Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

ہم جنس پرست بینڈ اور نا چتا گاتا پنجاب

عالمی دجالی طاقتوں نے ایک طرف تو ارض مقدس فلسطین پر عسکری یلغار کر رکھی ہے، ہر روز وہاں کئی کربلائیں سجتی ہیں، درجنوں اور کبھی سینکڑوں حق و صداقت کے حسینی علمبردار دور حاضر کے فرعونوں کی سفاکیت کا شکار ہو کر بارگاہ رب العزت میں سرخرو ہو کر پہنچ جاتے ہیں، افسوس مگر یہ ہے کہ امت مسلمہ کے حکمران کوفیوں کی طرح خاموش تماشائی بن کر تاریخ کے کوڑا دان میں جگہ بنا رہے ہیں ،دوسری طرف عالمی دجالی طاقتوں نے فلسطین کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک بالخصوص وطن عزیز پاکستان پر (ایک الگ انداز سے مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو برباد کرنے کے لیے LGBT )کے جھنڈے کے نیچے امریکی آشیر باد اور امداد سے یلغار کر رکھی ہے، اس حوالے سے نامور پاکستانی صحافی کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیں ۔ ’’ہم ایک مسئلے سے نکلے نہیں ہوتے کہ دوسرا سامنے آ جاتا ہے ، پاکستان میں اس وقت ایک میوزیکل بینڈ کا ٹور چل رہا ہے، یہ چار امریکی عورتوں پر مشتمل ہے جس کا نام ہے رینگ جین یہ بینڈ عام میوزیکل بینڈز کی طرح نہیں ہے کہ جن کا مقصد کنسرٹ کر کے صرف پیسہ اور شہرت کمانا ہوتا ہے، بلکہ اس کی ویب سائٹ پر جائیے تو وہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ ایک مشن کے لیے کام کرتا ہے، اور اس کا مشن ایک تو معاشرے میں عریانی کو عام کرنا، دوسرا ہم جنس پرستی کو مسلمان معاشرے میں ایک نارمل چیز باور کرانا ہے (العیاذ باللہ) یاد رہے یہ میوزیکل بینڈ باقاعدہ امریکی حکومت کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔
رپوٹ کے مطابق 25جنوری 2024ء کو امریکن ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کی ویب سائٹ پر اس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا،اس میوزیکل بینڈ نے پاکستان آتے ہی سب سے پہلے عصری تعلیمی اداروں میں قدم رکھا، یکم مئی کو اس بینڈ نے لاہوراسکول آف اکنامکس میں پرفارم کیا، اگلے دن اس کی پرفارمنس ہونی تھی Gcیونیورسٹی لاہور میں، یونیورسٹی کی بھولی بھالی انتظامیہ نے نہ صرف اس کی اجازت دی، بلکہ اسٹوڈنٹس کو نوٹیفکیشن کے ذریعے اس میں شرکت کا پابند بھی کیا گیا، خاص طور پر فی میل سٹوڈنٹس کو، لیکن پی ایس ایل نامی ایک طلبہ تنظیم نے بہادری اور غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سخت احتجاج کر کے اس شیطانی پروگرام کو منعقد ہی نہیں ہونے دیا، چار مئی کو ان کا ہدف تھا ملتان یونیورسٹی کی طالبات اور وہاں کا فی میل سٹاف لیکن کچھ ایمان والے طلبہ و طالبات یہاں بھی ڈٹ گئے، اور یہ شو بھی منعقد نہ ہو سکا، اس کے بعد یو ایس قونصلیٹ لاہور نے ای میل کے ذریعے ملتان یونیورسٹی کو میسج بھیجا کہ اگرچہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر میوزیکل شو نہیں ہو سکا لیکن ہم یونیورسٹی کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اپنا کیمپس ہمارے حوالے کر دیا تھا ،جلد ہی ہم اس طرح کے پروگرامز کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں گے ۔قارئین!یہ بینڈ صرف میوزک بینڈ نہیں، بلکہ یہ ایل جی بی ٹی یعنی ہم جنس پرستوں کی کمیونٹی کا اہم حصہ ہے، اور یہ بینڈ پاکستان میں آ کر ہماری ماں بہنوں اور بیٹیوں کے سامنے پرفارم کر رہا ہے۔
پاکستان کے غیور مسلمانوں اگر یہ شیطانی عریانی تماشے دیکھ کر بھی تمہاری غیرت ایمانی بیدار نہ ہوئی اور تم نے ان ہم جنس پرستوں کے گلے میں جوتوں کے ہار نہ ڈالے تو تمہاری آنے والی نسلیں برباد ہو جائیں گی، اور تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میںاُٹھو مسلمانو! ان بے حیا شیطان کے آلہ کاروں کے سامنے جرات کے ساتھ کھڑے ہو جائو یہ کسی سکول کالج یونیورسٹی یا کسی بھی پبلک مقام پر بے حیائی کی غلاظت پھیلانے کے لیے پہنچیں تو ان کے خلاف سخت احتجاج کرو جوتوں کے تلووں سے ان کا استقبال کرو، ورنہ غزہ کے مسلمانوں کی جانیں لینے والے ہمارا ایمان لے جائیں گے غزہ والوں کی یہ دنیا اجاڑ رہے ہیں ہماری قبر اور آخرت کو برباد کر دیں گے۔’’اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں آئین اور اسلام سے متصادم ہم جنس پرستی کے گند کو پھیلا نے کے لئے حکومت خود ملوث ہے،پنجاب میں حکومتی سطح پر مقابلہ موسیقی کروانے کی تیاریاں اس زورو شور سے جاری ہیں کہ جیسے پنجاب کے بچوں ،بچیوں کو گوئیے،بھانڈ میراثی اور ڈانسر بنانا بھی آئین پاکستان کا حصہ ہو،صوبہ پنجاب کی ’’وزیرنی‘‘اعلیٰ مریم بی بی کو کوئی بتائے کہ مخرب الاخلاق گانوں سے پنجاب کے نوجوانوں مردوں اور عورتوں پر جو منفی اثرات مرتب ہوں گے اس کا ذمہ ار کون ہو گا؟اس سے برا ، فحش اور لچر کام اور کیا ہو گا کہ قوم بچوں اور بچیوں کو گانے بجانے پر لگا دیا جائے ؟
ایک طرف ہم جنس پرست میوزیکل بینڈ اور دوسری طرف وزیر نی اعلیٰ مریم بی بی کی خصوصی دلچسپی سے پنجاب سطح پر موسیقی کے مقابلے اور یہ مقابلے جیتنے والوں کے لئے لاکھوں روپے کے انعامات،مطلب یہ کہ ’’پڑھا لکھا پنجاب‘‘سے لڑھک کر ’’نا چتا گاتا پنجاب‘‘ کی پستیوں تک ان پہنچے،حالانکہ عریانی فحاشی اور بے حیاء کی تمام صورتوں سے مسلمانوں کے لیے بچنا اور بچانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ مسلمانوں کے دلوں سے ایمان اور غیرت ایمانی جوش جہاد اور شوق شہادت کو نکال دیتی ہے، نبی دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے حیا اور ایمان ایک ساتھ دل میں آتے ہیں اور ایک ساتھ دل سے نکل جاتے ہیں، یعنی کوئی ایک بھی ان میں سے دل سے نکلے تو دوسرا بھی نکل جاتا ہے ۔حدیث شریف کی مشہور کتاب ابو دائود شریف میں ایک روایت ہے کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم زار و قطار رونے لگے حتیٰ کہ آنسو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو تر کر کے سینے پر گرنے لگے، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا بات ہے کیا پریشانی ہے آپ اتنا رو رہے ہیں فرمایا سنو جب میری امت میں عریانی پھیل جائے گی تو جذبہ جہاد ختم ہو جائے گا اور میری امت پر ذلت مسلط ہو جائے گی ۔ قارئین محترم! ناچ گانے اور موسیقی کے عام ہو جانے کے بعد آج ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ ہیں جو جہاد کو عبادت سمجھ کر اس کا شوق رکھتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو مجاہدین کو اس امت کا محسن سمجھ کر ان سے محبت رکھتے ہیں؟ افسوس صد افسوس آج مسلمانوں کی غالب اکثریت جہادو قتال کو عبادت سمجھنے کے لئے ہی تیار نہ ہے، آج اگر امام مہدی رضی اللہ عنہ ظاہر ہو جائیں اور لوگوں سے بیعت علی الجھاد لینا شروع کر دیں تو مسلمانوں کی اکثریت امام مہدی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی بجائے ڈالر پائونڈ درہم و دینار کی لالچ میں دجال کے جھنڈے کے نیچے کھڑی ہوجائے ،گانے اور موسیقی کو آج عموماً لوگ ذہنی تفریح اور قلبی سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ چیزیں ایک نارمل مسلمان کو بدترین قسم کا منافق بنا دیتی ہیں، اس حوالے سے آخر میں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان عالی شان ملاحظہ فرما لیجئے ۔ ’’گانا بجانا دل میں نفاق کو ایسے اگاتا ہے جیسے پانی کھیتی کو‘‘یاد رہے قرآن کریم نے درجنوں آیات میں یہ حقیقت آشکار فرمائی ہے کہ منافق اسلامی فرائض میں سب سے زیادہ فریضہ جہاد سے الرجک ہوتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں