Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

مودی کی لنکا …..اور انتشاریوں کا واویلا

پاکستان کے انتشاریوں کا ستارہ گردش میں ہے ، سوشل میڈیا پر بعض لوگ اس معاملے کو نحوست وغیرہ سے بھی جوڑ رہے ہیں کہ جس طرح بعض ستاروں کی نحوست اثرات رکھتی ہے ، اسی طرح انتشاریوں کی حمائت بھی اثرات رکھتی ہے ، جس کا نام لیا وہی ڈوبا ۔کہنے والے تو مہاتیر سے شروع کرتےہیں لیکن وہ در دراز کا معاملہ ہے ، پڑوس میں ہی دیکھ لیں کہ مجیب کو ہیرو بنا کر پوجنا ابھی شروع ہی کیا تھا کہ حسینہ کا بت’’ رضا کار ‘‘ کے نعروں کے ساتھ زمین بوس ہوگیا اور اب وہاں سے بھارت اور مجیب کی ہر نشانی کو کھرچ کر مٹانے کا عمل جاری ہے۔ لے دے کہ مودی ماڈل بچا تھا ، یوم آزادی کے پر مسرت موقع پر بھی نسل کی شناخت پر شرمندہ لوگ جعلی آئی ڈیز کے ساتھ سوشل میڈیا پر مودی کی پرستش کرتے رہے ، بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی کہ ’’ہم یوم آزادی کیوں منائیں ، مودی کا بھارت پاکستان سے اچھا ہے ۔‘‘ خدشہ تھا کہ کوئی ولدیت کے خانے میں تبدیلی کی درخواست ہی نہ دائر کر ڈالے کہ عالمی سطح پر مودی کی لنکا ڈھانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔بھارتی میڈیا اور عالمی ادارے مودی ماڈل کی کیا گت بنا رہے ہیں ، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمالیں ، ہم کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔’’امریکہ میں قائم شارٹ سیلر فرم ہنڈن برگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ مودی کے ارب پتی دوست گوتم اڈانی کے گروپ کے آف شور فنڈز میںسیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کی مارکیٹ ریگولیٹر مدھابی پوری بچ کا حصہ ہے ۔ ہنڈن برگ ریسرچ کی اس چشم کشا رپورٹ پر بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب مودی حکومت پر کڑی تنقید کی گئی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیاجارہاہے۔ ہنڈن برگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق مودی سے قریبی تعلقات رکھنے والے ارب پتی بھارتی خاندان نے خفیہ طور پر بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے حصص خریدے اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کی چیئرپرسن مدھابی پوری بچ اور ان کے شوہراڈانی گروپ کے مبینہ مالی بدانتظامی سے منسلک آف شور کمپنیوں میں حصہ دار ہیں۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس پارٹی کے رہنماء راہل گاندھی نے ہنڈن برگ کی حالیہ رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اڈانی گروپ کے خلاف مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تحقیقات سے کیوں خوفزدہ ہیں۔راہول گاندھی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے الزام کے بعد سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج بورڈ کی چیئرپرسن نے ابھی تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا ۔انہوںنے کہاکہ سرمایہ کاروں کی محنت سے کمائی گئی رقم ڈوب گئی تو کون جوابدہ ہوگا۔انہوں نے سوال کیاکہ اتنے بڑے انکشافات پربھی کیا سپریم کورٹ خاموش رہے گی؟کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہنڈن برگ کی حالیہ رپورٹ سے بھارت کی ساکھ متاثر ہور ہی ہے اور مودی حکومت کو فوری طورپر اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔ ہنڈن برگ رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کیلئے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت بھی دائر کی گئی ہے ۔ درخواست میں اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے خلاف ہنڈن برگ ریسرچ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیاہے ۔ گزشتہ سال جنوری میں بھی ہنڈن برگ کی جانب سے اڈانی گروپ پر کارپوریٹ تاریخ کا سب سے بڑے دھوکے کا الزام عائد کیاگیا تھاجس کے بعد اڈانی گروپ کی مارکیٹ ویلیو میں 86ارب ڈالر کی کمی ہوئی تھی۔‘‘
ایک طرف یہ اربوں کھربوں کے چکر ہیں تو دوسری جانب بھارتی ترقی کا چورن بیچنے والے وہاں کے مزدوروں کی حالت بھی ملاحظہ فرمالیں ، شائد کچھ افاقہ ہو سکے ۔ ایک عالمی ادارے کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ سال بھارت میں تقریبا 1 لاکھ 64 ہزار خود کشی کے واقعات رونما ہوئے اور ان میں سے 42 ہزار خودکشی کرنے والے یومیہ مزدور ہیں۔ یعنی بھارت میں اپنی جان لینے والے ہر 4 میں سے ایک شخص یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور ہوتا ہے۔ دلی کے ماہر نفسیات اچل بھگت نے بتایاہے کہ بھارت میں خود اپنی جان لینے والے افراد کی تعداد میں نمایاں طورپراضافہ ہوا ہے ۔ تاہم یہ تعداد بتائے گئے اعداد وشمار سے بھی کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غربت کئی طرح سے دماغی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت میں خودکشی کے رجحانات میں اضافے کی وجہ بیروزگاری، غربت، قرض اور اجرتوں میں کمی جیسے مسائل ہیں۔اچل بھگت نے خود کشی کے بڑھتے واقعات کے محرکات کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ روزانہ کی بنیاد پر اجرت پر کام کرنے والے افراد کو اس بات کی پریشانی رہتی ہے کہ وہ اتنی کم رقم میں اپنے اہلخانہ کی کفالت کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے افراد پدرانہ معاشرے میں ایک مرد ہونے کے ناطے اپنے کردار کو پورا نہ کرنے پر احساس جرم کا شکار ہوتے ہیں۔بھارت میں نصف سے زائد مزدور روزانہ صرف دو سو سے چار سو روپے ہی کما پاتے ہیں۔عظیم پریم جی یونیورسٹی اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کے اشتراک سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی آمدنی میں شدید کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں غربت میں بھی اضافہ ہوا۔ خواتین اور کم عمر مزدور اس صورتحال سے ناقابل تلافی حد تک متاثر ہوئے۔ خودکشی کی روک تھام کے بارے میں انڈین فائونڈیشن کے بانی نیلسن ونود موسی نے بتایا ”ذریعہ معاش کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کو اکثر نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ ان کے پاس کوئی بچت نہیں ہوتی اور وہ قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔”ماہر نفسیات ٹینا گپتا، نے جرنل آف ایپیڈیمولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کی اجرت میں ایک ڈالر کا اضافہ خودکشی کی شرح میں 3.5سے 6 فیصد تک کی کمی ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کم اجرت اور خودکشی کے خطرات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔نئی دہلی کی ایک اور ماہر نفسیات انجلی ناگپال نے بتایا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اکثر لوگ اپنے خاندان کے اہم کمانے والے ہوتے ہیں۔‘‘ یہ ہے دمکتا بھارت، بہتر ہوگا کہ مودی کے یار بوریا بستر سمیٹیں اور وہیں جا رہیں ، ویسے بھی مودی نے اعلان تو کرہی رکھاہے کہ مسلم ممالک سے آنے والے اس کے’’ ہم فطرت ‘‘لوگوں کو فوری شہریت مل جائے گی ۔ پاکستان میں رہتے ہوئے مودی کی یاری ممکن نہیں ، آنے والے دنوں میں مزید مشکل ہوجائے گی ۔

یہ بھی پڑھیں