Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے مولانا سندھیؒ کی جدوجہد، خدمات اور حیات کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے فاضل محققین کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ لیکن آج میں ایک اور پہلو کے حوالہ سے بات کرنا چاہوں گا کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں قرآن کریم کے اعجاز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ آنے والے دور میں جو نظاموں اور معاشرتی قوانین کے تقابل کا دور ہوگا، اس پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کا پیش کردہ نظام اور اس کے معاشرتی احکام و قوانین دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ہیں اور انسانی سوسائٹی کے مسائل و مشکلات کو زیادہ بہتر طور پر حل کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں مولانا سندھیؒ کی علمی و فکری جدوجہد کو دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے دور کے عالمی نظاموں کے درمیان مقابلہ کو وسیع تناظر اور گہری نظر سے دیکھا ہے، انہوں نے ہماری طرح اخباری خبروں اور سنی سنائی باتوں پر اپنے فکر و فلسفہ کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ خود ان عالمی نظاموں کے مراکز میں جا کر ان کی اکھاڑ پچھاڑ کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مقابلہ میں کمیونزم کے ابھرتے ہوئے طوفان کو ماسکو میں بیٹھ کر دیکھا۔ خلافت عثمانیہ کے بکھرنے کے عمل کا استنبول میں رہ کر مشاہدہ کیا، اور عرب قومیت کے نام پر عالم اسلام کا شیرازہ بکھیرے جانے کے مراحل کو مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر سمجھا۔ انہوں نے مغرب کے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام کے مقابلہ میں ابھرتے ہوئے سوشلزم کی ان حالات کے تناظر میں تحسین ضرور کی لیکن یہ بات بھی دوٹوک انداز میں واضح کی کہ انسانی سوسائٹی کے مسائل کا اصل حل صرف قرآن کریم میں ہے اور اس کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کو راہنما بنانے کی ضرورت ہے۔
مولانا سندھیؒ کو اس بات کا زندگی بھر قلق رہا کہ ہم مسلمانوں کے پاس اسلام کے عادلانہ سماجی نظام کا کوئی عملی نمونہ عصر حاضر میں موجود نہیں ہے اس لیے سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظاموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے دنیا کو کمیونزم اور سوشلزم کی طرف رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ اور وہ اس نمونہ کے قیام کے لیے ساری زندگی محنت کرتے رہے۔ البتہ ان کا دور نظاموں کے تقابل کا دور تھا اور انہوں نے اپنے دور کے نظاموں کے باہمی مقابلہ کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہوئے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کی طرف لوگوں کی راہنمائی کی۔ مولانا سندھیؒ کی بعض تعبیرات و تشریحات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپنے دور کے مسائل اور تقاضوں کو براہ راست معروضی حالات کے تحت سمجھنا ضروری ہے اور انسانی سوسائٹی کی راہنمائی کے لیے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ سے راہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
اس پس منظر میں ایک طالب علمانہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلی صدی نظاموں کے ٹکراؤ کی صدی تھی مگر آج کا دور تہذیبوں کے تصادم کا دور ہے۔ مغرب کی تہذیب و ثقافت پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام کو اپنے دائرے میں سمیٹ لینے کے چکر میں ہے۔ اس لیے آج کے علماء کرام اور دانشوروں کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تہذیبوں کے اس تصادم اور ثقافتوں کے اس ٹکراؤ کو سمجھنے کی کوشش کریں، آج کے عصر کا ادراک حاصل کریں، اور اس سولائزیشن وار میں قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ بلکہ نوع انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں جس کے لیے ولی اللّٰہی فکر و فلسفہ کی روشنی آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ میرے نزدیک آج کی نسل کے لیے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام یہی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
مولانا عبید اللہ سندھی کا تعلق پنجاب کے ایک غیر مسلم گھرانے سے تھا لیکن چونکہ ان کی تعلیمی اور تدریسی زندگی کا ایک بڑا حصہ سندھ میں گزرا، اور ان کی تعلیم و تربیت سندھ کے ایک عارف باللہ حضرت حافظ محمد صدیق آف بھرچونڈی شریف کے ہاتھوں میں ہوئی، اس لیے وہ سندھی کی نسبت سے مشہور ہو گئے۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے آج سے نصف صدی قبل ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ علماء کرام جدید علوم اور تقاضوں سے آگاہی حاصل کریں، کالج کے طلبہ کو عربی گرامر کے ساتھ قرآن کریم کے ترجمہ کی تعلیم دی جائے، اور اسلام کو پوری انسانیت کے مذہب کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔
آج جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے ان باتوں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے لیکن ہم ان کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے۔
نئی نسل کو تحریکِ آزادی کے مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ اسے آزادی کی حقیقی قدر و قیمت اور اس کے تقاضوں کا احساس ہو اور وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ آزادیٔ ہند اور قیامِ پاکستان کے لیے علماء کی جدوجہد کو نظرانداز کر دیا جائے تو تاریخ کے دامن میں کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ تحریکِ آزادی کے عظیم جرنیل ہی نہیں بلکہ قرآن کریم کے مفسر اور بہت بڑے محدث تھے جن کے ہزاروں شاگرد مختلف مسلم ممالک میں قرآن و حدیث کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں