Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

پاکستان کا شکوہ؟

کراچی سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں 77 واں یومِ آزادی ملی جذبے اور جوش و خروش سے منایا گیا، پرچم کشائی اور جشن آزادی کی مناسبت سے خصوصی تقاریب منعقد ہوئیں، شہریوں نے بھی اپنے گھروں کو جھنڈیوں سے سجا یاجبکہ سبز ہلالی پرچم چھتوں پر لہرائے۔دن کا آغازاسلام آباد میں 31، صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ مساجد میں ملکی سلامتی، خوشحالی، امن و امان کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی پروقار تقریب ہوئی جس میں عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں قومی ترانہ پڑھا گیا، تقریب میں موجود عوام نے بڑی تعداد میں ہاتھوں میں قومی پرچم تھام رکھے تھے، تقریب کے دوران نوجوانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا،14اگست کے دن یہ خاکسار حیدر آباد میں تھا،اہلیان حیدرآباد نے بھی جشن آزادی منانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،حیدرآباد کی چھوٹی بڑی عمارتوں کو سبز ہلالی پرچموں سے سجایا گیا تھا،لطیف باد گدوچوک پر واقع سوغات شیریں میں پاکستان کی 77ویں سالگرہ کا با قاعدہ کیک کاٹا گیا،حیدرآباد میں جہاں گرمی اپنے جوبن پہ تھی،وہاں یوم ازادی کی خوشیاں منانے والوں کا جوش و جذبہ بھی دیدنی تھا، یقینا 77 سال قبل بے شمار قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں ’’پاکستان‘‘ی شکل میں ایک عظیم نعمت سے نوازا ، ’’پاکستان‘‘کہ جس کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا ، ’’پاکستان‘‘کہ جس کا خواب شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے دیکھا تھا،قائد اعظم محمد علی جناح ؒکے نزدیک جس پاکستان کا دستور اور منشور قرآن وسنت کے سوا کچھ نہ تھا ۔
سوال یہ ہے کہ 77 برس کا بوڑھا پاکستان اگر آج بھی اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ترس رہا ہے،اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ برادرم خورشید احمد سلام اور مولا نا سید شاہ زمان شازلی کا اس خاکسار سے سوال تھا کہ آخر پاک سر زمین کو نفاذ اسلام کی دولت سے کب مستفید کیا جائے گا ؟ اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک سے بحیثیت قوم ہم وفا کرنے کے لئے تیار کیوں نہیں ہیں، ہم نے اپنے پیارے پاکستان کوکیا بنانا تھا اور کیا بنا دیا؟ ہم نے آزادی کے وقت جو عہد کیے، جو وعدہ کیے وہ پورے نہیں کیے،بلکہ ان وعدوں کے برخلاف ہی چلتے رہے اور یہ سلسلہ اب بھی ویسے ہی چل رہا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں نہ صرف بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے بلکہ بحیثیت قوم ہم میں بیپناہ خرابیاں اور خامیاں بھی سرائیت کر چکی ہیں۔ آج تک نہ ہم کوئی سسٹم بنا سکے نہ نظام حکومت کو چلانے کا ہنر سیکھ سکے، نہ یہاں انصاف کا نظام ہے، نہ حکومتی مشینری کوئی کام کر رہی ہے، معیشت کا حال برا ہے، کوئی خامی، کوئی برائی ایسی نہیں جو ہم میں موجود نہ ہو۔ آج پاکستان ہم سے پوچھ رہا ہے کہ تم کب تک دھوکا دیتے رہو گے؟ اسلام کے نام پر دھوکا، بار بار اسلام کا نام استعمال کیا جاتا رہا، اس کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا نعرہ لگاتے رہے، قرارداد مقاصد اور آئین پاکستان میں پاکستان کو اسلامی مملکت بنانے اور اسے اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے مطابق چلانے کا وعدہ کیا، لیکن اس پر عمل کبھی نہیں ہوا۔ بلکہ عملاً جو ہم نے کیا، جو آئین پاکستان میں لکھا اس کے برخلاف ہی چلے جا رہے ہیں اور یوں ایک ایسے بگاڑ کا شکار ہوچکے ہیں، جہاں ہمارا آئین کچھ اور کہتا لیکن ہمارا نظام کسی اور ہی طرف چل رہا ہے۔یہ پاکستان سے دھوکہ نہیں تو اورکیا ہے ،ہم نے اس کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا لیکن نہ قرارداد مقاصد پر عمل کیا نہ آئین کی اسلامی شقوں کا نافذ کیا جا رہا ہے۔ آئین مکمل اسلامی ماحول کی فراہمی کی بات کرتا ہے لیکن ہم تو مغرب اور بھارت کے کلچر کی تقلید میں بہت آگے نکل گئے۔
آئین پاکستان کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے ریاست، حکومت، عدلیہ اور پارلیمنٹ کی اہم ترین ذمہ داریاں ہیں لیکن ہمارے اکثر حکمران، سیاستدان، پارلیمنٹیرین، جج، جرنیل اور افسرشاہی انگریز کے نظام اور اسی کی سوچ سے ہی متاثر نظر آتے ہیں۔ آئین کہتا ہے کہ سود کی لعنت کو ختم کرو لیکن ہمارا معاشی نظام آج بھی سودی ہے ۔ اس کے باوجود کہ سود پاکستان کی بنیادوں کو کھائے جا رہا ہے، اس کے خاتمہ کے لئے کوئی سنجیدہ نہیں۔ شراب کی اسلام میں سخت ممانعت ہے لیکن ایک اقلیتی رکن اسمبلی کی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے دہائی کہ اقلیتوں کے نام کے پر شراب کو پاکستان کے گلی محلوں میں مت فروخت کریں۔ کے باوجود نہ عدالت نے اور نہ ہی پارلیمنٹ نے شراب پر پابندی لگائی۔ آئین پاکستان کے مطابق پاکستان کا کوئی قانون اسلامی تعلیمات کے برخلاف نہیں بن سکتا لیکن اسلامی نظریاتی کونسل سینکڑوں ایسے قوانین کی نشاندہی کر چکی جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ ان قوانین کو پارلیمنٹ نے نہیں بدلا۔ آئین پاکستان میں ممبران اسمبلی کے لئے دی گئی اسلامی شرائط پر کوئی عمل نہیں کرتا بلکہ ان اسلامی شقوں کے خاتمہ کی بات کی جاتی ہے۔
پارلیمنٹ کا ہر رکن آئین کے مطابق پابند ہے کہ وہ اسلامی نظریہ پاکستان جو پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے کا دفاع کرے اور اس کے مطابق کام کرے لیکن کتنے ہی ہمارے ممبران اسمبلی نہ صرف کھلم کھلا اسلامی نظریہ پاکستان کی نفی کرتے ہیں بلکہ پاکستان کو ایک سیکولر اور لبرل ملک بنانے کی بات کرتے ہیں۔ آئین پاکستان کہتا ہے کہ پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اسلامی ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگیاں گزار سکیں لیکن ایسا یہاں نہ کچھ کیا جا رہا ہے نہ ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جب اسلام کا نفاذ نہ ہو گا اور اسلامی تعلیمات سے بھی معاشرے کو روشناش نہیں کرایا جائے گا تو پھر معاشرے کے مختلف طبقوں بشمول خواتین، اقلیتوں کے حقوق بھی غیر یقینی رہیں گے۔ یہاں تو ہم مغربی کلچرکی اندھی تقلید میں اتنا آگے نکلتے جا رہے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کسی کو کوئی فکر ہی نہیں۔ پاکستان سے اتنا بڑا دھوکہ کرکے ہم کیسے ترقی اور خوشحالی کی منزل کو حاصل کر سکتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں