نام تو ان کا کھڑک سنگھ تھا لیکن ساتھی اساتذہ بڑے سر ، چوڑے چہرے اور موٹے تازے ڈیل ڈول کی وجہ سے انہیں بوہلی سنگھ کہتے تھے ، پنجاب میں بل ڈاگ کو بوہلی کتا کہتے ہیں اور بوہلی سنگھ کا ڈیل ڈول ایسا نرالا تھا کہ یار دوستوں کی طرف سے شغل میلے کے طور پر رکھا گیا نام ہی زبان زد عام ہو گیا ۔ حالانکہ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کیلئے جو کھڑکا دڑکا وہ عام طور کرتے رہتے تھے اس تناظر میں کھڑک سنگھ نام بھی ان پر خوب جچتا تھا ۔
مشرقی پنجاب کے ایک دور دراز گائوں میں بوہلی سنگھ انگلش کے ٹیچر تھے ، ایک روز وہ آٹھویں کلاس کا پیریڈ لے رہے تھے کہ ڈائریکٹر ایجوکیشن سرپرائز وزٹ پر اسکول آ دھمکے ، اور بوہلی سنگھ کی بدقسمتی یہ کہ ڈائریکٹر نے اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو ساتھ لے کر انسپکشن کا آغاز ہی آٹھویں کلاس سے کیا ، جہاں بوہلی سنگھ اپنے مخصوص دیسی انداز میں ٹیچنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے اور ڈائریکٹر کو اپنے کلاس روم کی طرف بڑھتے دیکھ کر انہوں نے ’’سلسلہ تعلیم‘‘ کچھ زیادہ ہی باآواز بلند شروع کر دیا ، ڈائریکٹر صاحب جوں ہی کلاس کے قریب پہنچے تو یہ آوازیں ان کے کانوں میں پڑیں ۔
بوہلی سنگھ : سارے بچے آکھو …کھوتی !
بچے : (کورس کے انداز میں)…کھوتی !
بوہلی سنگھ : کھوتی دے پیچھے کھوتی !
بچے : کھوتی دے پیچھے کھوتی !
بوہلی سنگھ : کھوتی دے پیچھے میں !
بچے : کھوتی دے پیچھے میں !
بوہلی سنگھ : میرے پیچھے ساری قوم !
بچے : میرے پیچھے ساری قوم !
ڈائریکٹر ایجوکیشن یہ منظر دیکھ کر برہم ہو گئے اور درشت لہجے میں بوہلی سنگھ سے پوچھا ، یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟
بچیاں نوں انگریجی پڑھا رہیاں سرکار ! بوہلی سنگھ نے سینہ پھلا کر جواب دیا ۔
یہ کیسی انگریزی ہے ؟ ڈائریکٹر کا موڈ یکدم بگڑ گیا سرکار میں بچیاں نوںAssassination دے اسپیلنگ یاد کروا ریاں ! بولی سنگھ نے جواب دیا تو انگریزی پڑھانے اور اسپیلنگ ذہن نشین کروانے کے اس عجوبہ طریقے کو دیکھ کر ڈائریکٹر نے اپنا سر پکڑ لیا ۔ جو دوست انگریزی نہیں جانتے ان کیلئے یہاں یہ وضاحت مناسب ہو گی کہ انگریزی میں کھوتی (گدھی) کو Ass کہتے ہیں ، اور کسی کی جان لینے یعنی قتل کو انگریزی میں Assassination بھی کہا جاتا ہے ۔ اور بوہلی سنگھ یہ اسپیلنگ توڑ کر بچوں کے ذہن نشین کروا رہے تھے کہ پہلے Ass لکھیں ، اس کے بعد پھر ass لکھیں ، پھر i لکھیں اور آخر میں Nation۔
برسوں پہلے سنا ہوا یہ لطیفہ ہمیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرف سے برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف میں لکھے کالم پر بے اختیار یاد آگیا ہے کہ جس میں انہوں نے اپنی Assassination کے خدشے کا اظہار کیا ہے ، یہ وہی بیانیہ ہے کہ جس کی بارش کے ابتدائی قطرے بھی برطانیہ سے ہی لانچ کیے گئے تھے۔ اور لندن میں مقیم پی ٹی آئی یو ٹیوبر عادل راجہ نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور کینیڈا میں موجود اپنے ہم نوالہ ہم پیالہ یوٹیوبر حیدر مہدی سے مل کر پوری قوم یوتھ کو اسی طرح اپنے پیچھے لگا لیا جس طرح کا منظر بوہلی سنگھ Assassination کے اسپیلنگ یاد کرواتے ہوئے پیش کر رہے تھے کہ کھوتی ، کھوتی دے پیچھے کھوتی ، کھوتی دے پیچھے میں ، میرے پیچھے پوری قوم ۔عادل راجہ پاک فوج سے نکالے گئے ریٹائرڈ میجر ہیں جبکہ حیدر مہدی نکالے گئے ریٹائرڈ کیپٹن ، فوج کی سروس کے ابتدائی برسوں میں یہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ عام طور پر ان لوگوں کو دی جاتی ہے کہ جن کے بارے میں ان کے افسران کی یہ رائے پختہ ہو جائے کہ یہ لوگ ڈیفینس اینڈ اسٹریٹجک امور کے شعبے میں ان فٹ یا مس فٹ ہیں ، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مس فٹ یا ان فٹ ہونے کی وجہ سے افواج پاکستان سے نکالے گئے بہت سے افسران خود کو ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک امور پر اتھارٹی قرار دینے لگتے ہیں ، پانچ دس سال فوج میں سروس کرنے کی وجہ سے چونکہ فوجی اصطلاحات انہیں ازبر ہوتی ہیں اور اپنے کلاس میٹس سے تھوڑا بہت رابطہ بھی رہتا ہے اس لئے جب یہ لوگ فوجی اصطلاحات کا مرچ مصالحہ ڈال کر یہ نیاچورن سوشل میڈیا پر بیچنا شروع کرتے ہیں تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں ، کم و بیش کچھ ایسا ہی سانحہ عادل راجہ اور حیدر مہدی کے ساتھ ہوا ، دونوں نے جب یہ دیکھا کہ یہ چورن تو تلسی اور ناز پان مصالحہ سے بھی زیادہ تیزی سے مقبول ہونا شروع ہو گیا ہے تو انہوں نے سینہ گزٹ اور لنگر گپ کا تڑکا کچھ زیادہ ہی لگانا شروع کر دیا ، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کے سبسکرائیبرز لاکھوں تک پہنچ گئے ، اور دونوں پر ڈالروں کی بارش شروع ہو گئی ۔
مثل مشہور ہے کہ ’’ کھسریاں دے گھر پتر جمیا ، تے اونہاں چوم چوم کے مار دتا‘‘ کچھ ایسا ہی معاملہ عادل راجہ اور حیدر مہدی سے ہوا ، دونوں نے وش فل تھنکنگ پر مبنی وی لاگز کو سینہ گزٹ اور لنگر گپ قرار دے کر پیش کرنے کا دھندہ اتنا آگے بڑھا دیا کہ ایک طرف اپنی ساکھ تباہ کر بیٹھے تو دوسری طرف برطانوی عدالتوں میں ان کیخلاف ہتک عزت کے کیس دائر ہونے شروع ہو گئے ، انگریزی کا مشہور مقولہ ہے کہ Excess of everything is badاور پنجابی کا مشہور شعر ہے۔
پہلی گل وی نئیں رہندی ، بوہتی گل ودھاون نال
بندہ کلا رہ جاندا اے ، بوہتے یار بناون نال
اس وقت صورتحال یہ بنی ہوئی ہے کہ لندن میں صرف عادل راجہ ہی نہیں ، ان کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ایک پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ شایان علی اور دونوں کے وکیل مہتاب عزیز پر مشتمل پوری ٹرائیکا سخت پریشان ہے اور ہتک عزت کے کیسز میں پیشیاں بھگت رہی ہے ، بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد نصیر کی طرف سے دائر ایک کیس میں تو عادل راجہ کو 10 ہزار پائونڈ جرمانہ بھی ہو چکا ہے اور مدعی مقدمہ کے کیس کے اخراجات بھی ادا کرنے کے ممکنہ عدالتی فیصلے کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے ، اگر یہ سارے مل ملا کر بیس پچیس ہزار پائونڈ ادا کرنے پڑگئے تو پاکستانی روپے میں یہ رقم ایک کروڑ سے بھی تجاوز کر جائے گی ، غالباً اسی یقینی خطرے کی وجہ سے ہی عادل راجہ نے برطانوی عدالت کو یہ لکھ کر دیدیا ہے کہ ان کے پاس اتنے پیسے ہیں ہی نہیں اور جو کچھ جمع پونجی تھی وہ کیس پر پہلے ہی خرچ ہو چکی ہے ، دوسری طرف شایان علی کی طرف سے وکیل نے برطانوی عدالت میں یہ موقف اختیار کر لیا ہے کہ اس کے موکل کی ذہنی حالت درست نہیں۔(جاری ہے)