Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

نوجوان ڈاکٹروں کے مسائل

ہمیں یاد ہے بچپن میں اکثر بڑے ہم سے یہ سوال کرتے تھے کہ بڑے ہوکر کیا بنو گے؟ جواب تقریباً ہر بچے کا ایک ہی ہوتا تھا کہ ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا وکیل،باقی شعبوں میں تو نوجوانوں کی خواہشیں پوری ہوچکی ہیں مزید خواہش کی گنجائش باقی نہیں۔ مگر ڈاکٹر بننے کی خواہش اب بھی ہر طالبعلم کے دل میں مچلتی رہتی ہے۔ بے شمار نئی نجی یونیورسٹیوں کے قیام کے باعث انجینئرنگ کے شعبے میں میرٹ انتہائی کم سطح پر چلاگیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ اب ہر ایک نوجوان کے ہاتھ میں انجینئرنگ کی ڈگری ہے مگر نوکری نہیں۔ انجینئرز پچاس ساٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر نوکریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ میرٹ کے لحاظ سے میڈیکل کا شعبہ مشکل ترین بن چکا ہے۔ خواہش ہر نوجوان کی ڈاکٹر بننے کی ہے مگر میرٹ ناقابل یقین حد تک اوپرچلا گیا ہے۔ گوکہ میڈیکل کے شعبے میں بھی نجی کالجز، یونیورسٹیوں کی بھرمار ہے مگر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی سخت نگرانی کے باعث میرٹ پر بہت کم کمپرومائز کیا جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ نجی میڈیکل کالجز میں داخلہ لینا ہر ایک کے بس میں نہیں۔ اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ فقط مالی لحاظ سے مستحکم خاندان کے بچوں کے لئے پرائیویٹ کالجز میں اچھے نمبروں کے ساتھ داخلہ ممکن ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس سرکاری میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے فیس تو معمولی ہے مگر طالبعلم کا غیر معمولی ذہانت کا حامل ہونا ضروری ہے۔ محنت سے جی چرانے اور اوسط ذہانت کے بچوں کے لئے پبلک کالجز میں داخلہ تقریباً ناممکن ہے۔
نتیجتاً یہی کہا جاسکتا ہے کہ میڈیکل کے شعبے میں زیر تعلیم نوجوان معاشرے کے منتخب شدہ نوجوانوں میں سے چند ہوتے ہیں۔ ان کی ذہانت کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہوتی ہے اور پھر ڈاکٹر کی ڈگری کے حصول سے قبل پانچ سال کا عرصہ ان پر بہت بھاری ہوتاہے۔ بھاری بھر کم کتابوں کو حفظ کرنا صرف ڈ اکٹر ہی ایسا کرسکتے ہیں۔ ہمارے خاندان میں کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں ڈاکٹرز ہیں۔ خود میرا بیٹا آخری سال میڈیکل کا سٹوڈنٹ ہے۔ مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یقین مانیے مجھے ان پر حقیقت میں ترس آتا ہے۔ دن رات پڑھائی میں غرق ہونے کے باوجود سالانہ امتحان میں فیل ہونے کا دھڑکا لگارہتا ہے۔ سالانہ امتحان جسے عرف عام میں پراف (پروفیشنل کو اختصار سے پکارنا) کہتے ہیں اس میں محض پاس ہونا بہت بڑی کامیابی تصور ہوتی ہے۔ پانچ سالوں تک مسلسل رگڑا کھانے اور عرق ریزی کے بعد جب ڈگری ملتی ہے اور اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹرکا اضافہ سجالیتے ہیں تو ان نوجوانوں کو یقیناًخوشی تو ہوتی ہوگی اور والدین بہن بھائیوں کے لئے باعث فخر بھی ہوتے ہیں مگر بعد میں ان ڈاکٹرز کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے و ہ انتہائی غیر مناسب ہے۔
ڈگری کےحصول کےبعد پہلا سال ہائوس جاب جس میں یہ نوجوان ڈاکٹرز انتہائی معمولی مشاہرے پر24 گھنٹے ہسپتال میں ڈیوٹی دیتے ہیں۔ اعتراض ان کے 24گھنٹے کام کرنے پر نہیں وہ تو انہیں عملی زندگی میں قدم رکھنے کے لئے تربیت دینے کا حصہ بلکہ قابل اعتراض بات انہیں ماہانہ دیئے جانے والا معمولی وظیفہ ہے۔ ایک سال گزارنے کے بعد ڈاکٹروں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روزگار کے مواقع موجود نہیں۔ معاشرے کا سب سے زیادہ ذہین طبقہ حالات کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بھرتیاں کئی کئی سال نہیں ہوتیں حالانکہ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی تعداد کم ہے۔ دور دراز کے دیہاتوں میں بنیادی مراکز صحت کو نرسز یا ڈسپنرز چلا رہے ہوتے ہیں۔ بڑے شہروں کے بڑے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے ڈاکٹرز بہت کم ہوتے ہیں۔ روزانہ سینکڑوں مریضوں کو صرف ایک ڈاکٹر چیک کر رہا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایک ڈاکٹر کس حد تک مریضوں کی دیکھا بھال کرسکتاہے اور اگر کسی غفلت کی بناء پر مریض کو کچھ ہو جائے تو ملبہ سارا ڈاکٹر کے سر آن پڑتا ہےحالانکہ یہ نہیں دیکھتے کہ اگر ایک ڈاکٹر سے پورا دن ڈیوٹی لیں گے تو وہ کیا معیار دے پائے گا۔ ڈاکٹرز میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری تشویشناک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظرنئے ہسپتال تعمیر کرے اور مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے ڈاکٹروں کی بھرتی کرے۔
تنخواہوں کے معاملے پر بھی ڈاکٹروں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اول تو ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لئے جاب نہیں اور اگر خوش قسمتی سے ڈاکٹرز کو جاب مل جائے تو ماہانہ تنخواہ محض ایک لاکھ روپے جو کہ انتہائی ناانصافی ہے۔ مقابلے کا امتحان پاس کرکے ایک افسر لاتعداد مراعات کاحق دار قرار پاتا ہے مگر محنتوں اور مشقتوں سے بننے والا ڈاکٹر دن رات مریضوں کے ساتھ سر کھپاتا ہے۔ انسانی جانوں کو بچاتا ہے مگر معاوضہ انتہائی قلیل، سراسر ناانصافی ہے اور اگر ڈاکٹرز احتجاج کریں تو ہم قصور وار بھی انہیں سمجھتے ہیں ۔ حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھنا چاہیے تاکہ ڈاکٹرز مخلص ہوکر پیشہ ورانہ فرائض کو انجام دےسکیں۔ دوسری طرف بے روزگار ڈاکٹرزنجی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں انہیں50 سے 60 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے ان نوجوانوں کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈ اکٹرز اپنے پیشے کو چھوڑ کر مقابلے کا امتحان پاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں ملک کی بیورو کریسی میں سروے کریں تو معلوم ہوگا کہ ان بیورو کریٹس میں بہت بڑی تعداد ڈاکٹرز کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہتا۔ نوجوان ڈاکٹرز کی قابل لحاظ تعداد بیرون ممالک کی جانب رخ کرتے ہیں مگر باہر ملکوں میں جانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ بالخصوص امریکہ اور برطانیہ جانے کے لئے امتحانات کے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
اگر اپنے ملک میں ان نوجوانوں کیلئے بہتر مواقع پیدا کر دیئے جائیں تو برین ڈرین سے بچا جاسکتا ہے۔ کئی پاکستانی ڈاکٹرز ایسے ہیں جنہوں نے دوسرے ممالک میں اپنا نام پیدا کیا ہے۔ دیگر ممالک ان پاکستانی ڈاکٹروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ ہم اس طبقے کو مطلوبہ سہولتیں اور مواقع نہ دے کرخود ہی برین ڈرین کا سبب بن رہے ہیں۔ ان نوجوان ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے حل کرنا نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا حالات کا تقاضا ہے۔

یہ بھی پڑھیں