Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

دوحہ اجلاس اور افغانستان

ایک خبر کے مطابق امارت اسلامیہ کی بحالی کے بعد 1000سکولوں کے لیے نئی معیاری عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ وزارت تعلیم کے ترجمان منصور احمد حمزہ نے کہا کہ امارت اسلامیہ کی بحالی کے بعد 1000 سکولوں کے لیے نئی معیاری عمارتیں تعمیر کی گئیں اور 1500دیگرسکولوں کی عمارتوں کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پورے ملک میں 700فرضی سکولوں کی تشکیل منسوخ کر دی گئی ہے اور اس وقت ملک میں کوئی فرضی سکول، استاد یا طالب علم نہیں ہے۔ پاکستان کا افغان طلبا کو 4500تعلیمی وظائف دینے کا اعلان ایک درست فیصلہ ہے،افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے آصف درانی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے افغان طلبا کو 4500وظائف دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایکس پیج پر لکھا کہ ان وظائف کے ذریعے افغان طلبا اگلے 5 سالوں میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں سماجی اور نیچرل سائنسز کے شعبے میں تعلیم حاصل کریں گے،دوسری طرف افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کے زیراہتمام دو روزہ اجلاس قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گزشتہ روز اختتام پذیر ہوا۔ جس میں امارت اسلامیہ کے علاوہ 25 ممالک اور پانچ بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔امارت اسلامیہ کی جانب سے ذبیح اللہ مجاہد کی سربراہی میں چھ رکنی وفد نے شرکت کی۔
اجلاس میں دو اہم نکات افغانستان کے مالیاتی و بینکاری شعبوں پر عائد یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے، پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ تعاون اور منشیات کے خلاف جنگ اور متبادل ذریعہ معاش پر تمام شرکا نے تبادلہ خیال کیا۔اجلاس کی صدارت کرنے والی اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن و سیاسی امور روزمیری ڈی کارلو نے دو روزہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امید ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کامیاب ہو گی، جس سے گورننس میں بہتری آئے گی۔انہوں نے دوحہ اجلاس کو ’’مفید‘‘ قرار دیا اور قطر کی حکومت کی اچھی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔مسز روزمیری نے کہا کہ اگرچہ یہ دوحہ کا تیسرا اجلاس ہے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ بین الاقوامی برادری اور افغانستان کے حکمرانوں کو اتنی تفصیل سے بات کرنے کا موقع ملا۔اجلاس میں ورلڈ بینک کے نمائندہ نے بھی خطاب کیا اور افغانستان میں بینکنگ سسٹم اور معاشی مسائل کی وضاحت کی اور اس ضمن میں تعاون کرنے کا یقین دلایا۔افغان وفد کے سربراہ نے اپنے افتتاحی خطاب میں افغانستان کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور بلیک لسٹ سے رہنمائوں کے نام نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔علاوہ ازیں بینکنگ سیکٹر پر پابندی ہٹانے اور منشیات کے خلاف جنگ میں تعاون کرنے پر زیادہ توجہ دی گئی جس پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (UNODC) کے نمائندے نے بھی خطاب کیا۔ واضح رہے کہ جب تین سال قبل امارت اسلامیہ نے ملک کا کنٹرول سنبھالا تو افغانستان کے مالیاتی و بینکاری سسٹم پر پابندیاں عائد کر دی گئیں جس کے باعث بینکوں کے ذریعے رقم بھیجنا بہت مشکل ہو گیا ہے جس سے سرمایہ کار اور تاجر زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔اجلاس میں افغان وفد کی جانب سے اکانومی میں پرائیویٹ سیکٹر کی بہتری پر ایک ویڈیو رپورٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد منشیات کے خاتمے کے حوالے سے افغان وزارت داخلہ کے اینٹی ڈرگس ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ اور ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی جس میں امارت اسلامیہ کی تین سالہ کارکردگی پیش کی گئی۔ جس پر اجلاس کے شرکا نے امارت اسلامیہ کی جانب سے آگاہی پر شکریہ ادا کیا اور بہتر کارکردگی کو سراہا۔
اجلاس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے شرکا نے افغانستان کے نجی شعبوں کی مدد کے ساتھ بینکنگ اور اقتصادی شعبوں سے پابندیاں ہٹانے کا یقین دلایا۔انہوں نے اجلاس میں روس، چین، ایران، پاکستان، قازقستان، ازبکستان، کرغزستان، ترکمانستان، امریکہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے موقف کو بھی سراہا اور کہا کہ بیشتر ممالک نے افغانستان کے نجی شعبے کی حمایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے پہلے روز ہم نے شرکا کا موقف سنا اور اپنا موقف بھی ان کے سامنے پیش کیا، بہت اچھے ماحول میں گفت و شنید ہوئی، افغانستان کا موقف سراہا گیا، افغانستان عالمی برداری کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا حامی ہے، عالمی برداری کے جو تحفظات ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم اس کے لئے کچھ وقت درکار ہے، یہ درست نہیں ہے کہ وہ افغان عوام پر پابندیاں لگائیں اور ان پر دباو بڑھائیں جس سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں، ہمارے اس موقف کی تائید کی گئی اور امید ہے کہ ان پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اجلاس میں امریکہ سمیت تمام شرکا نے افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ افغانستان میں کسی قسم کی عسکری کارروائیوں کی حمایت نہیں کریں گے۔انسانی حقوق اور خواتین کی تعلیم سے متعلق بھی اجلاس کے شرکا نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تاہم امارت اسلامیہ کے وفد نے ان پر واضح کیا کہ ہم ان مسائل کو تسلیم کرتے ہیں اور یہ ہمارے ملک کے داخلی مسائل ہیں جن کو حل کرنے کے لئے ہم کوشش کررہے ہیں تاہم افغانستان کی روایات، اقدار اور تہذیب کا بھی احترام کیا جانا چاہیے اور افغانستان کے اندرونی مسائل کو جواز بناکر ان پر پابندیاں عائد کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ خواتین سمیت تمام طبقات ان پابندیوں سے متاثر ہوں گے اور مسائل مزید بڑھیں گے، لہذا بہتر یہ ہے کہ دباو اور پابندیاں لگانے کے بجائے افہام و تفہیم سے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے جس پر اجلاس کے بیشتر شرکا نے اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں