Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

تخلیق روزگار کے بدیسی ٹوٹکے

امیر ملکوں کی ترقی اور کامیابی کی تاریخ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔جو عزم و ہمت کی طویل داستان سے عبارت ہے ۔کمال حکمت اور منفرد سوچ سے انہوں نے معاشی مسائل کا حل نکالا۔ محنت کو فکری جدت کے رنگ میں ڈھال کر رفعت نصرت پائی۔ قدرتی وسائل کو ذہانت اور تدبر کی بھٹی میں ڈال کر کندن بنایا۔ پیہم کوشش اور مسقل مزاجی کو شعار بنایا. وسیع دائرہ فکر اور جہد تسلسل سے حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹیں ۔ سینہ ارض پہ پھیلی قدرت کی نعمتوں سے استفادہ کیا ۔یاد رہے ایسی خداداد نعمتوں سے ہماری سوہنی دھرتی بھی مالا مال ہے ۔جس میں گلیشیرز، فلک بوس پہاڑ، چوٹیاں ،چشمے ،دریا ، جنگلات ،صحرا ، معدنیات ، سمندر اور ساحل شامل ہیں قطرے قطرے سے دریا بننے کے شہرہ آفاق فلسفے کی روشنی میں تخلیق کردہ چھوٹے چھوٹے معاشی منصوبوں کو کامیاب اور منفعت بخش بنایا۔ نفس مضمون کی آسان تفہیم کیلئے کسی ترقی یافتہ ملک کی مثال دینا ضروری ہے ۔ جنگلوں اور سمندروں کی سر زمین آسٹریلیا ایک براعظم ہے۔جس کا دامن بے شمار قدرتی شاہکار اور نعمتوں سے لبریز ہے ۔جبکہ اسکی آبادی بہت کم ہے ۔جو تقریباً ہمارے لاہور شہر کی آبادی کے برابر ہے۔اس کے چاروں اطراف وسیع و عمیق سمندر ہے۔ بیش تر شہراور قصبے ساحل پر آباد ہیں ۔کمال ذہانت اور مہارت سے جگہ جگہ بیچز آباد کی ہوئی ہیں ۔جہاں تیراکی جاگنگ ،واکنگ اور آبی کھیلوں کی شاندار سہولتیں موجود ہیں ۔ سیاحوں کے لئے ہوٹلز اور شاپنگ کے خاطر خواہ انتظامات ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ سرکاری سطح پر بیچز کی صورت میں منصوبہ بنا کر عام شہریوں کو کاروباری موا قع مہیا کئے ہیں۔ کوئی بھی شخص متذکرہ بالا منصوبہ جات سے کسی کا انتخاب کر کے کاروبار کر سکتا ہے۔ایسی یک وقتی سرمایہ کاری سدا بہار آمدن کی ضامن ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ واجبی سے قدرتی مقامات کو انسانی کوشش اور فکری ندرت سے جاذب نظر بنا رکھا ہے ۔ چھوٹی سی پہاڑی سے گرتے پانی کو آبشار میں بدلا ہوا ہے ۔جنگل کے بیچ پر آسائش اور محفوظ جھونپڑیاں بنا کر قدرتی ماحول کے دلدادہ لوگوں کو مائل کیا ہوا ہے۔چھوٹی سرمایہ کاری کے ایسے منفرد منصوبے سیاحوں کی تسکین طبع کے ساتھ انفرادی اور قومی سطح پر معیشت کو مستحکم کرتے ہیں ۔
سڈنی کے مضافات میں سفر کرتے سڑک کنارے نصب اک بورڈ پہ نظر پڑی جس پہ بلیک مائونٹین لکھا تھا۔ پوچھنے پر گاڑی ڈرائیو کرتے میرے میزبان بھائی نے اس کی تفصیل بتائی۔ میرے تجسس کو دیکھتے ہوئے اس نے گاڑی کا رخ اسی طرف موڑ دیا۔ چند سو میٹرز چلے تھے کہ ایک اور بورڈ نظر آیا جس پہ تھری سسٹرز لکھا تھا اور ساتھ تیر سے اسکی سمت ظاہر کی ہوئی تھی ۔ ہم بھی اتفاق سے ادھر ہی جا رہے تھے ۔ آدھ گھنٹہ کے بعد ہم وہاں پہنچ گئے ۔ مگر ذہن میں بنے خاکے کے مطابق تو وہاں کچھ نظر نہ آیا۔ گردو پیش نظریں گھمائیں تو دور گہرائی میں گھنے درختوں سے ڈھکی پہاڑیاں نظر آئیں ۔ ایک طرف کراچی کے تین تلوار مجسمہ سے ملتی جلتی تین پہاڑی ٹکڑیاں تھیں جنہیں تھری سسٹرز کہا جاتا ہے۔ وہاں پہنچنے سے پہلے میرے ذہن میں جو اس سیاحتی مقام کاخاکہ تھا دھڑام سے زمین بوس ہو گیا ۔ گھنے جنگلات میں ڈھکا یہ عام سا پہاڑی سلسلہ تھا جو دور سے سرمئی رنگ کا تاثر دے رہا تھا۔ شائد اسی کے باعث اسکو بلیک ماونٹین کہتے ہیں۔ مجھے اس سیاحتی مقام نے اتنا متاثر اس لئے نہ کیا کہ میرا تعلق جس ملک سے تھا وہاں دنیا کے خوبصورت اور بلند ترین پہاڑی سلسلے اور چوٹیاں پائی جاتی ہیں ۔جنکے مقابلے میں بلیک مائونٹین سورج کے سامنے چراغ کی طرح تھا ۔تاہم وہاں سیاحتی سہولیات بڑی شاندار تھیں۔ جس میں شامل پہاڑ کے پہلو میں واکنگ ٹریک، آخر پر بلیک ماونٹین اور تھری سسٹرز کا نظارہ کرنے کے لئے معلق پلیٹ فارم تھا۔ میری رائے میں بلیک مائونٹین کے فطری حسن سے زیادہ وہاں کا انتظام و انصرام اور انسانی تخلیقات زیادہ متاثر کن تھیں ۔جن کی بدولت بلیک مائونٹین کا بھرم بطور سیاحتی مقام قائم تھا ۔ جس ذہانت اور محنت سے اس جگہ کو سیاحتی مقام میں بدل رکھا تھا انتہائی دلفریب اور متاثر کن تھا ۔ آمدن اور روزگار کا اک بڑا وسیلہ تھا ۔ اسے دیکھ کر وطن عزیز کے دامن میں سموئے ہزاروں قدرتی کرشموں اور عجوبوں کی بڑی یاد آئی۔ ہمارے سینکڑوں ایسے پہاڑی مقامات ہیں جن کو تھوڑی بہت محنت سے بہترین سیاحتی مراکز بنا سکتے ہیں ۔ بس اس ضمن ہمیں بدیسی ٹوٹکوں کو اپنانا اور آزمانا ہوگا ۔ قدرت کے عطا کردہ زمینی اور بحری تحفوں میں روزگار اور آمدن کے مواقع ڈھونڈنے ہوں گے ۔ ہمارے پاس خوبصورت چشمےآبشاریں ، جھیلیں اور دریا ہیں ۔ جن پر آسانی سے واٹر سپورٹس اور تفریحی شاہکار بنائے جاسکتے ہیں ۔سیاحوں کو تھر اور چولستان کے صحرائی حسن کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے ۔ سمندر اور طویل ساحلی پٹی ترقی یافتہ ممالک کے سادہ طریقے استعمال کر کے بہترین بیچز اور سیرگاہیں بنائی جا سکتی ہیں۔ ملک کے ہر ضلع اور صوبے میں ڈھیروں ایسی نعمتیں موجود ہیں جنہیں سرکار اور مقامی لوگ ملکر آمدن کا ذریعہ بنا سکتے ہیں ۔صرف سوچ کو بدلنا ہوگا۔ انوکھے اور چھوٹے پیمانے پر کاروباری رحجان کو فروغ دینا ہوگا۔ علاقے کی فضا سیاح دوست بنانا ہوگی۔ عوام اور پولیس کو مل کر سیکیورٹی کے معاملات بہتر کرنے ہوں گے ۔ بے اعتنائی کا شکار قدرتی نعمتوں کو ذہانت اور ندرت تکنیک سے وسیلہ آمدن بنانا ہوگا۔ ایسا کر کے ہم ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہے ۔ فقط کاہلی اور ناامیدی کی بکل اتارنا ہوگی ۔ غیرقانونی طریقے سے یورپ جاتے جانیں گنوانے کی بجائے ملک میں چھپے سنہری مواقعوں کو تلاش کریں۔ اعتماد ، یقین اور عزم کی چھڑی تھام کر سفر پہ نکلیں منزل خود بخود دوڑتی آپ کی طرف آئے گی ۔

یہ بھی پڑھیں