ہادیٔ عالم، محسن انسانیت حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات مقدسہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہیں۔ آپ کی تعلیمات مبارکہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک حصہ شریعت کے احکام کے بیان پر مشتمل ہے کہ یہ حلال ہے یہ حرام ہے۔ یہ جائز ہے یہ ناجائز ہے۔ یہ فرض ہے یہ واجب ہے یہ سنت ہے وغیرہ، اور دوسرا حصہ مستقبل میں آنے والے حالات اور فتن سے اطلاع کے متعلق ہے اور ان حالات اور فتن میں بحیثیت مسلمان امت نے کیا کرنا ہے۔ اس کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ کی طرح یہ دوسرا حصہ بھی بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ محدثین عظام نے اپنی اپنی کتب میں باقاعدہ ’’ابواب الفتن‘‘ قائم فرما کر ان ساری احادیث کو جمع کردیا ہے جن میں ان فتنوں کا ذکر موجود ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان فتنوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ پر فتن دور میں ایک مومن مسلمان کے لئے ان فتنوں کے شر سے محفوظ رہنے کا مبارک لائحہ عمل بھی دیا ہے۔ اس خاکسار کی کوشش ہو گی کہ ان فتنوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ حضورﷺ نے ان فتنوں کا جو علاج بتایا ہے وہ بھی اوصاف کے قارئین کی نظر کروں۔
حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے اوپر اس طرح فتنے گریں گے جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔‘‘
بارش کے قطروں سے تشبیہ اس لئے دی کہ جس طرح بارش کے قطرے کثرت سے اور مسلسل گرتے ہیں اسی طرح تمہارے اوپر فتنے بھی کثرت سے اور مسلسل آئیں گے۔ ایک فتنہ ابھی ختم نہیں ہوگا کہ دوسرا فتنہ کھڑا ہوجائے گا۔ دوسرے کے بعد تیسرا اور یوں لگاتار فتنے آئیں گے۔
ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’عنقریب اندھیری رات کی تاریکیوں کی طرح تاریک فتنے ہوں گے۔ یعنی جس طرح تاریک رات میں انسان کو کچھ نہیں نظر آتا کہ کہاں جائیں، اسی طرح ان فتنوں کے زمانے میں بھی یہ سمجھ نہیں آئے گا کہ انسان کیا کرے؟ اور کدھر جائے؟ رات کی تاریکی جس طرح پورے ماحول کو گھیر لیتی ہے، اسی طرح وہ فتنے تمہارے پورے ماحول کو گھیر لیں گے۔ پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان فتنوں سے بچنے کے لئے صرف انسان کو اپنی انفرادی کوششوں کا ہی حکم نہیں فرمایا بلکہ تعلیم دی ہے کہ ان فتنوں سے بچنے کے لئے اﷲ سے یوں دعا بھی مانگو:
اللہم انی اعوذ بک من الفتن ما ظہر منہا وما بطن۔
اے اﷲ ! ہم آنے والے فتنوں سے آپ کی پناہ چاہتے ہیں۔ ظاہری فتنوں سے بھی اور باطنی فتنوں سے بھی۔
یہ دعا آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی روزانہ معمولات کی دعاؤں میں شامل تھی۔
فتنوں کے تذکرے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ فتنہ کہتے کس کو ہیں۔ فتنہ فتنہ کی گردان تو ہر شخص کی زبان پر ہے لیکن شریعت کی نظر میں فتنہ کیا چیز ہے؟ اس کا سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ فتنہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ لغوی معنیٰ اس کا یہ ہے کہ سونے یا چاندی وغیرہ کو آگ پر پگھلا کر اس کا کھرا کھوٹا معلوم کرنا۔ یعنی آگ پر گرم کرنے سے اس کی پوری حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ یہ کھرا ہے یا کھوٹا۔ اس لئے اس لفظ کو امتحان اور آزمائش کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انسان پر جب کوئی آزمائش یا پریشانی یا مصیبت آتی ہے تو اس کے اندر کا حال کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ آیا وہ صبر یا شور اور واویلا کرتا ہے۔
شرعی اصطلاح میں فتنہ کا لفظ جس معنی میں استعمال ہوا ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی وقت کوئی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے جس میں حق مشتبہ ہوجائے اور حق و باطل میں امتیاز کرنا مشکل ہو جائے۔ صحیح اور غلط، سچ اور جھوٹ میں فرق باقی نہ رہے۔ جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو شریعت کی نظر میں فتنہ ہے۔ معاشرے کے اندر فسق و فجور گانا بجانا، سود، زنا، غیبت، جھوٹ، چغلی اور دیگر معاشرتی برائیاں عام ہوجائیں یہ بھی ایک فتنہ ہے اور اس سے بڑھ کر یہ فتنہ ہے کہ ان کو جائز اور حلال قرار دینے کے لئے مختلف شیطانی تاویلیں گھڑ کر پروپیگنڈہ کیا جائے۔ اسی طرح جو چیز حق نہ ہو اس کو حق سمجھنا۔ جو چیز شریعت میں کسی چیز کے ثبوت کے لئے دلیل نہ ہو اس کو بطور دلیل پیش کرنا یا سمجھنا۔ جیسے آج کل اگر آپ کسی کو کسی کام سے منع کریں تو عموماً کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ کام تو سب کر رہے ہیں۔ اگر یہ کام ناجائز ہوتا تو اتنے سارے لوگ کیوں کرتے ہیں؟ کیا یہ سارے غلط ہیں اور صرف تم ٹھیک ہو؟ یہ کام تو سعودی عرب میں بھی ہو رہا ہے۔
بقول شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم: آج کے دور میں یہ ایک نئی اور مستقل دلیل ایجاد ہوچکی ہے کہ یہ کام سعودی عرب میں ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام سعودی عرب میں ہوتا ہے وہ یقینی طور پر حق اور درست ہے۔ یہ بھی ایک فتنہ ہے۔ جو چیز حق کی دلیل نہیں تھی اس کو دلیل سمجھ لیا گیا۔
اس طرح مختلف قسم کی جماعتیں دین کے نام پر کھڑی ہوجائیں کہ ہر ایک اپنے آپ کو یہ کہے کہ اصل دین صرف میرے پاس ہی ہے، اب عام آدمی کو پتہ نہیں چل رہا کہ ان میں حق پر کون ہے، اور باطل پر کون ہے؟یہ بھی ایک فتنہ ہے۔
اسی طرح قتل و غارت گری، چوری ڈکیتی بھی ایک فتنہ ہے۔ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں حرج زیادہ ہوجائے گا، صحابہ کرامؓ نے پوچھا یہ حرج کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ قتل وغارت گری، یعنی اس دور میں قتل و غارت گری بے حد ہوجائے گی اور انسان کی جان مکھی اور مچھر سے بھی بے حقیقت اور بے قیمت ہوجائے گی۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
’’لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ قاتل کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا، اور مقتول کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ وہ کیوں قتل کیا گیا؟‘‘
دور حاظر کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھ کر یہ الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔ پہلے زمانے میں قاتل کا پتہ چلے نہ چلے یہ تو پتہ چل جاتا تھا کہ مقتول کیوں قتل ہوا؟ مال کی وجہ سے کسی دشمنی کی وجہ سے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آج کل تو بے شمار قتل ایسے ہوتے ہیں کہ یہ ہی پتہ نہیں چلتا کہ اس بے چارے کا کیا قصور تھا ، اس کو قتل کیوں کیا گیا ؟۔
(جاری ہے)