Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

سورۃ العصر: وقت کی اہمیت اور انسان کی کامیابی کے اصول

ترجمہ:زمانے کی قسم! بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کیے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔ (سورِۃ العصر، آیات 1-3)
وقت: ایک امانت ‘ اللہ رب العزت نے سور ۃ العصر کی ابتدا والعصرِ یعنی زمانے کی قسم سے کی گویا وقت ایک ایسی عظیم حقیقت ہے جس پر خالقِ کائنات نے خود قسم کھا کر اس کی اہمیت کو اجاگر فرمایا۔ وقت محض گھڑی کی سوئیوں کی حرکت نہیں، بلکہ یہ انسان کی عمر کا سرمایہ، اس کی آزمائش اور اس کی ابدی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ ہے۔
مولانا رومی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:عمر یک نفس است و آن نفس نیز از خداست، اگر غافل شوی، فنا شوی.عمر تو محض ایک سانس ہے، اور وہ سانس بھی اللہ کا عطا کردہ ہے، اگر تو اس میں غفلت کرے تو ہلاک ہو جائے گا۔امام شافعی کا قول ‘امام شافعی فرماتے ہیں:اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صرف سورۃ العصر ہی نازل کی ہوتی، تو وہ انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہوتی۔یہ بات خود اس سورت کی جامعیت اور عظمت کا ثبوت ہے۔ یہ تین مختصر آیات پر مشتمل سورت انسان کے انجام اور نجات کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔
سورۃ العصر کے چار ستون: نجات کا نسخہ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کے عمومی خسارے کو بیان کرنے کے بعد چار ایسے اصولوں کی نشاندہی فرمائی جو انسان کو خسارے سے بچا کر کامیابی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ ایمان :ایمان وہ نور ہے جو انسان کے دل میں اللہ کی معرفت، اس کے رسولﷺ کی اطاعت، اور آخرت کی فکر پیدا کرتا ہے۔ بغیر ایمان کے اعمال کی کوئی وقعت نہیں۔ یہ نجات کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔نیک اعمال :ایمان کے بعد عمل صالح کا مقام ہے۔ یہ وہ اعمال ہیں جو نیت میں خالص ہوں اور طریقہ سنت کے مطابق ہو۔ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، خدمت خلق، یا والدین کی اطاعت سب اعمال اگر اللہ کی رضا کے لیے ہوں تو وہی عمل صالح کہلاتا ہے۔حق کی تلقینِ:صرف خود نیک بن جانا کافی نہیں، دین اسلام ہمیں معاشرتی شعور اور ذمہ داری کا درس بھی دیتا ہے۔ سچائی، عدل، حق پرستی، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور معاشرے میں خیر کا پیغام دینا یہ سب تواصی بالحق میں شامل ہیں۔صبر کی تلقین ِ:حق پر چلنا آسان نہیں۔ اس راہ میں مشکلات، اذیتیں، تنقید، حتی کہ قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ ایسے میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین، استقامت، اور ہمت دلانا ایک عظیم عمل ہے۔
مولانا رومی فرماتے ہیں:گر صبوری در دل آید، جان بماند در اماناگر دل میں صبر آ جائے تو جان اللہ کی امان میں آ جاتی ہے۔انسانی خسارے کی شکل قرآن کی روشنی میں، خسارہ صرف مالی یا دنیاوی ناکامی نہیں بلکہ وقت کے ضیاع، غفلت، ایمان سے دوری، اور نیک عمل نہ کرنے کی شکل میں بھی ہوتا ہے۔
اب اگر سائنسی زاویے سے وقت کا جائزہ لیں تو جدید طبیعیات (physics) ہمیں بتاتی ہے کہ وقت ایک چوتھی بعد (Fourth Dimension) ہے یعنی کائنات صرف لمبائی، چوڑائی اور اونچائی پر نہیں بلکہ وقت پر بھی قائم ہے۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق وقت ایک جامد حقیقت نہیں بلکہ ایک بہتی ہوئی، لچکدار شے ہے جو رفتار اور کششِ ثقل کے تابع بدلتی ہے۔ بلیک ہولز کے قریب وقت سست پڑ جاتا ہے اور روشنی کی رفتار کے ساتھ وقت رکنے لگتا ہے۔ یہی تصور قرآن نے کل یوم ھو فی شان میں دیا کہ خدا کی ہر لمحہ ایک نئی شان ہے۔ کوانٹم فزکس اس سے بھی آگے جا کر کہتی ہے کہ ہر لمحہ کئی ممکنہ حقیقتیں رکھتا ہے ہم جس پر توجہ دیتے ہیں، وہی ظہور میں آتی ہے۔ گویا وقت صرف گزرنے والا لمحہ نہیں بلکہ ایک تخلیقی قوت ہے۔
سچائی یہ ہے کہ دینی، روحانی، اور سائنسی زاویے مل کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وقت کو برباد کرنا درحقیقت اپنی روح، اپنی عقل اور اپنی تقدیر کو کھونا ہے۔ آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ گھنٹوں سوشل میڈیا پر صرف کرتے ہیں مگر قرآن کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکالتے۔دن بھر دنیاوی دوڑ میں لگے رہتے ہیں مگر نماز کے لیے وقت نہیں۔اپنے فائدے کے لیے جھوٹ، چغل خوری، حسد، غیبت، اور ظلم کر جاتے ہیں یہ سب خسارے کی علامتیں ہیں۔
حکمت کے موتی ‘وقت مفت ہے، مگر بے حد قیمتی۔ تم اسے روک نہیں سکتے، مگر اسے برباد بھی نہ کرو۔ایک عرب شاعر کہتا ہے ‘وقت تلوار کی مانند ہے، اگر تم نے اسے نہ کاٹا تو یہ تمہیں کاٹ ڈالے گا۔
عملی نصیحتیںدن کا آغاز فجر سے کریں اور اس کے بعد کچھ وقت قرآن و ذکر میں صرف کریں۔ ہر رات سونے سے قبل اپنے دن کا محاسبہ کریں کتنے نیک کام کیے؟ کتنا وقت ضائع کیا؟اپنے بچوں اور اہل خانہ کو وقت کی قدر سکھائیں۔ہفتے میں ایک دن صرف خدمت خلق کے لیے مختص کریں۔کم از کم ایک اچھی بات روز کسی کو ضرور بتائیں ۔
اے اللہ!ہمیں اپنے وقت کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ایمان، نیک اعمال، حق گوئی، اور صبر پر قائم رہنے والا بنا دے۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے لیے یہ دنیا بھی کامیاب ہو اور آخرت بھی۔ آمین۔
سورۃ العصر نہ صرف وقت کی قدر سکھاتی ہے، بلکہ ہمیں ایک جامع نسخہ عطا کرتی ہے کہ کامیابی کیسے حاصل کی جائے۔یہ سورت ہر انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ:اے انسان! تم خسارے میں ہو اگر تم نے اپنا وقت، اپنا ایمان، اپنا عمل، اور اپنی دعوت ضائع کر دی۔پس آو! ہم سب عہد کریں کہ ہم اس عظیم سورت کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ ہم بھی اللہ کے ان بندوں میں شامل ہوں جو دین و دنیا کے خسارے سے بچے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں