Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

عازمین حج کے لیے کچھ گزارشات

اسلامی تقویم کے مطابق گیارویں مہینے ذیقعدہ کا پہلا عشرہ اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر سے عازمین حج کے قافلے حج بیت اللہ شریف کا اہم ترین فریضہ ادا کرنےکیلئے سر زمین حجاز کی طرف رواں دواں ہیں۔ حج ایک ایسا عمل ہے جس سے دل کی کیفیات میں انقلاب رونما ہوتا ہے سفر کی مشکلات سے حلم وبرد باری،عفو وایثاراور تواضع کی دولت حاصل ہوتی ہے اور وجدان میں اللہ پاک کے مشاہدہ کا احساس اٹھکیلیاں لینے لگتا ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی کیلئے جہاں مناسک حج کی ادائیگی سے متعلق دینی مسائل و احکامات سے آگاہی ضروری ہے وہاں اپنی صحت، تحفظ اور سفری احوال سے متعلقہ معاملات کی واقفیت بھی بہت اہم ہے۔ ماضی میں ہونے والے بہت سے سانحات( جن میں ہزاروں افراد جان گنوا بیٹھے) کا بنیادی سبب انتظامی خامیوں کے ساتھ ساتھ عازمین حج میں وہاں کے معروضی حالات سے آگہی کافقدان بھی تھا۔ حج بیت اللہ شریف مالی لحاظ سے صاحب حیثیت اور شرعی شرائط پر پورا اترنے والے مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک دفعہ فرض ہے۔ تفصیلی مسائل جاننے کے لئے مستند کتب اور آڈیو، وڈیو ڈیوائسز عام دستیاب ہیں البتہ ان کے مستند ہونے کے بارے میں کسی صاحب علم سے پوچھ کر اطمینان کر لینا ضروری ہوتا ہے۔ عمومی طور پر حج گروپ کے منتظمین بھی اس سلسلے میں مدد کرتے ہیں۔ پہلے بھی بحمد اللہ تعالیٰ کئی مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوتی رہی اور اس سال بھی روانگی کا ارادہ ہے اس لئے ہم نے اپنے تجربات کی روشنی میں چند معروضات پیش کرنی ہیں تاکہ عازمین حج آسانی سے یہ فریضہ ادا کر سکیں اور ہمیں بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ جب اس مبارک سفر کیلئے گھر سے روانگی ہوتی ہے تو احرام کی چادریں اور لوازمات ساتھ لے جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مختلف صورتوں میں گھرسے، ائرپورٹ پر یا کبھی جہاز میں بھی احرام باندھ لیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ میقات کی سرحد تک پہنچنے سے پہلے احرام باندھ کر نیت کر لی جائے۔ اس سلسلے میں ایک عام غلطی کا ارتکاب پریشانی کا باعث بنتا ہے۔وہ یہ کہ جب اہل خانہ پیکنگ کر رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات صورت حال سے مکمل واقف نہیں ہوتے۔ احرام کی چادریں بڑے سوٹ کیس میں رکھ دیتے ہیں جو ائر پورٹ سے بک ہو کر جدہ میں وصول ہوگا۔ جب راستے میں احرام باندھنے کا وقت آتا ہے تو احرام نہیں ہوتا۔ دوران سفر کئی دفعہ ہم نے ایسی صورت حال کا مشاہدہ کیا۔ لہٰذا اپنا احرام اور دوران احرام پہننے کیلئے جوتے وغیرہ دستی سامان والے بیگ میں ڈالیں نہ کہ بڑے بیگ میں۔ ہم جتنی بھی عبادات کی نیت کرتے ہیں ان میں سے سوائے حج اور عمرے کے کسی بھی عبادت کے آغاز میں یہ نہیں کہا جاتا کہ’’ اے اللہ پاک اسے میرے لئے آسان کرنا ‘‘ لیکن اس سفر میں جب عمرہ یا حج کے احرام کی نیت کی جاتی ہے تو اس طرح کہ ’’ اے اللہ پاک میں حج، عمرہ کی نیت کرتا ،کرتی ہوں اسے میرے لئے آسان کرنا اورمیری طرف سے قبول کرنا‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مشقت والی عبادات ہیں جنہیں صبر و استقامت اور ہمت و حوصلہ کے ساتھ بجا لانا ہوتا ہے۔ عبادات کی تین قسمیں ہیں، زبانی عبادت، بدنی عبادت اور مالی عبادت۔ حج بیت اللہ شریف ان تمام عبادات کا مجموعہ ہے۔ جب احرام باندھتے ہیں تو نیت کے ساتھ ہی زبان سے بآواز بلند تلبیہ پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ اسی طرح مختلف مقدس مقامات پردعائیں اور التجائیں، تلاوت قرآن اور تسبیح و تہلیل ، یہ سب زبانی عبادات ہیں جسم سے بنفس نفیس اس سفر کو طے کرنا بدنی عبادت ہے مالی حیثیت مستحکم ہو نے کی صورت میں ہی حج فرض ہوتا ہے۔ جو مال اس سفر کے دوران خرچ کیا جاتا ہے وہ مالی عبادت ہے۔ہر عبادت کیلئے نیت کی درستگی ضروری ہےلہٰذاحج بیت اللہ شریف کیلئے روانگی سے قبل اپنی نیتوں کا قبلہ درست کرنا از حد ضروری ہے۔ انسان کمزور ہے بسا اوقات کسی کج فہمی یا خوش فہمی میں مبتلا ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ زندگی کے اس اہم ترین سفر پر روانگی سے قبل صدق دل کے ساتھ اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں خدا نخواستہ کسی سے زیادتی کی ہو، کسی کا ناحق مال کھایا ہو یا کسی کی زمین، جائیداد پر قبضہ کیا ہو تو پہلے اس کا ازالہ کریں کچھ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ساری زندگی حرام حلال کی تمیز کیے بغیر لوگوں کا مال ہڑپ کرتے رہو اور پھر جا کر حج کرلو اس طرح گناہ بھی معاف ہوگئے اور عیش و عشرت بھی کر لی، نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو تو دھوکا دے سکتے ہیں لیکن اللہ کریم کو دھوکہ نہیں دے سکتے لہٰذا جن عبادات کی قضا ہوسکتی ہے ان کی قضا کرے۔ مثلا نماز روزے کی قضا۔ جن مالی عبادات کی ادائیگی ہو سکتی ہے انہیں ادا کرے مثلا زکوۃ و صدقہ فطر۔ جن حقوق العباد کی خلاف ورزی ہوئی ہو ان میں سے جن کی معافی مانگنا ضروری ہے وہاں معافی مانگے۔ جہاں مالی لحاظ سے کسی کا حق ادا ہوسکتا ہے وہ ادا کرے۔ یہ حاضری خوش بخت لوگوں کو نصیب ہوتی ہے لہٰذا اس کی قدر دانی بھی بہت ضروری ہے نبی محتشمﷺ نے فرمایا کہ جب خانہ کعبہ شریف پر تمہاری پہلی نظر پڑے تو جو دعا کروگے قبول ہوگی۔ ایک شخص نے حضرت امام ابو حنیفہ سے پوچھا کہ اس موقع پر میں کیا دعا کروں تو آپ نے جوابا فرمایا کہ اس وقت یہ دعا کرو کہ ’’ اے اللہ پاک آج کے بعد میں جو بھی دعا کروں اسے شرف قبولیت عطا فرمانا‘‘۔ آٹھ ذوالحج سے تیرہ ذوالحج تک مناسک حج کی ادائیگی ہوتی ہے۔ حجاج کرام کی آٹھ ذوالحج کو مکہ مکرمہ سے منی کےلئے روانگی ہوتی ہے۔ رات منی میں گزار کر نو ذوالحج کی صبح میدان عرفات چلے جاتے ہیں۔ حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کی ادائیگی کے بعد مغرب تک وہاں ہی قیام پذیر رہتے ہیں۔ مغرب کے بعد قافلے مزدلفہ کی طرف رواں دواں ہوجاتے ہی۔ نماز مغرب عرفات میں ادا نہیں کرتے اور مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے وقت میں پہلے مغرب اور پھر عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں۔ صبح صادق کے وقت نماز فجر کے بعد واپس منی روانگی ہوتی ہے۔ یہ 10 ذوالحج ہے۔ اس دن بڑے شیطان کو کنکریاں مار کر حج قرآن اور تمتع کرنے والے قربانی کی ادائیگی کے بعد حلق یا قصر کراتے ہی۔ 12 ذوالحج کی مغرب سے پہلے پہلے طواف زیارت کرنا ضروری ہے۔ 11 اور 12 ذوالحج کو تینوں شیطانوں کو بعد از زوال کنکریاں مارنا واجب ہے۔ اس طرح حج بیت اللہ شریف کے مناسک کی تکمیل ہوتی ہے۔ باہر سے حج پر گئے ہوئے لوگوں کے لیے مکہ مکرمہ چھوڑنے سے پہلے طواف وداع بھی واجب ہے۔
حج کے دوران تین چار ملین کے قریب افراد کا اجتماع ہوتا ہے۔ ان میں بوڑھے، بچے، مرد اور عورتیں بھی شریک ہوتے ہیں۔ جہاں کسی ہم سفر کو مدد کی ضرورت ہو اخوت اور بھائی چارے کا ثبوت دیتے ہوئے، اس کی خلوص کے ساتھ مدد کریں۔ کیونکہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ جس کا حج قبول ہوجائے اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ نو مولود بچہ ‘‘۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں بھی بے احتیاطی کر کے پہلے سے بڑا گناہوں کا ٹوکرا ساتھ لے کر واپس آجائیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں مقامات مقدسہ کے ادب و احترام کا ہر لمحہ خیال رکھیں۔ اس سفر کے دوران جب مدینہ طیبہ میں اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری نصیب ہو تو انتہائی ادب و احترام سے عاجزانہ سلام پیش کریں۔ حرکات و سکنات، چلنے پھرنے اور گفتگو سے بھی کوئی بے ادبی نہ ہونے پائے۔
ادب گائیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ مے آید جنید و بایزید اینجا

یہ بھی پڑھیں