مطالعہ کی ضرورت ہے اور اس سے بھی مذہب کے ساتھ اہل مغرب کی نفرت کی شدت اور نوعیت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ آج کی عالمی کشمکش کے تناظر میں ایک اور بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مغرب کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے نام سے ایک بین الاقوامی ادارہ تشکیل پایا تھا اور اس نے ممالک اقوام کے نظام کو چلانے کے لیے انسانی حقوق کے چارٹر کے نام سے راہنما اصول وضع کیے تھے، جس پر دنیا بھر کے تمام ممالک کے نمائندوں نے دستخط کر کے اس چارٹر کو اپنی حکومتوں اور نظاموں کے لیے راہنما اصول کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ اس چارٹر کی دفعات کی تشریح و تعبیر کا بھی ایک نظام ہے جس میں تمام ممالک شریک ہیں اور اقوام متحدہ کے مختلف ادارے بوقت ضرورت اس چارٹر کی دفعات کی تشریح و تعبیر کرتے ہیں۔ اس لیے جن ممالک نے اس چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں اور جو ممالک اقوام متحدہ کے نظام میں باقاعدہ شریک ہیں، انہیں اس معاہدہ کی پابندی کرنی چاہیے اور اپنی شرکت اور دستخطوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے قانونی نظاموں اور حکومتی ڈھانچوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کے دائرے میں لانا چاہیے۔
ہم مسلمانوں کی اس سلسلے میں دو بڑی الجھنیں ہیں:
ایک یہ کہ اقوام متحدہ کے منشور کو من و عن قبول کرنے کی صورت میں ہمیں قرآن و سنت کے بہت سے صریح احکام سے دستبردار ہونا پڑتا ہے، اور خاندانی نظام یعنی نکاح و طلاق اور وراثت کے علاوہ حدود و تعزیرات کے باب میں بھی قرآن کریم اور سنت نبوی کے متعدد صریح قوانین و احکام پر عمل کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں رہتا۔
اور دوسری الجھن یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام پر مغرب کی اجارہ داری ہے اور خود اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں پر عمل درآمد میں بھی مغرب کی ترجیحات کا غلبہ رہتا ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں