Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

محافظ ختم نبوت و ناموس رسالت پیر عزیز الرحمن ہزاروی

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت جی ہزاروی ؒاگر اپنی کسی مجلس میں داڑھی مونڈوں کو دیکھتے تو انہیں بہت تکلیف ہوتی تھی۔اس لئے کہ داڑھی رکھنا سنت رسول ﷺ ہے وہ اکثر اجتماعات میں داڑھی مونڈوں سے آئندہ داڑھی نہ مونڈنے کا عہد لیا کرتے تھے۔پھر اگر دوبارہ کبھی وہ اسی جگہ اجتماع میں تشریف لاتے تو وہ پوچھا کرتے تھے کہ کس کس نے اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے دوبارہ داڑھی نہیں منڈوائی؟جب کوئی ایسا شخص مجمعے میں کھڑا ہوتا تو وہ اسے اپنے پاس بلاکر اس کے چہرے کو چوما کرتے تھے۔وہ اس بات کو بھی پسند نہیں فرماتے تھے کہ ان کی مسجد میں خاص طور پر پہلی صف میں کوئی ایسا شخص کھڑا ہو،جو داڑھی منڈا ہو یا جس کا لباس شریعت کے خلاف ہو۔بعض اوقات اگر کوئی ایسا شخص پہلی صف میں کھڑا ہو جاتا اور امامت کے لئے مصلے پر آتے ہوئے حضرت جی ؒ کی نظر اس پر پڑھ جاتی تو وہ سخت ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔ان کے اس عمل کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ مرکز حق و صداقت جامع مسجد صدیق اکبر الہ آباد کے اکثر نمازی داڑھی والے ہیں۔حضرت جی ہزاروی ؒ کی زندگی میں پھر شائد ہی کوئی ایسا نمازی مسجد صدیق اکبر میں نظر آتا ہو جو بغیر داڑھی کے ہو۔
حضرت جی ہزاروی ؒکی زندگی میں جب کبھی بھی ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت ﷺ پر کوئی حملہ ہوا تو سب سے پہلے میدان عمل میں وہ ہی نظر آتے تھے۔ڈنمارک،ہالینڈ،فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا معاملہ ہو یا سابق گورنر پنجاب ملعون سلمان تاثیر کی جانب سے توہین رسالت کے ارتکاب کا معاملہ۔غازی ممتاز قادری شہید کا معاملہ ہو یا پھر ملعونہ آسیہ مسیح کی سپریم کورٹ کی جانب سے بریت کا معاملہ، کرونا کی وبا کے موقع پر حکومت کی طرف سے مساجدو مدارس کو زبردستی بند کروانے کے خلاف مزاحمت کا معاملہ ہو، یا میرا جسم میری مرضی کا بدترین فتنہ،آپ ہر تحریک کے روح رواں اور ہر فتنے کے خلاف برسرپیکار رہے، ان کا ہی یہ فیض ہے کہ آج بھی تحفظ ختم نبوت ﷺ اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے محاذ پر ان سے تعلق و نسبت رکھنے والے عملا ڈٹے ہوئے ہیں۔حضرت جی ہزارویؒ نے ساری زندگی صدائے حق ہی بلند کی۔حالات جیسے کیسے بھی کیوں نہ ہوں،کبھی بھی انہوں نے حق و صداقت کے پرچم کو سرنگوں ہونے نہیں دیا۔وہ ہمیشہ ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حمایتی رہے۔انہوں نے رسوا کن ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے ہر ظلم کے خلاف بھی بھرپور آواز بلند کی۔نائن الیون کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننے کے متعلق پرویز مشرف کے بدترین فیصلے کی بھی انہوں نے بھرپور مخالفت کی۔وہ روز اول سے افغان طالبان بالخصوص جہاد افغانستان کے اعلانیہ حامی تھے۔اس کے علاوہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جب وانا وزیرستان آپریشن کیا گیا۔لال مسجد و جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کیا گیا تو اس کے خلاف بھی انہوں نے بھرپور صدائے اجتجاج بلند کی۔حضرت جی ہزاروی ؒکا دل وطن عزیز پاکستان کی محبت سے بھی سرشار تھا۔وطن عزیز سے ان کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ ’’یہ ملک ہمارا ہے۔الحمدللہ اس ملک کو ہمارے اکابرین نے بنایا۔ہمارے اکابرین نے انگریز کو شکست دے کر اس وطن کو حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔میں نوجوانوں سے بھی کہتا ہوں کہ غصے میں آکر کبھی اس ملک کی کمزوری کا مت سوچنا۔ہمارے حکمرانوں کو ہم پر ظلم کرنے دو، کرنے دو زیادتی۔مگر آپ کبھی حق سے مت ہٹنا۔اس ملک میں الحمدللہ تبلیغ کا مرکز ہے۔اس ملک میں الحمدللہ جہاد کے جذبات ہیں۔اس ملک میں اللہ کے فضل سے خانقاہیں ہیں۔اس ملک میں سب سے زیادہ مدارس ہیں۔ہم نے اس ملک کو مضبوط کرنا ہے۔اسے دہشت گردی سے بچانا ہے۔یہ ملک بہت قیمتی اثاثہ ہے۔ اس لئے پاکستان سے ہمیں پیار کرنا ہے۔اس میں اسلام کو لانا ہے۔اس کے لئے محنت کرنی ہے۔پاکستان اسلام کا قلعہ اور رحمت ہے۔اللہ تعالی اس ملک کو قیامت کی صبح تک سلامت رکھے‘‘۔
حضرت جی ہزاروی ؒکی رحلت کو چار برس گزر چکے۔مگر ان کا فیض پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بھی جاری و ساری ہے۔انہیں کے فیض سے آج بھی ملک کے طول و عرض میں خانقاہیں آباد ہیں۔ذکر اللہ کی مجالس اور درود شریف کی محفلیں آباد ہیں۔ان کے جانشین قاری عتیق الرحمن عزیز،اپنے برادران اور چچائوں کے ساتھ مل کر اپنے سربلند بابا کے عظیم روحانی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے حضرت جی ہزاروی ؒکے خانقاہوں اور مراکز کو آباد رکھا ہوا ہے۔اللہ تعالی حضرت جی ہزاروی ؒکی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔انہیں ہماری طرف سے بہترین جزائے خیر عطا فرمائے،آمین۔

یہ بھی پڑھیں