Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

قرآن پاک سے تعلق عزت و رفعت کا سبب

اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین ’’دین اسلام‘‘ کو تمام ادیان عالم میں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں تفصیلی ہدایات دی ہیں اور اس سلسلے میں قرآن و سنت کی تعلیمات بہت واضح ہیں ۔یہ تعلیمات قابل عمل اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور خود نبی اکرم ﷺ امہات المومنین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان پر عمل کر کے امت کے لئے روشن راستہ فراہم کر دیا ہے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات سے بے خبر اور ان پر عمل کرنے سے گریزاں ہے ۔اس پس منظر میں شاعر مشرق ،مفکر پاکستان اور اسلامی فلسفی علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا ہے :
خواراز مہجوری قرآن شدی
شکوہ سنجِ گردش دوراں شدی
ترجمہ:’’ اے مسلمان!تو قرآن سے دور ہو کر ذلیل و خوار ہو ا مگر اپنی ذات پر زمانے کی گردش کا شکوہ کرنے لگا ہے ۔’’حقیقت میں قرآن مجید کی تعلیمات کو فراموش کر دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایت سے بیگانہ ہو گئے ہیں،حالانکہ قرآن مجید بار بار انہیں تاکید کرتا ہے‘‘ ترجمہ: ’’اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو۔‘‘چنانچہ قرآن و سنت دونوں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی راہ عمل متعین کرتے ہیں ۔قرآن مجید دنیا کی آسان ترین کتاب ہے ۔قرآن مجید کا بھی یہی دعویٰ ہے ترجمہ: ’’ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان بنایا ہے ۔ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘
حدیث شریف میں ہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ کو سمجھ کر پڑھ لینا ،سو رکعت نفل پڑھنے سے افضل ہے ۔نبی پاکﷺ کی حیات طیبہ قرآن کریم کی عمل تفسیر ہے ۔عاشق رسول ﷺعلامہ محمد اقبالؒنے مسلمانوں کو نصیحت کی ہے :
گر تومی خواہی مسلماں زیستنن
یست ممکن جزبہ قرآن زیستن
ترجمہ:’’اگر تم مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتے ہو تو یہ قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔‘‘ علامہ محمد اقبال ؒ فرماتے ہیں ’’قرآن کریم میں قانون بھی ہے اور تصورات بھی‘‘اس معاملہ میں قابل غور امر یہ ہے کہ قرآن پاک عین فطرت ہے ۔لہٰذا فطر اللہ کا انکشاف جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ۔قرآن کریم ہی کے ذریعے ہوا ۔پھر یہ فطرت اس نظام حیات ہی میں مشہود ہوئی جس کو اس نے دین کہا اور دین کا تقاضا ہے وہ اعمال و عقائد ،جو ہر پہلو سے زندگی کو سہار ا دیتے ہیں اور جن کو اصطلاحا ًشریعت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔لہٰذا ہم کہیں گے قرآن پاک میں قانون بھی ہے اور تصورات بھی ،گو انسان کو تصورات کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قانون کی ۔یہ انسان کی عقل ،اس کا تجربہ اور مشاہدہ ہے جس میں قرآن مجید کا قانون حیات منکشف ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا لیکن وہ قانون حیات قرآن حکیم میں تمام و کمال موجود ہے ۔جب ہی قرآن حکیم نے دعوی سے کہا ہے ترجمہ:’’اور اس جیسی ایک سورۃ ہی لائو‘‘یہ دوسری بات ہے کہ نفس متناہیہ اسے اپنے احوال اور استعداد ہی کے مطابق سمجھ سکتا ہے ۔فرد کی صورت میں تو خطا و صواب کا امکان یکساں ہے ۔اس کا فہم غلطی بھی کر سکتا ہے ۔ لیکن فرض کیجئے !ذہن انسانی اس فطرت کا تمام و کمال احاطہ بھی کر لے جو قانون اور تصورات دونوں کا سر چشمہ ہے جب بھی قرآن حکیم ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہمارے علم اور عقل کو ان مصلحتوں کا اعتراف ہے جو احکام شریعت میں مضمر ہیں ۔
قرآن سرا سر ہدایت ہے اور ہر حالت میں رہنما ،یہ کتاب اللہ ہے اور لفظ کتاب غور طلب ہے ۔ قرآن حکیم قلب کے راستے سے بھی شعور میں داخل ہوتا ہے اور دماغ کی راہ سے بھی سمجھ میں آتا ہے ۔دماغ کی راہ سے سمجھ میں آنے کا مطلب ہے حقائق کا ادراک ،علم اور فکر ،تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں حقائق کا ادراک ہمیشہ سے جاری تھا۔کبھی ایک حقیقت سمجھ میں آتی کبھی دوسری،کبھی جزواکبھی تماما ۔ اب اگر انسان وہ سب حقائق جو اس نے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں حاصل کئے یا جن تک عقل اور فکر کے ذریعے اس کی رسائی ہوئی باہم فراہم کرے اور ایک مربوط و منظم شکل میں پیش کرے تو ان سے قرآن حکیم ہی کے ارشادات کی تصدیق اور ترجمانی ہو گی ۔حقائق کا ادراک ہوتا رہے گا۔ قرآن حکیم ان سب حقائق کا جامع ہے جو ہمارے ادراک میں آچکے ہیں اور ان کا بھی جن کا ادراک باقی ہے ۔ان حقائق کو سمجھنے کی جس طرح کوشش کی جائے اپنی جگہ پر ٹھیک ہے ۔مقصد ہے ان کا سمجھنا اور قبول کرنا ۔لہذا انہیں جس طرح سے بھی سمجھیں یہ قرآن حکیم کا ہی سمجھنا ہو گا۔ اس کی تعلیم سے بہرہ ور ہونا ۔قرآن کی روح آفاقی ہے ،جس میں انفس و آفاق دونوں کو ان کا مقام حاصل ہے ۔قرآن حکیم حیات و کائنات کی ایک جامع تعبیر پیش کرتا ہے ،جس میں عقل بھی ہے اور وحی بھی اسلام کے نزدیک عقل و تدبر کرنے کی اس قدر بار بار دعوت کیوں دی جاتی ہے ۔قرآن حکیم میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیساکہ ایک طاق میں ایک چراغ ۔چراغ ایک شیشے میں ۔وہ شیشہ ایسا شفاف گویا کہ وہ چکمتا ہوا ایک ستارہ ہے ۔‘‘نور کا اطلاق ذات الٰہی کی مطلیقیت کی طرف ہے ،نہ کہ ان کی ہر کہیں موجودگی کی طرف ،کہ جس سے ہمارا ذہن با آسانی وحد الوجود کی طرف منتقل ہو سکتا ہے ۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں