Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ایرانی صدر کی آمد اوربلاول کے ارسطو!

ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی ، پیر کے روز اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے،پاکستان میں ان کا قیام تین روز رہا۔اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط بھی ہوئے، خاتون اول، وزیر خارجہ،کابینہ کے دیگر ارکان اور صنعت و تجارت سے تعلق رکھنے والی ایرانی سرکردہ شخصیات وفد میں شامل تھیں،صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے علاہ دیگر بہت سوں سے ان کی ملاقاتیں بھی ہوئیں، ایرانی مہمان لاہور اور کراچی بھی گے جہاں مزار قائد پر حاضری اور گورنروں اور وزرائے اعلیٰ سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ کراچی میں منگل کے روز ایرانی صدر کی آمد کے سلسلے میں عام تعطیل تھی۔ اہلیان کراچی، ابھی تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ایران کے صدر محترم کی کراچی آمد کے موقع پر کراچی میں چھٹی کیوں کی گئی؟ کراچی کے سکولوں میں بچوں کے سالانہ امتحانات کا سلسلہ شروع ہے،ایرانی صدر کی آمد کے دن سندھ حکومت نے چھٹی کا اعلان کرکے لاکھوں بچوں پر تعلیمی اداروں کے ایک دن کے لیے جو دروازے بند کئے تو کیوں؟نجانے حکومت میں وہ کون سے ’’ارسطو‘‘ہیں کہ جو ایسے موقعوں پر اس قسم کے چالو فیصلے کر کے عوام کی مصیبتوں میں مزید اضافے کا سبب بنتے ہیں۔اخباری خبر کے مطابق کراچی میں ایرانی صدر کی آمد کے موقع پر شارع فیصل سمیت اہم شاہراہوں کی بندش اور ناقص سیکورٹی پولیس پلان نے شہر کراچی کے بڑے حصے کی زندگی کو مفلوج کئے رکھا، کراچی کے عوام بلاول کے ’’ارسطووں‘‘سے پوچھتے ہیں کہ تم غیروں کو راضی کرنے کے لئے کب تک اپنے عوام کی پشت پر کوڑے برساتے رہو گے؟ایک دوسری خبر کے مطابق ایرانی معزز مہمانوں کی کراچی آمد والے دن کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند کرنے کی وجہ سے کراچی سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافر سڑکوں پر ہی رل گئے ،اندرون اور بیرون ملک 15 پروازیں منسوخ کر دی گئیں،میری غلام حکومتی ’’ارسطووں‘‘کی بجائے اسلام آباد میں موجود ایران کے سفیر محترم سے گزارش ہے کہ وہ ان ارسطووں سے پوچھیں کہ ایران کے صدر کی آمد اگر خوشی کا موقعہ تھا، تو پھر کراچی کے عوام کے لئے اس موقعہ کو غمی میں تبدیل کرنے کی سازش کس کی تھی؟
پاک ایران دوستی ،دشمنی اور منافقتوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا اور لکھا جاتا رہے گا،پاکستان میں بسنے والی اکثریتی اہلسنت عوام کے ذہنوں کے اندر ایران یا ایرانی انقلاب کے حوالے سے جو تحفظات اور اشکالات پاے جاتے ہیں وہ بھی اپنی جگہ موجود رہیں گے،لیکن سر دست پاک ایران تعاون،دوستی اور کاروبار کی جن یاد داشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں انہیں سراہا جانا ضروری ہے ،خبروں کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے درمیان وزیراعظم ہاوس میں ملاقات ہوئی دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار پر تبادلہ خیال کیا اور اہم علاقائی اور عالمی پیشرفت پر بات چیت کی ۔ فریقین نے اگلے پانچ سالوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالرز تک بڑھانے اوردہشت گردی کے خطرے سمیت مشترکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے سات ماہ سے زائد عرصے سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لئے بین الاقوامی کوششوں اور محاصرہ ختم کرنے پر زور دیا اور غزہ کے محصور عوام کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کی اپیل کا اعادہ کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان اور ایران کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے شہباز شریف نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران، پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے، ہماری سرحدوں پر ترقی و خوشحالی کے مینار قائم ہوں اور انہیں کاروبار، خوشحالی اور نظر آتی ترقی میں تبدیل کریں، آج کا دن یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ اس ہمسائیگی اور اپنی دوستی کو ترقی و خوشحالی کے سمندر میں بدل دیں۔ صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین ہمارے لئے قابل احترام ہے پاکستان کے عوام اور حکومت کو ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلامی اقدار کے لئے جدوجہد کی اور ہمیشہ فلسطین و غزہ کے عوام کے حقوق کی حمایت کی۔پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے حق اور انصاف کے لئے آواز بلند کی ہے عالمی طاقتوں کو غزہ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ امریکہ برطانیہ اور دوسرے متعدد یورپی ملک فلسطینیوں کی نسل کشی کے لئے اسرائیل کو اربوں ڈالرز کے ہتھیار اور دیگر سازو سامان مہیا کر رہے ہیں۔ غزہ کے نہتے فلسطینی اسلامی امہ کی طرف دیکھتے دیکھتے مایوس ہو گئے ہیں۔یہودو نصاری کی اتحادی قوت کا مقابلہ اکیلا ملک نہیں کر سکتا اتحاد بین المسلمین فلسفے کو اپنانا ہو گا ۔ان کا مسلم امہ کے لئے پیغام ہے اتحاد بین المسلمین اس پیغام سے پیر کو وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے بھی اتفاق کیا۔ شام میں اپنے قونصل خانے پر حملے کا جواب دے دیا ۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ایوان صدر میں صدر آصف زرداری کی طرف سے دیئے عشایئے میں شرکت کے بعد ایوان سہروردی پر واقع فائیو سٹار ہوٹل میں کم و بیش ایک ہزار بزنس مینوں دانشوروں علمائے کرام اور ہر شعبہ زندگی کے نمایاں افراد سے خطاب کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں