پاکستان کی پاکباز بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جن مکروہ کردار پاکستانیوں نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا۔انہیں کبھی اپنی اس مکروہ کردار ی پر شرمندگی بھی محسوس ہوتی ہو گی؟ ڈاکٹر عافیہ کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے والا امریکہ اور اسکے ہمنوا ’’انسانیت‘‘ پر بوجھ کے مترادف ہیں،یہی وجہ ہے کہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی بے گناہی کے باعث ان کی رہائی اور وطن واپسی کی جدوجہد پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کے انصاف اور انسانیت کے علمبرداروں کی جانب سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں فرینڈز آف عافیہ صدیقی کی جانب سے ایک دستاویزی فلم عافیہ صدیقی کی سچی کہانی کے نام سے بنائی گئی ہے۔
اس دستاویزی فلم میں گلوبل عافیہ موومنٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اپنی بہن اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی نجی زندگی کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی ہے اور کئی تصاویربھی شیئر کی ہیں۔ 1995ء میں، اس کی شادی ڈاکٹر امجد خان سے فون پر ہوئی، یہ مکمل طور پر ایک ارینج میرج تھی۔1996ء میں اپنے بیٹے کی پیدائش کے فوراً بعد، اس کے دوستوں اور خاندان والوں نے دیکھا کہ ہمیشہ خوش و خرم رہنے والی، زندگی سے بھرپور عافیہ خاموش رہنے لگی تھی۔ اس کے چہرے پر اداسی کے آثار نمایاں، ںساتھ ہی جسم پر تشدد کے نشانات بھی نظر آنے لگے تھے وہ اپنی ازدواجی زندگی کو چلاتے رہنے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی تھی۔اس کی بیٹی کے وقت حاملہ ہونے کے دوران حالات مزید بگڑ گئے۔ اس نے ملک کے بچوں کے لئے ایک اسلامی سکول بنانے کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ عافیہ کو علم حاصل کرنے اور تعلیم کو عام کرنے کا جنون تھا ،اس کا خواب تھا کہ وہ ایک ایسا تعلیمی نظام بنائے، ایک ایسا ادارہ شروع کرے جہاں بچے صرف لکھنا پڑھنا ہی نہ سیکھیں بلکہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ڈاکٹر فوزیہ کے علاوہ اس دستاویزی فلم میں معروف برطانوی صحافی ایوون ریڈلے، انسانی حقوق کے نامور وکیل کلائیو اسٹفورڈ اسمتھ، انسانی حقوق کے معروف امریکی رہنما موری سلاخن، فرینڈز آف عافیہ صدیقی برطانیہ کی رہنما مس زیناجبکہ پاکستان سے فرینڈز آف عافیہ صدیقی کی رہنما ام محمد اور حنازبیری نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔کلائیو اسٹفورڈ اسمتھ نے بتایا ہے کہ امریکی جیلیں دراصل ایک طرح کا صنعتی کمپلیکس ہیں جس پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ عافیہ کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔ یہ مقدمہ جو ایک صیہونی جج کے زریعے چلایا گیا، عافیہ کے خلاف کھلم کھلا متعصبانہ مقدمہ تھا۔ مقدمے کے اختتام پر، عافیہ کے خلاف جو الزامات لگائے گئے وہ امریکی حکومت کی جانب سے اس بات کا اعتراف کرنے پر ختم ہوئے کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔ ایوون ریڈلے نے بتایا ہے کہ جب میں قیدی 650کی شناخت جاننے کے لیے پاکستان گئی تومجھے بہت مدد ملی اور جس شخص نے حقیقی معنوں میں میری مدد کی وہ عمران خان تھا۔ جن لوگوں کا میں نے انٹرویو کیا تھا ان میں سے ایک جنگجو سردار حکمت یار کے داماد ڈاکٹر گیرہارڈ بحر تھے۔ انہوں نے حتمی طور پربتایا کہ یہ وہی عورت ہے جس کے ساتھ میں قید تھا۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سب سے پہلے کیا جانے والا کام قیدیوں کو غیر انسانی بناناتھا اور کسی کو غیر انسانی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے اس کی شناخت ہی چھین لی جائے۔ وہ کسی بھی انسان کا نام مٹا کر اسے ایک نمبر جاری کردیتے ہیں تاکہ اس کا کوئی حوالہ ہی باقی نہ رہے۔کرہ ارض کی سب سے زیادہ مظلوم عورت عافیہ صدیقی ہے اور اس سے زیادہ افسوس کی بات ٹیکساس کی کارسویل جیل میں اس کی موجودگی ہے۔موری سلاخن نے کہا کہ ایک امریکی ہونے کی حیثیت سے مجھے شرمندگی ہے کہ جو کچھ میری حکومت نے ایک معصوم مسلمان عورت کے ساتھ کیا۔نیویارک سٹی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف اس نام نہاد مقدمے کی کارروائی کے دوران بہت ساری ہیرا پھیری ہوئی، جو گراونڈ زیرو سے کچھ ہی فاصلے پر تھا،دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ کیس کی سماعت کے دوران امریکہ میں موجود بااثر پاکستانیوں کی فہرست طلب کر لی، جو وائٹ ہائوس میں درخواست دائر کریں کہ رحم کی بنیاد پرعافیہ کو وطن واپس یا منتقل کریں۔تفصیلات کے مطابق جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بینچ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کے لیے دائر آئینی درخواست کی جمعہ کے دن سماعت کی۔مقدمہ کی سماعت کے بعد ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے مختلف معاملات تھے۔ عدالت کے سامنے ایک مسئلہ ڈاکٹر عافیہ کی ایف ایم سی کارسویل جیل سے کسی عام جیل میں منتقلی کے حوالے سے قانونی مسائل کے حل کے لیے امریکہ میں مقیم پاکستانی وکلاکا تقرر تھا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت میں معاونت کے لیے دووکلامقرر کیے تھے جن میں سے ایک بیرسٹر زینب جنجوعہ نے امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی وکیل سے رابطہ کیا ہے۔ عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے بھی ان سے بات کی ہے اور توقع ہے کہ آج ان سے معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ وہ ہمدردی کی بنیاد پر بلامعاوضہ کیس لڑیں گے مگر مقدمہ دائر کرنے کے بنیادی اخراجات ادا کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کوئی طریقہ کار طے کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اس کیس کے معاونین نے امریکی وکلاکی مدد سے قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کا مسودہ تیار کیا تھا۔ ماضی میں بھی ایسا معاہدہ ہوا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔
یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس مسودے پر حکومت پاکستان کے متعلقہ محکموں سے بات کی جائے اور وزیراعظم کو بھی اس سے آگاہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ نومبر میں امریکی انتظامیہ تبدیل ہو جائے گی اور اس سے پہلے امریکہ میں موجود بااثر پاکستانیوں کی جانب سے وائٹ ہائوس میں رحم کی درخواست دائر کی جائے تاکہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس بھیج سکیں تاکہ وہ بقیہ قید کی مدت اپنے ملک میں پوری کرسکیں۔ وزارت خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس امریکہ میں ایسے بااثر پاکستانیوں کی کوئی فہرست نہیں ہے تاہم عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر امریکہ میں ایسے بااثر پاکستانیوں کی جامع فہرست عدالت میں پیش کی جائے۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی ڈاکٹر عافیہ سے امریکی جیل میں ملاقات کے اگلے دورے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت ایسے دورے کی مکمل سہولت فراہم کرے گی اور اس مرتبہ ڈاکٹر فوزیہ کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ کے طبی معائنہ، طبی امداد اور امام (مذہبی پیشوا)سے ملاقات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے نئی راہیں کھولی جا رہی ہیں۔عافیہ کی رہائی کی کنجی اسلام آباد میں ہے اور اگر ہماری حکومت سنجیدگی اور مخلصانہ کوششیں کرے تو ان کی رہائی آسانی سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلی امریکی انتظامیہ آنے سے قبل ہمدردی کی بنیاد پر ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی انتہائی اہم ہے اور اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ کے ہمراہ رواں ماہ امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں اور امید ہے کہ معاملات آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت خلوص کا مظاہرہ کرے اور عوام حکومت پر مکمل دبائو ڈالیں تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی جلد رہا ہو سکتیں ہیں ۔