(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن اس نے کہا کہ مجھے حکم ہے، میں امیر کا پابند ہوں، واپس جا رہا ہوں، واپس جا کر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
میں یہ بتا رہا ہوں کہ اقتدار کے لیے کچھ طاقت ضروری ہے اور طاقت کا اظہار بھی ضروری ہے لیکن صرف طاقت تباہی ہے۔ ہم نے جو ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی تو طاقت کے ساتھ ہمارا ایک پورا نظام تھا جس کے تحت ہم نے لوگوں کو عدل اور انصاف فراہم کیا۔ ہم نے وہ نہیں کیا جو اسپین میں عیسائیوں نے قبضہ کرنے کے بعد کیا تھا ۔ ہمارا رویہ یہ تھا کہ ہم اقتدار کے زور پر تم سے کلمہ نہیں پڑھوائیں گے، جی چاہتا ہے تو کلمہ پڑھو ،نہیں چاہتا تو تمہاری مرضی ہے، بہرحال تم یہاں رہو، ہم تمہارے ساتھ عدل اور انصاف کریں گے۔ مغلوں، لودھیوں اور غزنویوں کا یہی رویہ رہا کہ عوام کے ساتھ انہوں نے انصاف کیااور عدل فراہم کیا، جس کی بنیاد پر ہم ایک ہزار سال چلتے رہے۔
آج ہمارا نظام کیا ہے؟ آپ پاکستان اور کسی مغربی ملک میں بدعنوانی اور اہلیت کے حوالے سے تقابل کریں تو نہیں کر سکیں گے، نہ پاکستان کا نہ مصر کا، نہ کسی اور مسلمان ملک کا۔ ہم کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں،ہماری تجارت میں دیانت نہیں ہے، ہماری گفتگو میں انصاف نہیں ہے، اور ہمارے طرز عمل میں رواداری نہیں ہے۔ ہم جہاں ڈنڈی مارنا چاہیں تو ڈنڈی نہیں بلکہ ڈنڈا مارتے ہیں۔ آج کے دور میں جبکہ ہم پسے ہوئے ہیں بین الاقوامی تجارت میں ہمارا کوئی اعتماد نہیں ہے۔ ہم پہلی دفعہ مال صحیح بھیج دیتے ہیں، دوسری دفعہ دو نمبر ،تیسری دفعہ تین نمبر بھیجتے ہیں، اور چوتھی دفعہ وہ منگواتے ہی نہیں ہیں کہ چھٹی کرو۔ اس بات کا اگر آپ تجزیہ کریں کہ بین الاقوامی تجارت میں ہمارا معیار کیا ہے اور کیوں ہے؟ میرا ایک ذوق ہے کہ میں جہاں جاتا ہوں یہ چیز دیکھتا ہوں، میں نے نیویارک اور دبئی کی مارکیٹیں اور سعودی عرب کے بڑے بڑے شاپنگ پلازے دیکھے ہیں کہ وہاں کس کا مال ہے، کیوں آ رہا ہے، کیسے آ رہا ہے؟ پاکستان کا مال کیوں نہیں آرہا؟ انڈیا کا مال کیوں آ رہا ہے؟ چائنہ کا مال کیوں چل رہا ہے؟ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے مال سے لوگوں کو دلچسپی تو ہے لیکن اعتماد نہیں ہے۔ دنیا میں اس وقت بھی بہترین باسمتی چاول اور بہترین آم پاکستان کا ہے، اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، لیکن ہمارا باسمتی چاول انڈیا کی مہر کے ساتھ بک رہا ہے، کیونکہ پاکستان کی مہر پر کسی کو اعتماد نہیں ۔ ملتان اور مظفرگڑھ کا آم دنیا میں جاتا ہے جو انڈیا کی مہر کے ساتھ بکتا ہے کیونکہ انڈیا کا اعتماد بین الاقوامی مارکیٹ میں قائم ہے اور ہمارا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ آج ہم اخلاقیات، دیانت، انصاف اور رواداری میں بہت پیچھے ہیں، جس قوت کے بل پر ہم نے ایک ہزار سال حکومت کی تھی، آج وہ قوت ہم نے کھو دی ہے۔
بہرحال ایک دور وہ ہے جب ہم نے ہندوستان پر حکومت کی لیکن ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد وہ دور ختم ہو گیا تھا۔ تاریخ بالکل ایک نیا رخ مڑ رہی تھی۔ اس سے پہلے اقتدار کی بنیاد قبضہ، طاقت اور قوت ہوتی تھی۔ ۱۸۵۷ء کے بعد ایک نیا نظام سامنے آیا۔ اب مستقبل یہ تھا کہ آئندہ برصغیر میں انگریز جب تک رہے گا حکومت کرے گا، اور جب وہ یہاں سے جائے گا تو یہاں کے اقتدار کا فیصلہ اب بندوق نہیں کرے گی بلکہ آبادی کرے گی۔ جس کی اکثریت ہوگی وہ حکومت کرے گا، جس کے ووٹ زیادہ ہوں گے اس کا اقتدار ہو گا۔ اب پرانا دور گزر گیا کہ خاندان یا طاقت کی بنیاد پر حکومت چلے گی۔ اس بات نے خطرات پیدا کر دیے کہ آئندہ اگر ووٹ پر فیصلے ہونے ہیں، اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر فیصلے ہونے ہیں، تو پھر ہم مسلمان ہندوؤں کے ماتحت ہی رہیں گے کیونکہ اکثریت تو ہندوؤں کی ہے۔ اس خوف اور خطرہ کے نتیجے میں ۱۸۵۷ء کے بعد دو علمی اور فکری تحریکیں اٹھیں، ایک دیوبند اور دوسری علی گڑھ، دونوں دورِ زوال کی پیداوار ہیں۔
دیوبند کے پیچھے خوف کیا تھا؟ ۱۸۵۷ء کے تقریباً دس سال کے بعد دیوبند بنا ، اس کے پیچھے خوف یہ تھا کہ اگر فارسی، عربی اور قرآن و حدیث کی تعلیم باقی نہ رہی تو ہماری اگلی نسل مسلمان نہیں رہے گی، اسلام ختم ہو جائے گا۔ اور ایسا ہو جایا کرتا ہے، اسپین پر ہم نے آٹھ سو سال حکومت کی، اس کے بعد جب ملکہ ازابیلا وغیرہ نے قبضہ کیا اور عیسائی تسلط قائم ہوا تو وہاں کی مسلم آبادی کو ختم ہونے یا تبدیل ہونے میں ایک سو سال بھی نہیں لگا، کیونکہ وہاں اپنے ماضی سے تعلق رکھنے کی کوئی فکری تحریک نہیں تھی۔ ملکہ ازابیلاا اور بادشاہ فرڈیننڈ نے اعلان کر دیا کہ عیسائیت قبول کرو یا ملک چھوڑ دو، ورنہ قتل کر دیں گے۔ چنانچہ اسپین کی ایک بڑی آبادی نے ملک چھوڑ دیا، ایک بڑی تعداد عیسائی ہو گئی، بہت سے لوگ قتل ہو گئے، اور مسلم اندلس پچاس ساٹھ سال میں مسیحی اسپین میں دوبارہ تبدیل ہو گیا تھا۔ شمالی امریکہ کے ممالک میں جو اسپینش آبادی ہے وہ وہی لوگ بتائے جاتے ہیں جنہوں نے سمندر عبور کیا، کچھ راستے میں مر گئے، کچھ وہاں پہنچے۔ آج خود امریکہ میں بھی اسپینش دوسری بڑی قومیت ہے۔ چنانچہ دیوبند کے پیچھے یہ خوف تھا کہ اگر ہم نے یہاں فارسی، عربی ، قرآن مجید کی تعلیم اورمسجد کی آبادی کو قائم نہ رکھا تو ہندوستان بھی اسپین میں بدل جائے گا اور اگلی نسل مسلمان نہیں رہے گی۔ اس خطرہ نے ان بزرگوں کو اس کام پر ابھارا کہ جہاں تک ممکن ہو ہم نے عربی تعلیم، قرآن کی تعلیم ، مسجد کی آبادی ، نماز ، دینی اعمال اور عقائد باقی رکھنے ہیں، محدود سہی لیکن باقی رہیں، تاکہ ہندوستان کو اسپین بننے سے بچایا جا سکے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ یہ بات پورے اعزاز اور فخر کے ساتھ تاریخ کا حصہ ہے کہ دیوبند کے چند اکابر کی سوچ اور اخلاص نے ہندوستان کو اسپین بننے سے بچا لیا، یہ ان کا کریڈٹ ہے۔
علی گڑھ بالکل دیوبند کے متوازی علمی فکری تحریک تھی ۔اس کے پیچھے خوف یہ تھا کہ اگر آنے والے دور میں فیصلے ووٹ نے ہی کرنے ہیں تو اکثریت ہندوؤں کی ہے، ہم اقتدار اور نظام میں شریک نہیں ہوں گےتو ہم پر ہندوؤں کی حکومت ہوگی، اس لیے ہمیں اپنا تشخص الگ کرنا چاہیے ۔ سر سید احمد خان مرحوم نے کہا کہ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ ہم الگ تشخص اور الگ حقوق رکھتے ہیں۔ مغلوں کے آخری دور میں ہندو ابھرے تھے، قوت بنی تھی اور ان میں رد عمل پیدا ہوا تھا کہ ہم پر مسلمان ایک ہزار سال حکومت کرتے آرہے ہیں اور ہم پر ان کا غلبہ ہے۔ چنانچہ مرہٹوں کی قوت ابھرتے ابھرتے دہلی تک جا پہنچی تھی۔ اس کے بعد حضرت شاہ ولی اللہؒ کو متحرک ہونا پڑا تھا، ان کی تحریک پر احمد شاہ ابدالیؒ آیا تھا اور پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کو شکست دے کر ہندو قوت کو جنوبی ہند میں روک دیا تھا۔ چنانچہ ہندو اکثریت کے ذہن میں بھی یہ بات پیدا ہو رہی تھی کہ اکثریت ہماری ہے لیکن ہم پر حکومت ہزار سال مسلمان کرتے رہے ہیں، اس پر ری ایکشن پیدا ہواتھا اور ہندو منظم ہونا شروع ہو گئے تھے۔
اور یہ بھی فطری بات تھی کہ جب انگریزوں نے برصغیر کا نظام سنبھالا تھا تو انہوں نے اقتدار مسلمانوں سے لیا تھا، اس لیے اب آئندہ انہوں نے مسلمانوں کا راستہ روکنا تھا جس کے لیے ہندوؤں کو آگے لانا ضروری تھا۔ انگریزوں کی پالیسی یہ تھی کہ اب ہندوؤں کا جو غصہ ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں آگے لائیں، لہٰذا وہ انتظامی عہدوں، ملازمتوں اور تمام معاملات میں ہندوؤں کو ترجیح دیتے تھے کہ یہ ہزار سال سے پسے ہوئے ہیں ،مسلمانوں کے مقابلے میں یہی معاملات سنبھالیں گے۔ اس صورتحال نے مسلمانوں میں یہ خوف پیدا کر دیا تھا کہ آئندہ ہم ہندؤں کے مغلوب ہو جائیں گے اس لیے ہمیں اپنا امتیاز الگ کرنا چاہیے۔ مسلمان کو بحیثیت مسلمان الگ رکھیں گے تو شاید بچ جائیں، اور اگر مجموعی سوسائٹی میں رہے تو نہیں بچ پائیں گے۔ یہ سرسید مرحوم کا خوف تھا، انہوں نے آواز اٹھائی کہ مسلمانو! انگریزی تعلیم حاصل کرو تاکہ تم نظام کا حصہ بن سکو، عدلیہ اور بیورو کریسی میں جا سکو، اگر تم انگریزی تعلیم حاصل نہیں کرو گے تو تمہاری کوئی ملازمت نہیں ہوگی اور تم ’’کمی‘‘ ہو جاؤ گے، ہندو انگریزی تعلیم حاصل کر کے سارے نظام پر قبضہ کر لے گا اور تمہارا اس نظام میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ یہ علی گڑھ کا خوف تھا۔
ہم دیوبند اور علی گڑھ کو آمنے سامنے کھڑا کر کے دیکھتے ہیں حالانکہ ہمیں یہ چاہیے کہ ان کو اپنی اپنی جگہ کھڑا کر کے دیکھیں کہ اپنی جگہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اپنی جگہ اِن کا خوف بھی درست تھا اور اُن کا خوف بھی درست تھا۔ اس خوف کا مقابلہ کرنے کے لیے سر سید احمد خان نے دو باتوں کو مہم بنایا۔ ایک تو یہ کہا کہ انگریزی تعلیم حاصل کرو تاکہ دفتری اور عدالتی ملازمتیں حاصل کر سکو اور نظام کو سنبھالنے میں آگے بڑھو کہ ہندو بالکل تم پر مسلط ہی نہ ہو جائے۔ دوسرا ۱۸۵۷ء کے نتائج میں ایک بات یہ تھی کہ فارسی زبان بالکل ختم ہو گئی تھی اور انگریزی سرکاری زبان بن گئی تھی۔ انگریز کی کوشش تھی کہ انگریزی کو پورے ملک کی زبان بنا دیا جائے، جو ابھی تک نہیں بن سکی۔ تب دو زبانوں کا مقابلہ شروع ہوا ہندی سنسکرت کا اور اردو کا۔اردو مستقل زبان نہیں تھی، یوں سمجھ لیں جیسے اب انگریزی کے غلبے کے بعدہم آدھی اردو اور آدھی انگلش بولتے ہیں، اسی طرح اس زمانے میں ترکی زبان ، فارسی زبان اور ہندی زبان سے مل کر شہروں میں جو مخلوط زبان بن گئی تھی وہاں سے اردو کا وجود ہوا۔پچھلے سال میں نے ’’الشریعہ‘‘ میں ایک رپورٹ چھاپی تھی کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بولنے کے لحاظ سے چینی دنیا کی سب سے بڑی اور اردو دوسری بڑی زبان ہے۔ جبکہ پھیلاؤ کے اعتبار سے اردو پہلے نمبر پر ہے، چینی تعداد میں زیادہ ہیں لیکن ایک علاقے میں ہیں، اردو آپ کو امریکہ میں بھی ملے گی، برطانیہ ،افریقہ اور عربوں میں بھی ملے گی، دنیا کا کوئی کونہ ہووہاں اردو ملے گی۔ میں نے ہانگ کانگ میں بھی جلسوں میں اردو میں تقریریں کی ہیں اور کیپ ٹاؤن ، نیویارک، لندن میں بھی۔
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ہماری یہ زبان کی لڑائی بھی ہےجو ہم بھول جاتے ہیں۔ ہماری ایک جدوجہد یہ تھی کہ ہم نے اپنی دینی، عربی تعلیم اور مسجد کے ماحول کو باقی رکھنا ہے، دوسری جدوجہد یہ تھی کہ ہم نے آنے والے نظام میں اپنا حصہ وصول کرنا ہے، اور تیسری جدوجہد یہ تھی کہ ہم نے ہندی کو مسلط نہیں ہونے دینا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد یہ تین لڑائیاں بیک وقت شروع ہوئیں، ان میں سے ایک لڑائی دیوبند نے اور دوسری لڑائی علی گڑھ نے لڑی ہے۔ سر سید کے عقائد کی تعبیر سے یقیناً اختلاف کیا گیا ہے جو بجا ہے، لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اردو کے تحفظ و فروغ اور فارسی کی جگہ اردو کو لانے میں سر سید کا کردار ہے ۔ اور انگریزی نظام میں شامل ہونا، جسے ہم تو اس پہلو سے دیکھتے تھے کہ ہم نے مسلمانوں کو انگریزوں کا ملازم بنا دیا، ٹھیک ہے یہ ہمارا اپنا ایک نقطہ نظر ہے، لیکن اسے اس پہلو سے دیکھیں کہ انگریزوں کے نظام میں مسلمانوں کو ملازمت فراہم کر کے ہندوؤں کے تسلط کو کم کیا ہے، یہ علی گڑھ کا کارنامہ ہے۔