Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

زرعی پیداوار میں خودکفیل کیسے ہوسکتے ہیں؟

حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب زراعت کا شعبہ ہمیشہ متاثر رہا۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہاں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم محض چند سالوں کے لئے ہی سہی خوراک میں خودکفیل ہوئے ہوں۔ ایک سال گندم کی بمپر فصل ہوتی ہے پھر حکومتی پالیسیوں کے باعث اگلے سال ہم گندم دوسرے ممالک سے درآمد کررہے ہوتے ہیں۔ پالیسیوں میں نہ تو تسلسل ہے اور نہ ہی استحکام۔ پالیسی صرف اسی سال کے لئے بنائی جاتی ہے آئندہ آنے والے سالوں میں کیا ہوگا؟ دیکھا جائے گا۔ کیا ملک ایسے چل پاتے ہیں؟ نہیں‘ پھر نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ وہی جو ہم بھگت رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے؟ ز رعی زمین‘ پانی‘ موسم‘ محنت کش‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر نعمت سے وافر نوازا ہوا ہے۔ مگر ہمارے حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت کامل عطا فرمائے اتنے نااہل ہیں یا پھر ملک اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم کھانے پینے کی اشیاء بھی قیمتی زرمبادلہ ضائع کرکے باہر سے منگوا رہے ہوتے؟ چند ارب ڈالر کا قرضہ آئی ایم ایف سے لینے کے لئے پورے ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ عوام کی ایسی تیسی پھر گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا گیا ہے۔ خودکشیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خاندانی تعلقات شدید تر ہوچکے ہیں۔ طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برین ڈرین ہو رہا ہے۔ قابل اور باصلاحیت افراد ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔
دالیں‘ گندم‘ چائے‘ زیتون اور اس طرح کی دیگر زرعی اشیاء امپورٹ کرنے میں ہم سالانہ اربوں ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی ایسی مخلص حکومت برسر اقتدار نہیں آئی جو سنجیدہ ہوکر زرعی درآمدات کو کم سے کم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرتی۔ سالہاسال سے حکومت کرنے والے خاندان اگر پہلے دن سے اس پر عمل کرتے تو آج زرعی اجناس برآمد کرکے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہوتے اور آج ملک کی معاشی صورتحال بھی یکسر مختلف ہوتی۔ عوام خوشحال ہوتی ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط ہوتا۔ دنیا ہمیں بھکاری نہ سمجھتی‘ ہمارے حکمرانوں کی حقیقی معنوں میں عزت و تکریم ہوتی۔ مگر افسوس کہ آج تک ایسا نہیں ہوسکا۔ اس سے زیادہ افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران اس طرف ابھی تک متوجہ بھی ہوئے۔ ہمیں ایسے بے مقصد امور میں اربوں روپے لٹانے کا شوق ہے جس میں ظاہری طور پر ہماری واہ واہ اور تعریف ہو۔ دنیا کے بعض چھوٹے چھوٹے ملک ہیں جو زراعت کی کسی ایک پیدوار میں نام کماکر پورا ملک چلا رہے ہیں۔
مثلاً چھوٹا سا ملک ہے مگر پھول برآمد کرکے پورا ملک چلا جارہا ہے۔ یعنی پھول کی پیداوار کی برآمدات ہر چیز پر بھاری ہے۔ دوسری طرف پاکستان جیسا بدقسمت ملک ہے کہ ہر چیز وافر ہوسکتی ہے قدرت نے بے پناہ وسائل مہیا فرمائے ہیں مگر کوئی ایک بھی اس طرف متوجہ نہیں۔ پھل‘ پیاز‘ لہسن‘ ادراک‘ تمباکو‘ چائے‘ دالیں ہر ایک چیز ہم درآمد کررہے ہیں۔ تمباکو اور چائے کے لئے خیبرپختونخواہ اور شمالی علاقہ جات کی وافر زمین موجود ہے۔ قدر ت نے اس سرزمین اور اس پر بسنے والوں پر مہربانوں کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ عوام تو ان حکمرانوں کو مجبور کر نہیں سکتے۔ ان کی اپنی ترجیحات ہیں حالانکہ حالات ان کے سامنے ہیں وہ ان سے بخوبی آگاہ ہوں گے۔ لیکن اگر پھر بھی ایسا نہیں کررہے تو کیا کہہ سکتے ہیں؟ معلوم نہیں انہیں کن مجبوریوں نے جکڑا ہوا ہے۔
ایک چھوٹی سی مثال لے لیں زیتون کے تیل کی۔ ہم سالانہ اربوں روپے درآمدگی پر خرچ کرتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں زیتون استعمال کرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ اس وجہ سے حکومت ترکی اور اسپین یا یورپ کے دیگر ممالک سے امپورٹ کرتی ہے۔ گزشہ چند سالوں سے پوٹھوار کے علاقے راولپنڈی‘ چکوال کے علاقوں میں وسیع رقبے پر زیتون کی کاشت کی گئی ہے۔ ابتداء میں کاشتکاروں کو اس طرف راغب کرنے کے لئے حکومت کی طر ف سے دلکش مراعات دی گئیں۔ مثلاً مفت پودوں کی فراہمی‘ مفت معلومات اور تربیتی پروگرام وغیرہ وغیرہ‘ کافی کاشتکار اس طرف توجہ ہوئے۔ اب الحمد للہ وہ زیتون کے پودے جوان ہوچکے ہیں اور ان کی پیداوار شروع ہوچکی ہے بلکہ راولپنڈی اور چکوال کے علاقوں میں زیتون کا تیل بھی نکالا جارہا ہے اور اب درآمد شدہ زیتون کے تیل کے مقابلے میں مقامی تیل زیادہ قابل اعتماد اور نسبتاً سستا بھی ہے اور اگر حکومت ان کاشتکاروں کی سرپرستی کرتی رہی تو آئندہ چند سالوں میں زیتون کا تیل درآمد کرنے پر خرچ ہونے والے اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ یعنی اگر حکومت چاہے تو ہم زرعی اجناس میں خودکفیل ہوسکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم ان قیمتی اجناس کو برآمد کرکے ملک پر قرضوں کا بوجھ بھی ہلکا کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حکمرانوں کو اس اہم معاملے کی طرف متوجہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

یہ بھی پڑھیں