(گزشتہ سے پیوستہ)
اسلام محض رسوم، روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ نہیں، ہر وہ مسلمان کے لیے ضابطۂ حیات بھی ہے۔ اسلام میں انسان اور انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مساوات، آزادی اور اخوت اسلام کے اساسی اصول ہیں۔ ہم دستورِ پاکستان بنائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ یہ اعلیٰ آئینی نمونہ ہے۔‘‘
قائد اعظمؒ کی تقاریر، بیانات اور پیغامات میں سے اس نوعیت کے بیسیوں اقتباسات پیش کیے جا سکتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک وکیل کے طور پر اپنے مؤکلوں کی ترجمانی نہیں کر رہے تھے بلکہ اس کامیاب وکالت میں خود ان کے اپنے جذبات اور سوچ بھی شامل تھے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے بارے میں ان کا تصور سطحی اور عمومی نہیں تھا بلکہ وہ اسلام کے دستوری اور معاشرتی کردار کے ساتھ ساتھ مغرب کے فکر و فلسفہ کی کجی اور دنیا پر مغرب کے معاشی نظام کے منفی اثرات سے بھی پوری طرح باخبر تھے۔
جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب سے اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ایک سیمینار کے موقع پر ایک نوجوان نے سوال کیا کہ قائد اعظمؒ کا تصورِ اسلام کیا تھا؟ میں بھی اس مجلس میں موجود تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ قائد اعظمؒ یہ سمجھتے تھے کہ (۱) قانون کی حکمرانی (۲) انسانی حقوق اور (۳) جمہوریت اسلام سے متصادم نہیں ہیں اور یہی ان کا تصور ِاسلام تھا۔ میرے خیال میں یہ کہہ کر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے قائد اعظمؒ کے تصورِ اسلام کی صحیح ترجمانی کی ہے، کیونکہ ان کے بیانات، تقاریر، خطوط اور پیغامات سے یہی بات جھلکتی ہے اور اسلام کے بارے میں قائد اعظمؒ کی یہ اپروچ خلافِ واقعہ بھی نہیں۔
قانون حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ فائنل اتھارٹی فرد کی بجائے قانون ہو، اور ملک کے تمام ادارے اور افراد کسی فرد کی بجائے قانون کے تابع ہوں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام نے ہی فرد اور شخصیت کی بجائے دلیل اور قانون کی حکمرانی کا تصور پیش کیا اور خلفائے راشدینؓ تک کو قانون کا پابند بنا کر فرد کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔
انسانی حقوق کا تفصیل کے ساتھ تصور بھی سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا، اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے عنوان سے حقوق کا ایک متوازن نظام دنیا کو دیا جس میں تمام ضروری سیاسی، معاشرتی، معاشی اور شہری حقوق شامل ہیں۔
اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفۂ اول کے انتخاب میں عوام کی رائے کو بنیاد بنا کر اسلام نے دنیا کو بتا دیا کہ اس کے نزدیک آئیڈیل نظام وہی ہے جس میں حکومت کی تشکیل عوام کی مرضی سے ہو۔ اور یہ تصور پیش کرنے اور اس پر عمل کرنے میں اسلام کو مغرب پر ایک ہزار سال کی سبقت حاصل ہے۔
اس لیے اگر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے بقول قائد اعظمؒ کے تصورِ اسلام کی یہی تین بنیادیں ہیں تو اس میں کوئی بات نئی نہیں بلکہ یہ اصل میں قدیم اسلامی روایات اور تعلیمات ہی کی ترجمانی ہے۔
اس سلسلہ میں مرحوم جنرل محمد اکبر خان (رنگروٹ) کی یادداشتوں ’’میری آخری منزل‘‘ میں درج ایک واقعہ بھی دلچسپی کا حامل ہے۔ جنرل اکبر خان مرحوم قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظمؒ کی موجودگی میں ایک فوجی تقریب کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’مارچ پاسٹ کے وقت ’’اے شاہِ برطانیہ تم سلامت رہو‘‘ کا ساز بجنے لگا۔ ان دھنوں کے بجانے کے خلاف قائد اعظمؒ نے احتجاج کیا تھا اور مجھے حکم دیا تھا کہ آئندہ کسی سرکاری دعوت یا فوجی پریڈ پر مجھے ان دھنوں کو بجا کر خوش آمدید نہ کہا جائے کیونکہ اس سے میرے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ میں نے مسلمانوں کی آزاد مملکت قائم کرنے کے لیے جدوجہد کی، اور اس مملکت کو پانے کے بعد ہم دعا کرتے ہیں کہ برطانیہ کا تاج ہم پر قائم و دائم رہے؟‘‘
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے جذبات کو تو قیامِ پاکستان کے بعد ’’اے شاہِ برطانیہ تم سلامت رہو‘‘ کی دھن سن کر ٹھیس لگی تھی اور اس پر ان کی طرف سے باقاعدہ احتجاج اور متبادل حکم کی نوبت بھی آئی، مگر ان کی وفات کے بعد سے ہم بحیثیت قوم نہ صرف شاہِ برطانیہ بلکہ شاہِ امریکہ کی عظمت و سلامتی کی دھن پر مسلسل رقص کیے جارہے ہیں۔ کیا قائد اعظمؒ کے جذبات کا کوئی حصہ ہمارے دلوں کی حدود میں داخل ہونے کے لیے تھوڑی سی راہ نہیں پا سکتا؟