Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

فتنے اور ان سے بچنے کا طریقہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
مکہ مکرمہ کے بارے میں حدیث مبارکہ : حضور اقدس ﷺ نے فتنہ کے دور کی نشانیوں میں مکہ مکرمہ سے متعلق ایک حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا ۔ اس حدیث کے راوی حضرت عبداﷲ بن عمروؓ ہیں فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایاکہ :
’’جب مکہ مکرمہ کا پیٹ چاک کر دیا جائیگا اور اس میں نہروں جیسے راستے نکال دیئے جائیں گے، اور مکہ مکرمہ کی عمارات اس کے پہاڑوں سے بھی زیادہ بلند ہو جائیں گی، جب یہ چیزیں نظر آئیں تو سمجھ لینا کہ فتنہ کا وقت قریب ہے‘‘۔
یہ حدیث مبارکہ چودہ سو سالوں سے احادیث مبارکہ کی کتب میں لکھی چلی آ رہی ہے شارحین حدیث اس حدیث کی تشریح میں حیران تھے کہ مکہ مکرمہ کا پیٹ کیسے چاک کیا جائیگا؟ نہروں جیسے راستوں سے کیا مراد ہے؟ مکہ مکرمہ کی عمارات کس طرح بلند و بالا پہاڑوں سے بھی بلند ہو جائیں گی؟ کیونکہ ان چیزوں کا تصور بھی محال تھا۔ لیکن آج کے مکہ مکرمہ کو آپ دیکھیں تو ہر طرف اس کے پیٹ کو چاک کر کے سرنگوں کا جال بچھا دیا گیا ہے، مکہ مکرمہ کی عمارات، خاص کر آج کل جو عمارت باب ملک عبدالعزیز کے سامنے وقف ملک عبدالعزیز کے نام سے بن رہی ہے۔ مکہ کے پہاڑوں سے کہیں بلند ہے اور مکہ مکرمہ سے باہر دور دور سے وہ عمارت نظر آتی ہے۔ تو آج کے مکہ مکرمہ کی عمارات اس کے پہاڑوں سے بلند ہو چکی ہیں۔ جن چیزوں کا تصور آج سے کچھ عرصہ پہلے تک محال سمجھا جاتا تھا آج حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں شارحین حدیث کو ان احادیث کی تشریح میں مختلف قسم کی تعبیرات اور تاویلات کرنا پڑتیں، لیکن مخبر صادق ﷺ کی زبانی وحی ترجمان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اپنی صداقت کا لوہا منوا رہا ہے اور یوں لگتا ہے کہ گویا حضورﷺ نے اپنی مبارک آنکھوں سے مشاہدہ فرما کر یہ چیزیں بیان فرما رہے ہیں اور اپنی امت کو قبل از وقت ان فتنوں سے آگاہ فرما کر خطرہ سے آگاہ فرما رہے ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی زبان وحی ترجمان نے بیان فرمائی ہیں ہم گردوپیش کا جائزہ لیں تو صاف محسوس ہوتا ہے ایک ایک بات گویا آپ مشاہدہ فرما کر بیان فرما رہے ہیں، ہمارے موجودہ معاشرے میں یہ تمام باتیں صادق آ رہی ہیں اور اسکے نتیجے میں عذاب کی شکلیں بیان فرمائی گئی ہیں ان سے بھی امت دوچار ہے 8اکتوبر 2005ء کا زلزلہ عذاب ہی کی ایک خطرناک ترین شکل تھی۔ جس نے اہل پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ،سیلابوں کا آندھیوں کا آنا ہر طرف بدامنی اور فتنہ انگیزی کا ہونا عذاب ہی کی مختلف شکلیں ہیں جن سے آج ہم دوچار ہیں۔اﷲ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ایک اور حدیث مبارکہ میں آپ نے فتنہ کے دور کی چار نشانیاں مزید بیان فرمائیں۔
(۱) جب مال کی محبت بہت زیادہ ہو جائے، یعنی ہر وقت مال ودولت کو جمع کرنے کی فکر میں لگ جائے۔پیسہ ہو خواہ جیسا ہو، بخل اور کنجوسی مال کو اﷲ کے راستے میں خرچ کرنے سے مانع ہو جائے۔ صبح تا شام بس ایک ہی دھن ہو ، اور وہ صرف مال کمانے کی دولتمند بننے کی۔
(۲) جب خواہشات نفسانیہ کی پیروی شروع ہو جائے، یعنی نفس نے جو خواہش کی جو تقاضا کیا بس اس کی تعمیل میں مصروف ہو گیا، یہ نہ دیکھا کہ یہ خواہش اور تقاضا جائز بھی ہے یا نہیں یہ کام حلال ہے یا حرام، جس راہ پر نفس مجھے چلانے کی کوشش کر رہا ہے یہ راہ جنت کو جاتی ہے جہنم کو اسکی کوئی پرواہ نہیں بس اندھا دھند نفس کی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہو جائے، نفس نے کہا فلم دیکھنی ہے، تو فلم دیکھ لی نفس نے کہا بدنظری کرنی ہے تو وہ کر لی، نفس کا تقاضا ہوا کہ سودی کاروبار کرنا ہے، رشوت لینی ہے، جھوٹ بولنا ہے، غیبت کرنی ہے کسی کا حق غصب کرنا ہے گانا سننا ہے، کسی غیر محرم سے دوستی کرنی ہے، اس سے گپ شپ کرنی ہے وغیرہ یہ سب نفس کی خواہشات ہیں جن پر وہ چلا کر انسان کو جہنم کا ایندھن بنا دیتا ہے، اﷲ تعالیٰ حفاظت فرمائے، یہ دوسری علامت ہے۔
(۳) جب دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جانے لگے، یعنی آخرت کے بارے میں بالکل بے فکر ہو جائے، اور ہر وقت دنیا کی فکر میں مگن ہو جائے۔ اگر اسکو فکر آخرت دلائی بھی جائے تب بھی متوجہ نہ ہو بلکہ مختلف حیلوں بہانوں سے آخرت اور قبرکی بات تک سننے سے گریزاں ہو جائے، جب کبھی اس سے فکر آخرت کی بات کی جائے تو جواب میں کہے کہ کیا کریں جی مولوی صاحب اس دنیا میں رہنا ہے تو پھر دنیا کی فکر بھی ضرور کرنی ہے، دنیا میں سب کے ساتھ چلنا ہے دنیا سے کٹ کر کیسے چلا جا سکتا ہے، اور بعض بدبخت یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ ’’ یہ جہاں مٹھا اگلا کس ڈٹھا‘‘ یعنی یہ جہاں میٹھا ہونا چاہئے رہی آخرت کی بات تو آخرت کس نے دیکھی، العیاذ باﷲ۔ یہ تیسری علامت ہے۔
(۴) جب ہر آدمی اپنی رائے پر نازاں ہو، گھمنڈ میں مبتلا ہو دوسرے شخص کی بات سننے کیلئے تیار ہی نہ ہو، صرف اور صرف اپنی بات ہی کو قابل ترجیح سمجھتا ہو، کسی اور کی بات کو لائق اعتناء ہی نہ سمجھے، کہ جو میں کہہ رہا ہوں صرف وہی درست ہے، باقی سب غلط۔
آج کل بالخصوص دین کے معاملہ میں یہی خطرناک روش چل نکلی ہے ہر شخص نے دین کے معاملہ میں اپنی ایک رائے متعین کر لی ہے۔ اور وہ اسے ہی برحق سمجھتا ہے جو شخص دین کی ابجد سے بھی واقف نہیں وہ بھی مجتہد بنا ہوا ہے جب بھی دین کا کوئی مسئلہ کوئی عالم دین بیان کرے گا تو وہ جاہل مفتی فوراً جواباً اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کر دے گا، اور کہے گا کہ میری سمجھ کے مطابق یہ بات ایسے نہیں ایسے ہے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات ایسے ہونی چاہئے وغیرہ وغیرہ یہ فتنہ کے دور کی چوتھی علامت جو آپؐ نے بیان فرمائی ۔
ایک اور حدیث مبارکہ میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب میری امت میں پندرہ کام عام ہو جائیں تو ان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اﷲ ﷺ وہ پندرہ کام کون سے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا۔
۱۔ جب سرکاری خزانے کو لوٹ کا مال سمجھا جانے لگے۔۲۔ جب امانت میں لوگ خیانت کرنے لگیں۔۳۔ جب زکوٰۃ کو لوگ تاوان سمجھنا شروع کر دیں۔۴۔ جب آدمی بیوی کی اطاعت کرنے لگے۔۵۔ جب آدمی دوستوں سے اچھا سلوک اور والدین کے ساتھ برا سلوک کرے۔۶۔ مساجد میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو جائیں۔۷۔ قوم کا لیڈر ذلیل ترین آدمی بن جائے۔۸۔ آدمی کی عزت صرف اس لئے کی جائے تاکہ اس کے شر سے بچا جا سکے۔۹۔ جب غنیمت چند ہاتھوں میں رہ جائے۔۱۰۔ شراب پی جانے لگے۔۱۱۔ ریشم کا لباس پہنا جائے۔۱۲۔ گھروں میں گانے بجانے والی عورتیں رکھ لی جائیں۔ اور آلات موسیقی سنبھال سنبھال کر رکھے جائیں۔ ۱۳۔ اس امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن اور تنقید کرنے لگیں۔۱۴۔ شراب کو شربت کا نام دے کر پیا جانے لگے۔۱۵۔ سود کو تجارت کا نام دیا جانے لگے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں