وطن عزیز میں ہر حادثے کے بعد ایک انکوائری کمیٹی بٹھا دی جاتی ہے۔ رپورٹ پیش کرنے کے لئے اس کمیٹی کو ایک مخصوص مدت مثلاً ایک ماہ‘ تین یا چھ ماہ وغیرہ دے دی جاتی ہے۔ جس میں اس کمیٹی نے اپنی فائنڈنگز بتانا ہوتی ہے یعنی یہ حادثہ کیسے ہوا؟ اس میں کتنا نقصان ہوا اور ذمہ داران کا تعین بھی کر دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں عہدیدار‘ وزیر یا کوئی اور ملوث ہے اور پھر کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ آج تک کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بھی حادثے کے ذمہ داران کو سزا ہوئی ہو‘ چاہے وہ حادثہ انسانی جانوں کے ضیاع کا ہو یا عوامی سرمایہ لوٹنے کا ہو۔ سانحہ‘ حادثہ یا واقعہ میں ملوث افراد کو معمولی یا غیر معمولی سزا نہیں ملی۔ ہمارے ملک میں1971 ء سے بڑا سانحہ کوئی اور نہیں کہ جب ملک کا ایک بڑا حصہ علیحدہ کر دیاگیا ہو اور اتنے بڑے سانحے پر اہم کمیٹی بھی تشکیل دی گئی اس کمیٹی یا کمیشن نے تفتیش و تحقیق کے بعد ایک جامع رپورٹ تیار کی۔ جس میں تمام کرداروں پر نمایاں انداز میں بحث کی گئی اور ذمہ داران کی واضح طور پر نشاندہی کی گئی مگر کیا ان ذمہ داران میں سے کسی ایک کو نشان عبرت بنایا گیا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ یہی حال ہمارے ملک میں بننے والے ہر کمیشن اور کمیٹی کا ہوا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے ذمہ داران کا طاقتور اور بااثر ہونا اور ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ان سانحات اور واقعات کے ذمہ داران خود ہی انکوائری کمیٹیاں اور کمیشن بناتے ہیں‘ رپورٹس مرتب کرتے ہیں اور ان رپورٹوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔زیادہ دور نہ جائیں گندم سیکنڈل کو ہی لے لیں۔ یہ بااثر لوگ اربوں روپے کی ایسے کرپشن کرتے ہیں کہ گویا ایک معمولی رقم ہے۔ اربوں کھاکر ڈکار بھی نہیں لیتے۔
330 ارب روپے کی کرپشن گویا عام سی بات ہے۔ ایک ارب روپے میں ایک سو کروڑ روپے ہوتے ہیں اور ایک کروڑ میں ایک سو لاکھ روپے ہوتے ہیں۔ آپ ایک لاکھ روپے کی قدر و قیمت غریب آدمی سے پوچھیں اور اگر تین سو ارب روپے سے بھی زائد رقم ہو تو اس کی کیا قیمت ہوگی۔ ہم نے آئی ایم ایف سے ایک ڈیڑھ ارب ڈالر ادھار کے لئے پورے ملک کو گروی رکھ چھوڑا ہے جبکہ ہم نے اپنے پیٹ کے اندھے کنوئوں کو بھرنے کے لئے قیمتی زرمبادلہ سوا ارب ڈالر باہر بھیج دیئے ہیں۔ چند افراد کی حرام خوری کی وجہ سے پورے ملک میں بحران آچکا ہے ۔ بے چارے کسان سڑکوں پر ہیں۔ ان کے خواب بکھر چکے ہیں۔ قومی خزانے کو330 ارب روپے کا ٹیکہ لگ چکا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ اس سیکنڈل میں ملوث کرداروں کے چہروں کے تاثر سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ گندم کی سرکاری قیمت فی من انتالیس روپے مقرر ہوئی ہے۔ مگر درآمد شدہ گندم کی وجہ سے حکومت بالخصوص پنجاب حکومت کسانوں سے گندم خریدنے کے موڈ میں نہیں۔ کسانوں کا یہ ہوتا ہے کہ وہ بوائی کے وقت جیب میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ادھار لینے پر مجبور ہوتا ہے اب گندم کی فروخت کرکے ادھار چکانے کا وقت ہے۔ مگر کسان کلو آڑھتیوں کو اپنی گندم بیجنے پر مجبور ہے۔ آڑھتی کسانوں کی مجبوریوں کا ناجائزہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جو گندم39 سو روپے فی من فروخت ہونا تھی وہ گندم اب تین ہزار اور پچیس سو روپے فی من فروخت ہو رہی ہے۔ ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے فی من نقصان کسان کیسے برداشت کرسکتا ہے۔
دکھ ہوتا ہے جب یہ سنتے ہیں کہ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے یہ عوام کے خادم اتنا ظالم اور بے رحم ہیں۔ سرکاری گوداموں میں 46 لاکھ ٹن گندم موجود تھی جو کہ ملکی ضرورت پورا کرنے کے لئے کافی تھی۔ مگر اکتوبر2023 ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ یوکرین سے گندم امپورٹ کی جائے۔ اکتیس سو روپے فی من کے حساب سے اب تک 34 لاکھ ٹن گندم منگوائی جاچکی ہے۔ جبکہ گندم پینتالیس سو روپے فی من فروخت کی گئی۔
اس طرح چند ماہ کے دوران پچاسی ارب روپے کا منافع کمایا گیا۔ قومی خزانے کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ۔ پھر اس میں سے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ان بااثر لوگوں نے پچاسی ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا۔ حالانکہ سرکاری ریٹ تین ہزار نوسو روپے فی من تھا مگر نگران حکومت نے جان بوجھ کر46 سو روپے فی من مقرر کر دی اور ذرائع کے مطابق فلور ملوں کو کہا گیا کہ یوکرین سے منگوائی گئی سستی گندم خرید کر مارکیٹ میں زیادہ نرخوں پر آٹا فروخت کیا۔ عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔ یعنی چند کرداروں کی وجہ سے پورا ملک متاثر ہوا اور اس کے اثرات کئی سالوں تک رہیں گے۔
اب آئندہ سال کسان کی کوشش ہوگی کہ گندم کی بجائے دیگر نقد آور فصل کاشت کرلی جائے اور اس سے شدید اندیشہ ہے کہ اگلے سال گندم کی فصل کسانوں کی عدم دلچسپی کے باعث ضرورت سے کم ہوگی اور پھر حکومت قیمتی زرمبادلہ کے عوض باہر سے گندم درآمد کرنے پر مجبور ہوگی اورپھر ان لوگوں کے وارے نیارے۔ اب کسان احتجاج کررہے ہیں مگر ان کے احتجاج کا حکومت پر ذرہ برابر اثر نہیں ہو رہا حالانکہ پنجاب حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کسانوں کی اشک شوئی کرتی۔ اگر خود نہیں خرید سکتی جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ گوداموں میں مزید گنجائش نہیں ہے تو پھر ایسا انتظام کیا جاناچاہیے کہ جس سے کسانوں کی مشکلات کا مداوا ہوسکے۔