سیف اللہ خالد بن ولیدؓ ناقابلِ شکست سپہ سالار
یہ ان واقعات کا ذکر ہے جنہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو تاریخِ اسلام کا روشن ستارہ اور دنیا کے بے مثال جرنیلوں میں شامل کر دیا۔ قبولِ اسلام کا روح پرور واقعہ (6ھ628:ء) صلح حدیبیہ کے بعد جب
یہ ان واقعات کا ذکر ہے جنہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو تاریخِ اسلام کا روشن ستارہ اور دنیا کے بے مثال جرنیلوں میں شامل کر دیا۔ قبولِ اسلام کا روح پرور واقعہ (6ھ628:ء) صلح حدیبیہ کے بعد جب
مولانا رومی کی توحید کتابی نہیں، جلتی ہوئی تجربہ شدہ آگ ہے۔ وہ نہ صرف لا الہ الا اللہ کو جانتے تھے، بلکہ اس میں جل کر فنا ہو چکے تھے۔ ان کی مثنوی میں توحید کے راز پوشیدہ نہیں،
ترجمہ:زمانے کی قسم! بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔ (سورِۃ العصر، آیات 1-3) وقت: ایک امانت ‘ اللہ رب
1. تمہید: وحی اور انقلاب کا دور۔۔ ہم ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو پہلے کبھی نہیں آیاجہاں وحی اورٹیکنالوجی ایک دوسرے سے ہمکلام ہو چکے ہیں۔ روحانی اور سائنسی جہانوں کے درمیان کی دیواریں گرچکی ہیں۔ جو
کوانٹم کیا ہے؟کوانٹم (Quantum) ایک لاطینی لفظ ہے، جس کا مطلب ہے: کتنی مقدار یا انتہائی چھوٹا ذرہ۔سائنس میں کوانٹم اس چھوٹی ترین اکائی کو کہتے ہیں جو توانائی یا مادے کی نمائندگی کرتی ہے۔یہ انتہائی چھوٹے ذرات کی دنیا
ستاروں سے لوہے تک بلقیس کے عرش سے مصنوعی ذہانت تک ڈاکٹر منصور ملکبانی مملکتِ محبت قرآن کریم الٰہی علم کا ایک لازوال کوڈقرآن کریم صرف ہدایت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ خزانہ ہے الٰہی علم کا، جو
عظیم تغیر‘جب کام مشینوں کو سونپ دیے جائیں گے ۔ہم ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہے ہیں جو پوری انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔اور سبک رفتار ہے ۔ مصنوعی ذہانت (AI)، عمومی مصنوعی ذہانت (AGI)، اور کوانٹم ٹیکنالوجی نہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: کنتم خیر امۃ خرِجت لِلناسِ ’’تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کی گئی۔’’ (سورہ آل عمران 3:110) یہ امت، جو اللہ کے آخری نبی محمد مصطفی ﷺ کے
اے آدم و حوا کے بیٹوںاور بیٹیوںتمہاری جلد کا رنگ کچھ بھی ہو، زبان کوئی بھی ہو، راستہ کوئی بھی چاہے تم مسجد میں سجدہ کرو، چرچ میں دعا مانگو، مندر یا کنیسا میں عبادت کرو،یا دل کی خاموشی میں
ہم ایک ناقابلِ واپسی عالمگیر تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ آج کے بڑھتے ہوئے تصادم، ٹوٹتی ہوئی معیشت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف بے ہنگم نہیں بلکہ ایک زوال پذیر آمرانہ نظام کی آخری لڑائی اور دھونس و دھمکیاں