(گزشتہ سے پیوستہ)
آسیہ مسیح کیس میں ابتدائی تحقیقات اور گواہوں کے بیانات ایک سب انسپکٹر نے قلمبند کئے تھے اور پھر بعد میں مذکورہ کیس ایس پی کو ٹرانسفر کیا گیا تھا،بالکل اسی طرح اس کیس میں بھی صرف ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے تک کی کارروائی انسپکٹر نے کی،ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اس کیس کی تمام تحقیقات ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کی،جو 19 گریڈ کا افسر ہے۔یہاں تک کہ تمام گواہان کے بیانات بھی ایڈیشنل ڈائریکٹر نے ہی ریکارڈ کیا اور چالان بھی ایڈیشنل ڈائریکٹر نے ہی تیار کیا۔
آسیہ مسیح کیس کے فیصلے کے پیرا نمبر 25میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ’’بے شک آسیہ مسیح کیس کی ابتدائی تحقیقات اور گواہوں کے بیانات سب انسپکٹر نے ریکارڈ کئے تھے،مگر بعد میں جب مذکورہ مقدمے کی تحقیقات ایس پی نے مکمل کی تو اس سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156 اے کا تقاضہ پورا ہو گیا‘‘۔ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 4میں دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ ’’ اس کیس میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196 کے تقاضے کو پورا نہیں کیاگیا۔‘‘ آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیرا نمبر 25میں ہائیکورٹ کے اس اعتراض کا جواب بھی موجود ہے کہ ’’جب دفعہ 295 اے کے ساتھ دفعہ 295 سی وغیرہ بھی لگی ہوں تو پھر ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کا تقاضہ نہیں رہتا۔‘‘ہائیکورٹ کے فیصلے کے پیرا نمبر 5 میں کیا گیا تیسرا اور چوتھا اعتراض بھی درست نہیں ہے۔ ہائیکورٹ کا اپنے فیصلے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ایف آئی اے نے ملزم سے برآمد ہونے والے سم کی آنر شپ ٹیلی نار کمپنی سے معلوم نہیں کی۔پولیس فائل میں ریکارڈ موجود ہے کہ ایف آئی اے نے ملزم کو حراست میں لینے سے پہلے ہی اس سم کی آنر شپ معلوم کر لی تھی،جس سم نمبر پر بنے واٹس ایپ اکائونٹ سے مدعی مقدمہ کو گستاخانہ مواد بھیجا گیا تھا۔اسی طرح ہائیکورٹ کا اپنے فیصلے میں یہ اعتراض بھی غلط ہے کہ ملزم سے برآمد ہونے والے موبائل فون کو seized نہیں کیا گیا تھا۔پولیس فائل میں ریکارڈ پر 19 جنوری 2023 ء کا seizure memo موجود ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزم سے برآمد ہونے والے موبائل فون کو موقع پر ہی seized کیا گیا تھا۔مزید یہ کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 7 میں پانچواں اور چھٹا اعتراض یہ کیا ہے کہ ’’یہ واضح نہیں کہ جو گستاخانہ مواد مدعی مقدمہ کو موصول ہوا،وہ ملزم نے ہی بنایا تھا اور یہ کہ ایف آئی اے نے اس فیس بک اور واٹس ایپ گروپ کے متعلق کوئی تحقیقات نہیں کی،جہاں یہ سارا معاملہ ہوا اور نہ ہی اس متعلق کہ کیا فیس بک اور واٹس ایپ گروپ دشمن ملک سے چلایا جارہا تھا؟۔‘‘ ہائیکورٹ کے مذکورہ اعتراضات بالکل بے معنی ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ ملزم نے گستاخانہ مواد کسی فیس بک یا واٹس ایپ گروپ میں نہیں سینڈ کیا تھا،بلکہ ملزم نے گستاخانہ مواد مدعی مقدمہ کےواٹس ایپ اکائونٹ نمبر پر سینڈ کیا تھا۔اس کی تمام تفصیل اس درخواست میں درج ہے،جو مدعی مقدمہ نے اندراج مقدمہ کے لئے ایف آئی اے کو 16 جنوری 2023 ء کو دی تھی۔مزید یہ کہ جو گستاخانہ contents ملزم نے مدعی مقدمہ کو سینڈ کئے تھے،وہ کوئی forward message نہیں تھا۔اگر ملزم نے کسی کا forward message مدعی مقدمہ کو سینڈ کیا ہوتا تو جب وہ میسج مدعی کو موصول ہوا تو اس پر forwarded لکھا ہوتا۔جبکہ ایسا نہیں ہے۔دوسری بات یہ کہ ملزم نے اگر گستاخانہ contents کہیں سے کاپی پیسٹ کرکے مدعی مقدمہ کو بھیجا تو بھی یہ جرم ہے۔اگر ملزم نے مذکورہ content کہیں سے کاپی پیسٹ کیا تھا،تو اس کی نشاندہی بھی ملزم نے خود کرنی تھی کہ اس نے کہاں سے یہ content لیا۔جو گستاخانہ content ملزم نے مدعی مقدمہ کو بھیجا،بظاہر یہ واضح ہے کہ وہ ملزم نے خود ہی بنایا۔مزید یہ کہ ایف آئی اے اگر اس واٹس ایپ گروپ کے متعلق مزید انکوائری کرتی،جو گستاخانہ گروپ تھا،جس کا ممبر پہلے سے ملزم تھا تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔لیکن اگر ایف آئی اے نے اس متعلق مزید انکوائری نہیں کی تو اس سے کوئی فرق اس لئے نہیں پڑتا کہ ملزم پر الزام یہ نہیں کہ اس نے واٹس ایپ گروپ میں کوئی گستاخانہ مواد سینڈ کیابلکہ مدعی مقدمہ کی درخواست کے مطابق ملزم پر الزام یہ ہے کہ اس نے مدعی مقدمہ کے واٹس ایپ اکائونٹ نمبر پر گستاخانہ مواد سینڈ کیا۔ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 8 میں ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ ’’جو شواہد ملزم کے خلاف جمع کئے گئے،جس طرح جمع کئے گئے،وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ملزم کے بنیادی حقوق معطل کئے جائیں‘‘۔سنگین ترین جرم میں ملوث ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرنے کے متعلق جو وجہ بیان کی گئی،وہ بالکل غلط ہے۔ملزم کے خلاف تمام شواہد بمطابق قانون ہی جمع کئےگئے۔دوران سماعت فاضل جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے استفسار کیا کہ ملزم نے جس موبائل فون نمبر سے مدعی مقدمہ کو گستاخانہ مواد سینڈ کیا،کیا اس موبائل فون نمبر کی آنر شپ ٹیلی نار کمپنی سے معلوم کی گئی؟کیا ریکارڈ پر ایسے شواہد موجود ہیں کہ جن سے یہ ثابت ہو کہ مذکورہ ملزم نے مدعی مقدمہ کو گستاخانہ مواد سینڈ کیا؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نےفاضل عدالت عظمیٰ کے مذکورہ دونوں سوالات کا جواب اثبات میں دیا۔اس موقع پر بینچ کے سربراہ فاضل جسٹس جمال خان مندوخیل نے مدعی مقدمہ کے وکیل کامران مرتضی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہم وہ غلطی نہیں کریں گے،جو غلطی سندھ ہائیکورٹ نے کی ہے۔ کیا ملزم کو جیل میں رکھنا اصل مقصد ہے یا اسے سزا تک پہنچانا؟اصل مقصد یہ نہیں کہ ملزم کو جیل میں رکھا جائےبلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ اگر ملزم نے جرم کیا ہے تو اسے سزا تک پہنچایا جائے۔ہم ملزم کو سزا تک پہنچانے کے لئے آپ کے کام کو آسان کر دیتے ہیں۔ہم ٹرائل کورٹ کو حکم دے دیتے ہیں کہ وہ مذکورہ ملزم کے خلاف مقدمے کا فیصلہ دو تین ماہ کے اندر سنائے۔
بعدازاں فاضل عدالت عظمیٰ نے مذکورہ ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے متعلق پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کی تمام آبزرویشنز کو حذف کر دیا اور ٹرائل کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ مذکورہ ملزم کے خلاف مقدمے کا حتمی فیصلہ تین ماہ کے اندر سنائے۔سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کرنا تھا،وہ کر دیا لیکن ضرورت اب اس امر کی ہے کہ مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کا مذکورہ گستاخ اپنی آئینی و قانونی سزا سے بچنے کے لئے بیرون ملک فرار نہ ہونے پائے۔اگر گستاخان رسول عدالتوں سے ضمانت پر رہائی پانے کے بعد بیرون ملک فرار ہو کر اپنی آئینی و قانونی سزا سے بچتے رہے تو اس سے عوام پاکستان کا آئین و قانون کی عملداری پر یقین متزلزل اورملک انتشار اور لاقانونیت کا شکار ہو سکتا ہے ۔