قرآن مجید‘ ایک سراپا اعجاز کتاب ہے اس کا ایک ایک لفظ علم و حکمت کا خزینہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر دو ہر خطہ کے ہر ایک انسان کی مکمل رہنمائی کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ اسلام دشمنوں کی طرف سے اسلام کی بیخ وبن کو ہلا دینے والے خطرناک طوفانوں میں بھی اس کی عظمت و وقار میں رتی بھر فرق نہ آیا‘ اور نہ قیامت تک آئے گا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ جس طرح قرآن مجید ہر مسئلہ میں انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے‘ اسی طرح وہ عقیدئہ ختم نبوت کو بھی بڑے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ ختم نبوت کے ہر پہلو کو کھول کھول کر بیان کرتی اور واشگاف الفاظ میں اعلان کر رہی ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
-1حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے: ’’ ماکان محمد ابااحدمن رجاکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔‘‘ (الاحزاب40)
ترجمہ: محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔‘‘
اس آیت میں رسول اللہﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے اور خاتم النبیین کی تفسیر خود آنحضرتﷺ نے ’’ لانبی بعدی‘‘ کے ساتھ فرما دی‘ یعنی خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور تفسیر نبوی کی روشنی میں تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرتﷺ کے بعد کسی شخص کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی‘ جن حضرات کو نبوت و رسالت کی دولت سے نوازا گیا اور رسول و نبی کے منصب پر ان کو فائز کیا گیا ان میں سب سے آخری حضرت محمد رسول اللہﷺ ہیں۔
علامہ زرقائی شرح مواھب لدنیہ میں آیت مذکورہ کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ اور آنحضرتﷺ کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ سب انبیاء اور رسل کے ختم کرنے والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین‘‘ یعنی آخر النبیین جس نے انبیاء کو ختم کیا یا وہ جس پر انبیاء ختم کئے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنی سے روایت کیا گیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ رسالت و نبوت منقطع ہو چکی‘ نہ میرے بعد کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔
خلاصہ یہ کہ آنحضرتﷺ قیامت تک کے لئے پوری نوع انسانی کے لئے مبعوث فرما گئے ہیں۔ آنحضرتﷺ کی نبوت کا آفتاب عالم تاب قیامت تک روشن رہے گا۔ آپﷺ کے بعد نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش۔
-2’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نصمتی ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘ (سورہ مائدہ)
ترجمہ: ’’ آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام ہی کو پسند کیا۔‘‘
یہ آیت نبی کریمﷺ کے آخری حج حجۃ الوداع میں جمعہ کے دن 9ذی الحج کو نازل ہوئی اور اس کے بعد آنحضرتﷺ80-81 دن دنیا میں رونق افروز رہے اور اس آیت شریفہ کے بعد حلت یا حرمت کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔
اس آیت شریفہ میں دین کے بہمہ وجوہ کامل ہونے اور نعمت خداوندی کے پورا ہونے کا اعلان فرمایا گیا ہے اور چونکہ قیامت تک کے لئے دن کی تکمیل کا اعلان کر دیا گیا‘ اس لئے یہ اعلان آنحضرتﷺ کے خاتم النبیین ہونے کو بھی شامل ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ’’ یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لئے دین کو کامل فرمایا‘ لہٰذا امت محمدیہ نہ اور کسی دین کی محتاج ہے نہ اور کسی نبی کی اور اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺ کو خاتم الانبیاء بنایا اور تمام جن و بشر کی طرف مبعوث فرمایا۔‘‘
اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ قیامت تک کے لئے تمام انسانوں اور جنوں کے لئے رسول ہیں اور آپﷺ کی تشریف آوری کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔
-3حضرت آدم علیہ الصلوۃ و السلام سے سلسلہ نبوت شروع ہوا تو اعلان ہوا ’’ یا بنی آدم امایاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیتی‘‘ (الاعراف35‘)
ترجمہ: ’’اے اولاد آدم کی ! اگر تمہارے پاس میرے پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے جو میرے احکام تم سے بیان کریں گے۔‘‘
اس آیت میں ایک نہیں متعدد رسولوں کے آنے کی خبر دی گئی لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام جو خاتم انبیا بنی اسرائیل ہیں‘ ان کی زبان مبارک سے یہ اعلان فرمایا گیا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جن کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہوگا (صلی اللہ علیہ وسلم) جیسا کہ ارشاد باری ہے:
ترجمہ: ’’اور میرے بعد ایک رسول آنے والے ہیں جن نام (مبارک) احمد ہوگا میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد صرف ایک رسول کا آنا باقی تھا اور وہ ہیں محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ ‘ ان کی تشریف آوری کے بعد قیامت تک ان کے علاوہ کسی نبی و رسول کی آمد متوقع نہیں۔
-4قرآن کریم میں بار بار آنحضرتﷺ سے پہلے کے انبیاء کرام علہیم السلام کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن آپ کے بعد کسی رسول کے آنے کی طرف کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں کیاگیا ۔ مثلا:-1’’وما ارسلنا من قبک من رسول‘‘ (الانبیا52) ترجمہ: ’’اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا۔‘‘
-2’’وما ارسلنا قبلک من رسول ولانبی‘‘ (الحج65) ترجمہ: اور (اے محمدﷺ) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا۔‘‘
-3 ’’وما ارسلنا قبلک من المرسلین‘‘ (الفرقان20:) ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے۔‘‘
اس قسم کی آیات بہت ہیں‘ میں اس نوع کی آیات بتیس ذکر کی گئی ہیں۔
ظاہر ہے کہ اگر آنحضرتﷺ کے بعد کوئی نبوت مقدر ہوتی اور ان نبیوں کے انکار سے امت کی تکفیر لازم آتی تو محالہ وصیت و تاکید ہوتی کہ آنحضرتﷺ کے بعد بھی نبی آئیں گے ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کسی کا انکار کرکے ہلاک ہو جائو۔
پورے قرآن میں ایک بھی آیت ایسی نہیں جس میں بعد میں آنے والے کسی نبی کا تذکرہ ہو‘ معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔