اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق ، سوات میں مبینہ توہین قرآن واقعہ سے متعلق وفاقی ادارے کی رپورٹ سامنے آگئی، جس کے مطابق پولیس کی جانب سے ملزم کو تھانہ منتقل کرنا اہم غلطی ثابت ہوئی، رپورٹ کے مطابق پولیس کی حراست میں ملزم نے توہین قرآن سے انکار کیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ایچ او نے اعلیٰ حکام سے رہنمائی حاصل کی اور نہ ہی ملزم کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، ہجوم کے وقت اعلیٰ پولیس افسران یا سیاسی رہنمائوں کی غیر موجودگی بھی نقصان کا باعث بنی، رپورٹ میں کہا گیا کہ پولیس اور ہجوم کے درمیان تصادم میں 11 عام افراد اور 5پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تھانہ میں پولیس وین، 2موٹر سائیکلیں اور 5گاڑیاں بھی جلائی گئیں۔ ایک بڑے اخبار میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ سانحہ سوات مقامی پولیس کی غلط حکمت عملی کے باعث پیش آیا،ورنہ پولیس اسٹیشن سے ملزم کو زبردستی نکال کر گولی مار دینا کوئی خالہ جی کا ویہڑا نہیں ہے،جب سے سانحہ سوات پیش آیا ہے۔
بعض بوسیدہ خیالات کے حامل دانش فروش اپنا سارا غصہ اسلامی احکامات اور علماء حضرات کے خلاف نکال رہے ہیں،کبھی مذہبی شدت پسندی ،کبھی مذہبی انتہا پسندی اور کبھی مذہبی جنونیت کی بات کی جاتی ہے،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہجوم کو فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے،جہاں تک مذہبی جنونیت اور مذہبی انتہا پسندی کی بات ہے، تو اس میں سوائے الزام کے اور کچھ نہیں ،اب تو پاکستان کے سکولوں کالجوں ، یونیورسٹیوں میں گرل فرینڈز ،بواے فرینڈز کا غلیظ کلچر رواج پا رہا ہے،اب تو ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی اکثریت منشیات نوشی کے اڈوں میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہے،اب تو ایک اسلامی ملک کی بعض یونیورسٹیز میں نام نہاد مسلمان طلبا وطالبات ہولی اور دیوالی منا تے ہیں،اب تو سکولوں کے معصوم بچوں کو گانا اور ڈسکو ڈانس سکھایا جاتا ہے۔
سیکولر لادینیت کے اس متعفن ماحول میں کون سی مذہبی شدت پسندی اور کہاں کی جنونیت؟بلکہ مولانا فضل الرحمن تو بار بار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو سیکولر ملک بنا دیا گیا ہے،مولانا فضل الرحمن کی اس بات کی تردید نہ اسٹیبلشمنٹ نے کی،اور نہ ہی حکومت نے،کیوں کیوں آخر کیوں ؟اس خاکسار نے ہجوم کے فیصلوں کی ہمیشہ مخالفت کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ توہین کے مجرموں کو سزا دلوانے کے لئے قانون کی طرف رجوع کریں،یہاں حکمرانوں سے بھی سوال لازم ہے کہ کیا حکومتی ادارے پاکستان میں مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں کو روکنے میں کامیاب ہو گئے ؟ہر گز نہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ،یار لوگ کہتے ہیں کہ مقدسات اور مقدس ترین ہستیوں کی توہین کے واقعات کے بعد عوام کو اداروں پہ اعتماد کرنا چاہیے ،بالکل درست ،مگر عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر نواز شریف ، زرداری،عمران خان اداروں پہ اعتماد کرنے کے لئے تیار کیوں نہیں ہیں؟یہ جو عدلیہ اور ادارے کے درمیان کھینچا تانی ہو رہی ہے یہ کیا ہے؟کیا قوم پرست اداروں پر اعتماد کرنے کے لئے تیار ہیں ؟جبکہ دوسری طرف پاکستان کے عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ عمران خان کے تاریک دور میں ایک سزا یافتہ گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کو اعلیٰ عدلیہ کے تعاون سے کس ظالمانہ انداز میں ملک سے فرار کروایا گیا۔
تو ہین رسالت کے جرم میں مضبوط شہادتوں کی بنیاد پر ملک کی مختلف عدالتوں سے اب تک 16 گستاخ موت کی سزا کے فیصلے سن چکے ہیں،لیکن حکومت کسی ایک سزائے موت کے ملعون کو بھی پھانسی دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔جب حکومت پر گستاخوں کی رہائی کے حوالے سے آئی ایم ایف اور کبھی ایف اے ٹی ایف کا دبائو ہو گا،جب عوام کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ یہاں ممتاز قادری کو تو پھانسی ہو سکتی ہے مگر کسی گستاخ کو کبھی نہیں،جس پارلیمنٹ کی پیشانی پہ کلمہ طیبہ کنداں ہو،اسی پا رلیمنٹ کے اندر ہم جنس پرستی کے لئے قانون سازی ہو،پھر مسلمان عوام سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے عقائد ،دینی معاملات کے تحفظ کے حوالے سے حکومت پہ اعتماد کریں،ایک لا یعنی سی بحث لگتی ہے،جن گستاخوں کو عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں پہلے حکومت ان سزائوں پر عمل درآمد کروا کر عوام میں اپنا اعتماد تو بحال کرے،یقینا ہجوم کو کوئی حق نہیں کہ زور زبردستی اپنا فیصلہ مسلط کرے،مگر یہ صرف مذہب کے ساتھ ہی مختص کیوں؟کیا حکومتوں کو یہ حق ہے کہ وہ غیر ملکی آقائوں کے اشارے پر زور زبردستی چور دروازوں سے کبھی ہم جنس پرستی کے حق میں اور کبھی ختم نبوت کے قوانین پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں کریں،؟کیا سیاسی ہجوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کبھی سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ آور ہو کر ججوں کو بھاگنے پر مجبور کر دے اور کبھی جی ایچ کیو سمیت دیگر فوجی تنصیبات پر حملے کرے،اگر کوئی کہتا ہے کہ پاکستان میں مقدس ترین ہستیوں کی گستاخیوں کے واقعات رونما نہیں ہو رہے،تو وہ غلط کہتا ہے ،جھوٹ بولتا ہے،کون نہیں جانتا کہ امریکہ ،یورپ ،آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھیلائے گے تمام تر خوف و ہراس کے باوجود ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ ساڑھے تین سو سے زائد گستاخوں کو گرفتار کر چکا ہے،کیا وزیر اعظم پاکستان یا چیف جسٹس سپریم کورٹ عوام کو اس بات کی یقین دہانی کروائیں گے کہ ان گستاخ ملعونوں کو قانون کے ذریعے ان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔