مولانا رومی کی توحید کتابی نہیں، جلتی ہوئی تجربہ شدہ آگ ہے۔ وہ نہ صرف لا الہ الا اللہ کو جانتے تھے، بلکہ اس میں جل کر فنا ہو چکے تھے۔
ان کی مثنوی میں توحید کے راز پوشیدہ نہیں، عیاں اور روشن ہیں مگر ان کی زبان عشق ورمز میں بولتی ہے، اور دل اس کو سمجھتا ہے جو ’’خود‘‘ سے خالی ہو۔
اصل توحید’ لا‘ سے آغاز‘ تا نخوانی لا و الا اللہ‘ رادر نیابی منہ، یعنی راہ را(دفتر اول، مثنوی)
ترجمہ:جب تک تو لا الہ الا اللہ کو نہ پڑھے تو راہِ حقیقت کو نہیں پا سکتا۔
رومی بتاتے ہیں کہ توحید کا دروازہ نفی سے کھلتا ہے
جب بندہ ہر جھوٹے خدا(نفس، دنیا، لذت، طاقت) کا انکار کرتا ہے، تب ہی اللہ کا اثبات ممکن ہوتا ہے۔
فنا کا دروازہ حق کی طرف سفر۔
چون بہ حق پیوست، خود را گم کند
مچو دریا قطرہ را چون گم کند؟
جب بندہ حق سے جڑ جاتا ہے، تو خود کو کھو دیتا ہے ۔جیسے سمندر میں قطرہ گم ہو جاتا ہے۔
یہی ہے فنا فی اللہ بندہ خود کو چھوڑ کر، حق کی ذات میں گم ہو جائے۔
توحید و شرک کا فرق ظاہر و باطن کی جنگ۔
شرک پوشیدہست اندر نار و نی
خود نبی فرمود، شرک است از خفی
شرک چھپا ہوتا ہے آگ اور بانسری میں،خود نبی ﷺ نے فرمایا: چھپا ہوا شرک بہت نازک ہوتا ہے۔
رومی تنبیہ کرتے ہیں کہ دل میں انا، میں، میری کا خفیہ تصور بھی شرک ہے ۔اصل توحید میں ’’خود‘‘ کا کوئی حصہ باقی نہیں۔
توحید کے دریا میں ڈوبنے والا۔
در توحید از من و ما فارغ است
آنکہ در توحید غرق است، یکدل است
توحید والا میں اور تو سے پاک ہو جاتا ہے،
جو توحید میں ڈوبا ہو، اس کا دل ایک ہی رخ پر ہوتا ہے۔
رومی واضح کرتے ہیں کہ توحید ایک مرکز ہے اس میں دوئی نہیں،
خاموش باش! کہ توحید، در دل است
نہ در گفتار و نہ در فعل و عمل است
خاموش ہو جا! کیونکہ توحید دل سے تصدیق ہوتی ہے جبہ زبان اعلان اقرار رت ہے
توحید کوئی فلسفہ نہیں یہ دل کی آنکھ کا دیدار
ہمہ اوست، او ہمہ است، غیر او ہیچ نیست
تو اگر این دیدہا، پردہ در پیش کیست؟
ہر شے وہی ہے، وہی سب کچھ ہے، اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ نہ کوئی شریک بس حقیقت ازل خداے لا شریک ہے۔
رومی کا اعلان ہیک ہ ہر طرف ایک ہی جلوہ ہے۔اور وہ خداے لا شریک کا ہے ۔
عشقِ توحید اللہ کے لئے مخلص اور خالص ہو کر سجدہ کرنا۔
ہر کہ بیحق سجدہ آرد کافر است
سجدہاش بر خاک، جسمش بر ہوس است
جو بغیر حق کے سجدہ کرے وہ کافر ہے،
اس کا سجدہ خاک پر نہیں، بلکہ خواہش پر ہے۔
رومی توحید کے سجدے کو صرف اللہ کے لیے مخصوص کرتے ہیں اگر سجدہ نفس، دولت، یا کسی اور لالچ پر ہو تو وہ شرک ہے۔
عشق ہی اصل دین ہے اور عشق حقیق کا مستحق فقط خدا واحد ہے۔
عشق آمد و شد چون بباد اندر جہان
در نیابد عشق را، الا خدا عشق خدا میں محو ہو ر ہ مقام عبدیت پر پہنچا جاسکتا ہے
توحید امل تب ہے جب بندہ خود کو ہوا کی طرح بنا دے بے نام، بے نشان، مگر عبد اللہ
مولانا رومی کی توحید لفظوں سے آزاد ہے، تصویر سے پاک ہے،
یہ وہ توحید ہے جو دل کی آگ میں پک کر حاصل ہوتی ہے۔
توحید ایک لفظ نہیں یہ خود کو مٹا کر، صرف وہ بن جانے کا راز ہیلا ش موجود الا اللہ۔ (رومی)