لاہور(ویب ڈیسک )لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں پولیس نے بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جس سے ٹریفک سینٹرز میں بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت ہوئی جبکہ حکومت نے بھی ڈرائیونگ لائسنس میں بڑے پیمانے پر اضافے سے لوگوں کو حیران کردیا۔ملک کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بزرگ شہریوں اور طالب علموں کے لئے نئی اپ ڈیٹ شیئر کی ہے۔
وزیر کے احکامات پر بزرگ شہری اپنے گھروں میں آرام سے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرسکیں گے جبکہ طلباء اپنے کالجوں یا یونیورسٹیوں میں اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ڈرائیونگ لائسنس فیس 2024
| License Type | New Annual Fee |
| Learner’s License | Rs500 |
| Motorcycle License | Rs500 |
| Motorcar/Jeep License | Rs1800 |
| Light Transport License | Rs2000 |
| Heavy Transport License | Rs2000 |
| Tractor License | Rs1000 |
| Commercial Tractor License | Rs1500 rupees |
اسی طرح نقوی نے اسلام آباد میں اسلام آباد ٹریفک پولیس موبائل سہولت اور تعلیمی سروس کا افتتاح کیا اور شہریوں کو لائسنس وں کی تجدید میں مدد کے لئے تین موبائل ٹریفک وینز متعارف کروائیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کالجز اسکولوں کے بچوں کو ہمارے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہوگی، ہم تمام کالجز، یونیورسٹیز کے اساتذہ سے رابطہ کر کے مہینے میں ایک یا دو دفعہ جا کر ان کے لرنر اور ڈرائیونگ لائسنس بنائیں گے، اس سے بچوں کا وقت بچے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے بزرگ شہریوں کے لیے گھر پر ڈرائیونگ لائسنس بنانے کی سہولت کا اعلان بھی کردیا۔
انہوں نے کہا کہ 70 سال سے اور اس سے زیادہ کے لوگوں کو ان کے گھر میں جاکر یہ سہولت فراہم کریں گے، ان کے گھر جاکر لائسنز بنایا جائے گا، یہ عوام کا حق ہے، ہمیں ٹریفک کا مسئلہ حل کر کے اسے سگنل فری کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ شہری موبائل ٹریفک سہولت وین سے لرنرپرمٹ، لائسنس تجدید اور دیگر اہم سہولیات حاصل کرسکیں گے، تین موبائل ٹریفک وین پر مشتمل یہ سہولت مختلف پبلک مقامات پر لوگوں کو سہولیات فراہم کرے گی، موبائل ٹریفک ایجوکیشن وین مختلف نجی و تعلیمی اداروں اور سڑکوں پر شہریوں کو ٹریفک سے متعلق آگاہی فراہم کرے گی۔
محسن نقوی نے بتایا کہ اگلے آنے والے دنوں میں آپ کو کافی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی، ہم اسلام آباد کو منشیات اور تجاوزات سے پاک کریں گے، پولیس اور شہدا کی فلاح میری پہلی ترجیح ہے۔انہوںنے کہاکہ میں صبح لاہور پاسپورٹ آفس گیا تھا، وہاں بہت کرپشن کی شکایت تھی، میں وہاں کے اعلی عہدیداران کو بدل کر آیا ہوں، پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر ہورہی ہے، تھوڑا سا وقت لگے گا اسے صحیح کرنے میں، کچھ تکنیکی مسائل ہیں ابھی پر یہ نہیں ہوگا کہ لوگ پیسے دیں لیکن پاسپورٹ نا بنے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان عمارات جہاں پارکنگ نہیں ہے ہم اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کی ڈیل کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ میرے علم میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔
