Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

خوشحالی چاہتے ہیں تو سیاحت کو فروغ دیں

آپ نے اپنے اردگرد کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنے مہینے کے اخراجات قرض کی رقم سے پورا کرتے ہیں۔ کبھی کسی سے قرض لیا کبھی کسی اور سے اس طرح وہ اپنے گھر کے اخراجات پورا کرتے ہیں۔ مہینہ کا اختتام ہوتا ہے اگلا مہینہ شروع ہوتا ہے ابتدائی چند روز اچھے گزر جاتے ہیں۔ اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ پچھلا قرض اتارنے میں صرف کرتے ہیں اور باقی سے گھریلو معاملات چلاتے ہیں۔ دو قسم کے قرض ہوتے ہیں۔ قرض بعض اوقات اس وعدہ سے لیتے ہیں کہ جونہی تنخواہ ملی آپ کا قرض اتار دیا جائے گا اور دوسرا قرض کچھ لمبی مدت کے لئے مانگا جاتا ہے اور جب وہ مقررہ مدت پہنچتی ہے تو اگر جیب خالی ہے تو پھر یا تو قرض خواہ سے مہلت مانگ لی جاتی ہے۔ قرض مانگ کر گھریلو اخراجات پورا کرنے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے کہ جن کی آمدنی اس قدر محدود ہے کہ ان کا گزارہ قرض کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا اور تنخواہ کے علاوہ کمانے کے وسائل بھی میسر نہیں۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ جن کی آمدنی معقول ہے مگر اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ قرض لینا ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگوں کے پاس تنخواہ کے علاوہ بھی آمدنی بڑھانے کے وسائل موجود ہوتے ہیں مگر وہ ہڈ حرام ہوتے ہیں آسانی سے قرض مل جاتا ہے اس لئے ان کی عادتیں خراب ہو جاتی ہیں۔ گھر کا ہر فرد عیاشی کرتا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جیسا ہی رقم ختم ہوگی قرض مل جائے گا۔ ان کی پرتعیش زندگی کے لمحات اسی طرح جاری و ساری رہیں گے۔ وہ اتنا ہڈ حرام ہوتا ہے کہ آمدنی بڑھانے کے لئے دستیاب وسائل کو استعمال نہیں کرتا۔
ہمارے حکمرانوں کا تعلق قرض کی رقم پر زندگی گزارنے والے دوسری قسم کے لوگوں سے ہے۔ اس ملک کو آزاد ہوئے 76 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ آزادی کے اگلے سال ہی امریکہ بہادر نے ہمیں قرض کی دلدل میں ایسا پھنسایا کہ ہم آج تک اس سے نکل نہیں پائے، حالانکہ اس دلدل سے نکلنا مشکل نہیں تھا اور نہ ہی اب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس ملک پر خاص انعام ہے۔ ہمارے پاس اپنے بے شمار وسائل ہیں کہ شائد دنیا کے کسی اور ملک کے پاس ہوں۔ یقین مانیے! اگر آزادی کے فوراً بعد ہمارے حکمران ملک میں دستیاب وسائل کو استعمال کرنا شروع کرتے تو آج ہمارا شمار دنیا کے چند امیر ترین ممالک میں ہوتا۔ ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ہر ایک شے وافر مقدار میں موجود ہے۔ صرف حکمرانوں کا اخلاص اور توجہ چاہیے۔ یہ بات دعوے سے کہی جاسکتی ہے کہ جتنا حسن اور خوبصورتی (فطرت کی) ہمارے ملک میں ہے دنیا کے کسی ملک میں بھی نہیں۔ خوبصورت، سرسبزو شاداب پہاڑ، ان کے درمیان بہتے ہوئے دریا، دلکش ندی نالیاں، پہاڑوں سے اترتے ہوئے پانی کا تیز بہائو، برف پوش چوٹیاں کیا دنیا کو کشش دلانے کے لئے کیا ملک کا صرف شمالی علاقہ جات کافی نہیں۔ صرف سیر و سیاحت سے حکومت اتنا کما سکتی ہے کہ ہمارے پاس زرمبادلہ کے وافر ذخائر موجود ہونگے۔ صرف ترجیہات کا معاملہ ہے۔ ہم قرض لے کر گزارہ کرنے اور اس رقم پر عیش و عشرت کرنے کے ایسے عادی ہوچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وافر وسائل کو استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتے۔
چند روز قبل ہمارا سیر وسیاحت کی غرض سے وادی کاغان سے ملحق شاران کے جنگلات جانے کا اتفاق ہوا۔ بالاکوٹ سے آگے کاغان کی طرف سفر جاری رکھتے ہوئے پہلے کیوائی اور پھر پارس کا علاقہ گزرتا ہے۔ پارس کے علاقے میں دریائے کنہار پر چین کے تعاون سے بجلی گھر تعمیر ہو رہا ہے جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ پارس سے شاران کے جنگلات تک رسائی کے لئے جیپ کا سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ تنگ اور پتھریلی سڑک ہے جس پر جیپوں کے علاوہ کوئی اور ذریعہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے 14کلو میٹر کا سفر تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹوں میں طے کیا۔ انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ سفر ہے لیکن شاران کے جنگلات پہنچ کر قدرت کے خوبصورت مناظر دیکھ کر آنکھوں کو ایسی ٹھنڈک ملی کہ سفر کی تھکان دور ہوگئی۔ ان جنگلات میں سیاحوں کے لئے سہولیات فراہم کرنا حکومت کا اولین فریضہ ہے۔ کے پی حکومت نے اس حد تک کام کیا ہے کہ وہاں سیاحوں کے لئے یوتھ ہاسٹل اور چند ہٹس بنا رکھے ہیں مگر ہمیں وہاں پہنچ کر رہائش کے لئے شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ایک تو یہ کہ جو رہائشی سہولت وہال موجود تھی۔ اس کے لئے آن لائن بکنگ کرانا ضروری تھا۔ حالانکہ یہ آگاہی دینا حکومت کا یا متعلقہ ادارے کا فرض ہے اور دوسرا یہ کہ ہم اپنے ساتھ کیمپ لائے تھے اور وہاں موجودہ محکمہ جنگلات کے گارڈز اور پولیس والے ہمیں کیمپ لگانے سے منع کرتے رہے۔ ان کا بیان تھا کہ یہ محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے اس لئے آپ کو یہ سہولت نہیں دی جاسکتی آخر لڑ جھگڑ کر یہ سہولت لے لی۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگر ان حرام خوروں کو ہڈی ڈال دیتے تو مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا تھا۔
حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس قدر دلکش اور خوبصورت مقامات ہیں کہ انسان خود بخود کھینچتا چلا جاتا ہے جیپوں کا سفر جہاں بھی ہے چاہے وہ ناران سے جھیل سیف الملوک ہو، مہانڈری سے ماہ نور وادی ہو، سوات کے علاقے ہوں یا گلگت و بلتستان ہو سفر کو محفوظ اور بے خطر بنایا جائے۔ اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں جس سڑک پر جیپ چلتی ہے سینکڑوں ہزاروں فٹ گہری کھائیاں ہیں مگر کوئی حفاظتی جنگلا یا باڑ نہیں لگی ہوئی۔ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی نہیں مگر حکمرانوں کی ترجیحات میں ذاتی نمود و نمائش اور ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اس کے علاوہ تفریحی مقامات پر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان تفریحی مقامات کی تشہیر اور سیاحوں بالخصوص غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کا فریضہ حکومت کے علاوہ کس کا ہے۔ دنیا بھر میں موجود ہمارے سفارت خانے کیا کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے سفیر ہیں انہیں سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی ٹاسک دیا جائے اور غیر ملکی سیاحوں کو یقین دلایا جائے کہ انہیں جان و مال کے تحفظ کے علاوہ ہر قسم کی سہولت دی جائے گی۔ اگر ہمارے حکمران خلوص نیت کے ساتھ سیاحت کے فروغ اور سیاحتی مقامات پر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنالیں تو آئی ایم ایف کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی عوام کو بجلی کے بلوں جیسا عذاب سہنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں