خاندانی نظام درہم برہم ہوچکا ہے، ایک وقت تھا جب معاشرے میں طلاق معیوب سمجھی جاتی تھی، خاندانی نظام اتنا مربوط تھا کہ ایک وقت بیاہی گئی عورت ہمیشہ کے لئے اسی مرد یعنی اپنے خاوند کے ساتھ رہنی چاہے خاوند اپنی بیوی کو ناپسند ہی کیوں نہ کرتا ہو ، مگر طلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ خلع کا لفظ تو معاشرے میں ویسے ہی اجنبی تھا۔ کوئی بھی اس لفظ سے واقف نہیں تھا مگر آج؟ ہر طرف طلاق کا شور ہے۔ پہلے مرد عورت کو طلاق کے نام سے خوف زدہ رکھتے تھے مگر آج عورتیں خلع کے نام سے مرد کو بلیک میل کرتی ہیں۔ روز بروز طلاق اور خلع کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ عدالتیں دھڑا دھڑ طلاق اور خلع کی ڈگریاں جاری کر رہی ہیں۔ عدالتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ طلاق کے خواہشمند جوڑے کے مابین صلح کر دی جائے مثلاً گزشتہ چھ ماہ کے دوران ضلع راولپنڈی میں عدالتوں کے ذریعے تین ہزار سات سو اٹھارہ طلاق کی ڈگریاں جاری کی گئیں۔ 61خواتین کو صلح پر مائل کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران سات ہزار فیملی کیسز دائر کئے گئے۔ اسی طرح گزشتہ ایک سال یعنی 2023ء کے دوران لاہور شہر میں 13ہزار جوڑوں میں علیحدگی ہوئی۔ یہ مختصر عرصے کے اعدادوشمار ہیں اور وہ بھی محض دو شہروں کے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری سماجی زندگی میں مسائل کتنے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہر سال گھریلو جھگڑے، ناچاقیاں، خانگی مسائل کی شرح گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ جس خاندان میں طلاق معیوب اور ’’حرام‘‘ سمجھی جاتی تھی اب ایسے خاندانوں میں بھی میاں بیوی کے درمیان جدائیاں معمول بن چکی ہیں ایک وقت تھا اگر دو خاندانوں میں ناچاقیوں کی اطلاع ملتی تو خاندان کے بزرگ فوراً مداخلت کرتے اور دونوں کو صلح پر راضی کرتے، مگر آج کل وہ حالات نہیں اول تو بزرگوں والی کہانی ختم ہوچکی ہے اور اگر کسی خاندان میں بزرگوں کی قدرومنزلت ہے ہی تو آج کل کے نوجوانوں کو ان کی باتیں پسند نہیں آتیں۔ اپنی عزت بچانے کے لئے بزرگ بھی کنارہ کش ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کے خاندانوں یعنی میاں بیوی میں تلخی پیدا ہو جائے تو فوراً بات طلاق تک پہنچتی ہے اور دونوں عدالتوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ اگر خاوند اور بیوی میں سے کسی ایک کو دوسرے کا رویہ پسند نہیں آیا یا کسی ایک نے برا بھلا کہہ دیا اور یہ بات گھر میں معمول بن گئی تو پھر علیحدگی میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ زیادہ تر علیحدگیاں شادی کے ابتدائی سالوں میں ہو جاتی ہیں یا پھر اگر اولاد کی تعداد ایک یا دو ہو کیونکہ اگر بچوں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو پھر عورت کا طلاق لینا یا مرد کا طلاق دینا بہت بڑے مسائل کا سبب بنتا ہے۔
معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ بہت سی وجوہات ہیں، سوشل میڈیا اور ٹی وی ڈرامے بھی بہت بڑی وجہ ہیں کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کو گلیمرس ماحول پرکشش دکھائی دیتا ہے۔ پرآسائش ماحول، کشادہ خوبصورت گھر، آرام دہ گاڑی وغیرہ وغیرہ لڑکی اسی لالچ میں امیر زادے سے شادی کی متمنی ہوتی ہے اور لڑکا لڑکی کے حسن پر جان نچھاور کرتا ہے اسے حسین اور خوبصورت لڑکی کی ادائیں پاگل کر دیتی ہیں۔ انہی خوابوں کو سجا کر زندگی کی شروعات کی جاتی ہیں۔ ہنی مون پریڈ کچھ عرصہ تک چلتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ گھر میں توتکار کا ماحول شروع ہوتا ہے۔ دونوں کا مطمع نظر خاندان کو مضبوط کرنا اور آنے والی نسل کے لئے قابل تقلید مثال قائم کرنا نہیں بلکہ اپنی اپنی ذاتی زندگی کو پرتعیش بنانا ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو گھر مضبوط ہوتا ہے، نہ آنے والی نسل کے لئے کوئی مثال چھوڑتے ہیں اور نہ ہی ذاتی زندگی کی عیاشیاں باقی رہتی ہیں۔ تلخیوں کا آغاز ہوتا ہے اور بات طلاق پر ختم ہوتی ہے۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے محبت کی شادیاں رچائی ہوتی ہیں جن کے فیصلوں میں والدین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، طلاق کی شرح کو دیکھیں تو لومیرج میں طلاق کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ عقل و شعور سے عاری محض جذبات کے تحت کئے گئے فیصلے دائمی نہیں ہوتے۔ بالخصوص ایسے فیصلے جس میں والدین کی رضا مندی فیصلہ کرنے کے بعد لی جاتی ہے۔ یہ معاملات صرف ایلیٹ کلاس کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ آج کل کا نوجوان چاہے اس کا تعلق مڈل یا لوئر مڈل کلاس سے بھی کیوں نہ ہو والدین کی پہنچ سے دور ہوچکا ہے۔ اب وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا عادی ہوچکا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے اس کا لازمی اور حتمی نتیجہ ہوتا ہے۔
بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کی ایک اور بنیادی وجہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کو نہ ماننا ہے، ہوسکتا ہے آپ میں سے بہت سوں کو میری اس بات سے اختلاف ہو مگر حقیقت یہی ہے۔ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی کی تلاش کے لئے اسلام نے کچھ معیار بتائے ہیں۔ ہم نے کبھی اس طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا، اگر لڑکی کے لئے لڑکے کا رشتہ تلاش کرنا ہو یا لڑکے کے لئے لڑکی کا اسلام کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس میں انسانیت اور خدا خوفی ہے کہ نہیں، باقی معیار سب بعد کے ہیں۔ مثلاً خاندان کیسا ہے؟ خوبصورتی اور حسن، تعلیم وغیرہ اور یہ بھی یاد رکھیں۔ اسلام میں رشتے کے لئے دولت اور پیسہ کوئی معیار نہیں مگر افسوس کہ ہم رشتہ تلاش کرتے وقت سب سے پہلے جس چیز کو مدنظر رکھتے ہیں وہ دولت اور عہدہ ہے اور یہی وجہ ہے آج رشتوں میں پائیداری نہیں، لڑکے والے کو لڑکی کا حسین ہونے کے ساتھ ساتھ مال و دولت کا حامل ہونا ضروری ہے اور اسی طرح لڑکی والوں کو بھی اپنی بیٹی کے لئے صاحب ثروت لڑکے کی تلاش ہوتی ہے۔
نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ہر گھر میں مسئلے مسائل، پریشانیاں اور اپنی پریشانیوں کی وجہ سے بیماریاںعام ہیں۔اسلام اور اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد تمام مسائل کا حل ہے۔