صدام حسین دنیا میں عرب نیشنلزم کے اس عنصر کے نمائندہ کے طور پر عراق کے حاکم بنے تھے جس نے مذہب بیزاری کے جلو میں عرب قومیت کا پرچم بلند کیا تھا اور بائیں بازو کے افکار کی بنیاد پر عراقی نیشنلزم کی نیو اٹھائی تھی۔ وہ بعث پارٹی کے رہنما تھے جو سیاست میں مذہب کی ملاوٹ کے خلاف ہے بلکہ اجتماعی معاملات میں مذہب کے کردار کی نفی کو ضروری سمجھتی ہے۔ لیکن ان کی زندگی کا اختتام اس کیفیت میں ہوا کہ قرآن کریم ان کے ہاتھ میں تھا، انہوں نے پھانسی گھاٹ کی طرف جانے سے قبل نماز پڑھی اور جب پھانسی کے تختے کی طرف بڑھے تو اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے تختے پر کھڑے ہو گئے۔ پھر بعض خبروں کے مطابق انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھا اور جب جلاد نے ان کے گلے میں پھانسی کا پھندا فٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جہنم میں جاؤ‘‘ تو صدام حسین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ ’’جنت میں جاؤں گا‘‘۔ اور پورے وقار کے ساتھ منہ پر ماسک پہننے سے انکار کرتے ہوئے تختہ دار پر جھول گئے۔ اس سے قبل انہوں نے دعائیہ جملہ کے طور پر یہ آخری الفاظ کہے کہ ’’عراق سلامت رہے اور فلسطین عربوں کا ہے‘‘۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’اعتبار خاتمہ کا ہوتا ہے‘‘۔ یعنی جو شخص جس حالت میں دنیا سے رخصت ہوتا ہے آخرت کے معاملات اسی حوالے سے طے پاتے ہیں۔ اس لیے صدام حسین کے آخری لمحات کی کیفیات کو دیکھ کر دل گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انہیں سرخروئی حاصل ہوگی اور ان کی زندگی کے یہ آخری لمحات ان کے متنازعہ ماضی کا کفارہ بن جائیں گے۔ مجھے صدام حسین کی زندگی کے آخری لمحات دیکھ کر حجاج بن یوسف یاد آگیا، وہ بھی عراق کا حاکم تھا، اس نے بھی اہلِ دین کے خلاف ظلم و جبر کی انتہا کر دی تھی۔ اس نے سلطنت کے استحکام کو باقی ہر چیز پر مقدم قرار دیتے ہوئے ہزاروں صالحین کو تہہ تیغ کر دیا تھا۔ اس نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر کے بیت اللہ پر سنگباری کی تھی اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اور حضرت سعید بن جبیرؒ جیسے اساطینِ امت کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے تھے۔ لیکن اس کے کھاتے میں بڑی بڑی نیکیاں بھی ہیں۔ سندھ کے راجہ داہر کے ہاتھوں چند مسلمان خواتین کی گرفتاری پر اسی نے غیرت کھا کر اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی قیادت میں لشکر تیار کیا تھا اور دمشق کی خلافت سے اس لشکر کی روانگی کی اجازت طلب کر کے اسے سندھ کی طرف روانہ کیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق قرآن کریم پر اعراب لگوانے کا کام بھی اسی کی نگرانی میں تکمیل تک پہنچا تھا جس کی وجہ سے غیر عربوں کے لیے قرآن کریم کی براہ راست تلاوت آسان ہو گئی۔
حجاج بن یوسف کی زندگی متضاد کارناموں کا مجموعہ ہے لیکن بعض حضرات نے اس کی زندگی کے آخری لمحات کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ مرض الموت میں اس کی بوڑھی ماں نے اسے اس کے مظالم یاد دلاتے ہوئے جب کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس منہ سے پیش ہوگا؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ ماں مجھے ڈراؤ نہیں، اللہ تعالیٰ تجھ سے کہیں زیادہ مہربان اور شفیق ہے۔ ایک بار میں نے ایک عوامی خطاب کے دوران حجاج بن یوسف کی وفات سے قبل کے لمحات اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت پر اس کا یہ یقین قدرے تفصیل سے بیان کیا تو ایک صاحب نے مجھ سے سوال کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اگر حجاج بن یوسف کو بخش دیں گے تو ان ہزاروں مظلوموں کا کیا بنے گا جن کے بے گناہ خون سے اس نے اپنے ہاتھ رنگے تھے۔ میں نے بعض بزرگانِ دین کے حوالے سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو بخشنا چاہتے ہیں تو اس کے مظالم کا بدلہ کئی گنا اپنی طرف سے مظلوموں کو ادا کر کے اس کی بخشش کا اہتمام کر دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی کی کوئی ادا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدگی کا درجہ پا لے تو باقی مراحل اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے طے فرما دیتے ہیں، اور یہ نہ انصاف کے خلاف ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے۔
صدام حسین کی زندگی بھی ایسے ہی تضادات سے عبارت رہی ہے۔ وہ اصلاً اس عرب نیشنلزم کے علمبردار تھے جس کی بنیاد بعث پارٹی نے مذہب کی نفی پر رکھی تھی اور وہ عالمی سیاست میں بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کی نمائندگی کرتے تھے۔ عرب نیشنلزم کی اٹھان ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کی صدیوں کی حکمرانی کے ردعمل کے طور پر عربوں کی آزادی کے تصور کے ساتھ ہوئی تھی۔(جاری ہے)