کوئٹہ(نیوزڈیسک) لورالائی میں کانگو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا جس کے بعد کانگو کے مریضوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی۔فاطمہ جناح اسپتال ذرائع کے مطابق ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ شہری سراج الدین کو ناک اور منہ سے اچانک خون آنے کی شکایت پرورثاء نے اسے ہسپتال پہنچایا جہاں ٹیسٹ میں کانگو وائرس کی تشخیص سامنے آگئی جس کے بعد مریض کو فاطمہ جناح انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیزز کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا۔
ہسپتال حکام کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک 22 افراد کانگو وائرس کا شکار ہوچکے ہیں، جن میں سے اب تک 5 افراد دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں جبکہ 17 علاج مکمل ہونے پر ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھروں کو جاچکے ہیں جبکہ ایک ابھی بھی زیر علاج ہے ۔ یاد رہے کہ 16 اگست کو بلوچستان میں کانگو وائرس میں مبتلا ایک مریض دم توڑ گیا تھا۔
کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس رپورٹ
کانگو وائرس کیا ہے؟
یہ وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔اس بیماری میں جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔یہ وائرس زیادہ تر افریقہ اور جنوبی امریکا ’مشرقی یورپ‘ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پایا جاتا ہے، اسی بنا پر اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری کہا جاتا ہے، یہ وائرس سب سے پہلے 1944 میں کریمیا میں سامنے آیا، اسی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا تھا۔
آج ڈالراوراسٹاک مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال کیا ؟جانیں