Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور دینی حلقوں کا اضطراب

(گزشتہ سے پیوستہ)
بابا فریدؒ کے ساتھ ان کے تعلق پر ایک لطیفہ عرض کروں گا کہ ایک دفعہ لندن ساؤتھ آل کے علاقہ میں مجھے بیگ خریدنا تھا، میں ایک سکھ کی دکان پر گیا تو وہاں بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کی فوٹو لگی ہوئی تھی۔ میں نے کہا سردار جی! آپ نے بابا فریدؒ کی فوٹو لگائی ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا آپ انہیں مانتے ہیں؟ میں نے کہا ہم ہی تو انہیں مانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پھر آپ سے بیگ کے پیسے کیوں لینے ہیں، آپ بیگ ویسے ہی لے جائیں۔ میں نے بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ کا ایک عقیدت مند کے طور پر نام لیا تو اس نے مجھ سے بیگ کے پیسے نہیں لیے۔
سکھوں کی مذہبی کتاب میں یہ سب کچھ ملے گا لیکن انہوں نے اپنا نام الگ کر رکھا ہے، وہ مسلمان نہیں کہلاتے، اپنی کتاب کو قرآن نہیں کہتے اور ہماری طرز پر مسجد نہیں بناتے۔ باوجودیکہ قرآن کی بات کرتے ہیں، حدیث کی بات کرتے ہیں، صوفیاء کرام کی بات بھی کرتے ہیں اور بڑے ادب و احترام سے کرتے ہیں، لیکن چونکہ وہ الگ ہیں، اپنے آپ کو انہوں نے الگ کر لیا اور اپنے نام اور شناخت کو الگ کر لیا ہے، اپنی کتاب کو گروگرنتھ کہتے ہیں، اپنی عبادت گاہ کو گردوارہ کہتے ہیں اور اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ لاہور میں سکھ موجود ہیں، یہاں آتے بھی ہیں، لیکن کسی کو اشتباہ نہیں ہوتا کہ یہ مسلمان ہیں، سب انہیں سکھ ہی سمجھتے ہیں۔
جبکہ قادیانی دستوری فیصلہ تسلیم کیے بغیر اپنی عبادت گاہ بنائیں گے تو اسے مسجد کہیں گے، اپنی کتاب کے طور پر قرآن چھاپیں گے، اپنے آپ کو مسلمان کہیں گے اور تمام شعائر مسلمانوں کے استعمال کریں گے جس سے جھگڑا ویسے کا ویسا رہے گا جسے ختم کرنے کے لیے ۱۹۸۴ء کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ۱۹۸۴ء کے صدارتی امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت ضابطہ طے ہے کہ قادیانیوں کے بطور غیر مسلم حقوق ہیں لیکن یہ پاکستان کی دوسری غیر مسلم اقلیتوں کی طرح نہیں ہیں، انہیں اسلام کے نام اور مسلمانوں کے شعائر سے الگ اپنی شناخت بنانی ہو گی۔ اس لیے کہ یہ جب بھی نام لیں گے اسلام کا نام لیں گے، جب بھی کتاب چھاپیں گے تو قرآن چھاپیں گے، جب بھی عبادت گاہ بنائیں گے تو مسجد بنائیں گے تو ہمارا اشتباہ اور جھگڑا بدستور قائم رہے گا جیسے پہلے تھا۔
میں نے عرض کیا ہے کہ یہ دو رکاوٹیں ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ملک کے تمام دینی حلقے عدمِ اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور آج (۳۰ جولائی) کو آسٹریلیا مسجد لاہور میں متحدہ علماء کونسل اور ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کا مشترکہ اجتماع میری صدارت میں ہوا، اس میں ہم نے بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تسلیم نہیں ہے، آپ کو دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا، عدالت عظمیٰ دوبارہ فیصلہ کرے، یا پارلیمنٹ کرے۔
پہلی بات یہ ہے کہ قادیانی ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کے اس فیصلے کو تسلیم کریں۔ اگر وہ تسلیم نہیں کرتے تو پھر جو لوگ دستور و قانون کے فیصلے تسلیم نہیں کرتے ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ جو دستور کو تسلیم نہ کریں، حکومت کی رٹ کو تسلیم نہ کریں تو ان کے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے۔ ہم ملک میں کئی آپریشن کر چکے ہیں اس بات پر کہ وہ رٹ تسلیم نہیں کر رہے۔ حکومت رٹ تسلیم نہ کرنے والے دوسرے طبقوں کے خلاف آپریشن کرتی ہے، ہمیں اس سے انکار نہیں ہے، ہم بھی ساتھ دیتے ہیں، جبکہ قادیانی دستور کی رٹ تسلیم نہیں کر رہے تو ان سے دستور کی رٹ کون تسلیم کروائے گا؟ اور دستور کی اور ریاست کی رٹ تسلیم کرائے بغیر آپ ان کو کیا دے سکتے ہیں؟ لہٰذا عدالت عظمی کو اور پارلیمنٹ کو قادیانیوں سے دستور کو تسلیم کرانے کے لیے کوئی روڈ میپ بنانا پڑے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب وہ دستور تسلیم کر لیں گے تو اس کے بعد ظاہر ہے کہ آپ انہیں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے نام پر مسلمانوں کا نام استعمال کرنے کی اجازت تو نہیں دیں گے، انہیں قرآن پاک کی اشاعت کی اجازت نہیں دیں گے۔ لہٰذا مسئلہ حل کرنا پڑے گا اور میری درخواست ہے کہ گول مول فیصلوں سے اور کنفیوژن سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔
ہماری پورے احترام کے ساتھ عدالت عظمیٰ، پارلیمنٹ اور حکومت سے درخواست ہے کہ یہ دو مسئلے حل کریں تو اس کے بعد باقی مسائل پر بات کر لیں گے، لیکن جب تک یہ دو مسئلے حل نہیں ہوتے اس وقت تک کوئی فیصلہ بھی پاکستان کے عوام کو اور دینی حلقوں کو مطمئن نہیں کر سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں