Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

9 مئی واقعات اور سائبیریا کے بھیڑیئے

(گزشتہ سے پیوستہ)
ترکی کی مشہور کہاوت ہے کہ گندم بونے والے کو گندم ملے گی اور جو کاشت کرنے والے کو جو ، پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے ملک گیر لیول پر اسمگلرز ، ملاوٹ مافیا، بلیکیئے ، فراڈیئے ، قبضہ گروپ ، رسہ گیر اور انتہائی عیار و مکار اور سفاک نودولتیئے بھرتی کر رکھے ہیں ، ملک میں پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد جب ہر ضلع اور ہر تحصیل کا اقتدار ایسے ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس ہو گا تو پھر گراس روٹ لیول پر انصاف کا بولا بالا کیسے ہو گا ؟ بانی پی ٹی آئی کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی یا جادو کی چھڑی ہے کہ وہ جو کاشت کرکے گندم کی فصل کاٹ لیں گے ؟
تین صوبوں پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے سنگم کے اضلاع میں آج کل دریائے سندھ کے کچہ ایریاز میں ڈاکوئوں ، خطرناک اشتہاریوں اور اغوا برائے تاوان گینگز کیخلاف آپریشن چل رہا ہے ، پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین سے یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ جناب والا ! آپ کا وہ کون سا ایم پی اے تھا کہ جس پر سندھ پنجاب بارڈر ایریاز کے پیپلز پارٹی کے ایک ایم پی اے نے الزام لگایا تھا کہ وہ اغوا برائے تاوان میں ملوث ایک خطرناک گینگ کا سرپرست و سہولت کار ہے ، اور اس گینگ کے ذریعے اسے قتل کروانا چاہتا ہے ، اور پھر انہی دنوں اس پی ٹی آئی ایم پی اے کی مذکورہ گینگ کے سرغنہ کے ساتھ مبینہ ٹیلی فون کال بھی سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی تھی ، بانی پی ٹی آئی سے کچہ ایریا کے عوام کو توقع تھی کہ وہ اپنے اس ایم پی ے کیخلاف ایکشن لیں گے لیکن انہوں نے الٹا اسے پی ٹی آئی کا ضلعی صدر بنا دیا اور 8 فروری 2024 ء کے عام انتخابات میں ایم پی اے کی بجائے ایم این اے کا ٹکٹ دیدیا ۔
جنوبی پنجاب سے ہی تعلق رکھنے والے 2 اہم سیاست دان اپنی شوگر ملز میں گنے کے وزن پر ظالمانہ کٹوتی کرنے اور کم ریٹ پر گنا خریدنے کیلئے ’’ٹوکہ پرمٹ‘‘ جاری کرنے کے حوالے سے بہت بدنام ہیں اور پچھلے کئی عشروں کے دوران غریب کسانوں کی جیب پر مجموعی طور پر کروڑوں اربوں روپے کا ڈاکہ ڈال چکے ہیں۔ اس لئے علاقے کے کاشتکاروں نے ان کا نک نیم ’’ٹوکہ پرمٹ‘‘ رکھا ہوا ہے ، جو 2018 کے عام انتخابات میں وائرل بھی ہوا ، خیال تھا کہ کاشتکاروں کے بدترین استحصال کے حوالے سے اس قدر بدنام ان پی ٹی ائی ارکان اسمبلی کو تبدیلی سرکار میں کوئی اہم عہدہ نہیں دیا جائے گا لیکن ہوا یوں کہ بانی چیئرمین عمران خان نے دونوں کو انتہائی پرکشش وزارتیں دیدیں ۔
جنوبی پنجاب سے ہی تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے ایک اور “نیک سیرت و نیک صورت ” باپ بیٹے کے حوالے سے آج کل ایک اور خوفناک مالیاتی اسکینڈل سامنے آیا ہوا ہے ، پی ٹی آئی کے ان سابق و موجودہ ایم پی ایز پر الزام ہے کہ وہ چھ سات ماہ قبل اچانک ہارٹ اٹیک سے وفات پا جانے والے اپنے ایک بزنس پارٹنر کے کم و بیش 30 کروڑ روپے کے تمام حصص اور جائیدادیں ہڑپ کر گئے ہیں، مرحوم بزنس پارٹنر کے ذریعے جن لوگوں نے گروپ کی کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کپاس اور فلور ملز میں گندم سپلائی کر رکھی تھی اور نقد رقم پرافٹ بیس پر انویسٹ کر رکھی تھی، 40 کروڑ روپے کے لگ بھگ یہ بڑی رقم بھی مذکورہ پی ٹی آئی ایم پی ایز ’’کھا‘‘ گئے ہیں ، اور تھک ہار کر اب تمام متاثرین پی ٹی آئی چیئرمین سے اس زیادتی کا ازالہ کروانے کا مطالبہ لے کر آج کل اڈیالہ جیل کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کے منصوبے بناتے پھر رہے ہیں۔
کم و بیش 70 کروڑ روپے کی لوٹ مار کا یہ نیا مالیاتی اسکینڈل 8 فروری کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل سامنے آیا ، اس لیئے یہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی اس بدنام باپ بیٹے کو پارٹی ٹکٹ نہیں دے گی ، لیکن کپتان اور اس کی قومی سطح کی ٹیم نے ایک بار پھر پارٹی ٹکٹ انہی کی جھولی میں ڈال دیا ، پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین سے یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ جناب والا! آپ خود تو لٹیرے اور کرپٹ لوگوں کو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑوا کر اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں