سورہ الحشر کے تیسرے رکوع کے آغاز میں ایک نصیحت کا سا انداز ہے۔ فرمایا: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہاں ایمان والوں کو تقویٰ کی نصیحت کی جارہی ہے۔یہ نصیحت قرآن مجید میں ہر سطح پر موجود ہے۔ یہ میرے اور آپ کے لئے سب سے زیادہ قیمتی نصیحت ہے۔منافقین کا اصل المیہ ہی یہ تھا کہ ان کے اندر تقویٰ کی کمی تھی‘ خدا خوفی نہیں تھی‘ وہ آخرت کو بھولے ہوئے تھے۔ انہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا۔ لہٰذا نبی رحمت ﷺ کی صحبت میسر آنے کے باوجود فلاح و کامیابی سے محرومی ان کا مقدر ہوئی ۔ عبداللہ ابن ابی ظاہراً مسلمانوں والی تمام عبادات کرتا تھا، لیکن حقیقت میں حضورﷺ سے معاندانہ رویہ رکھتا تھا۔ جیسے آج کے سیکولر لوگوںکو کریدیں تو ان کے دلوں سے اسلام کے حوالے سے غلاظت ہی برآمد ہو گی۔’’تقوی‘‘ کا لفظ قرآن حکیم میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے ،لیکن اس کے حقیقی مفہوم سے عام لوگ بہت کم آشنا ہیں۔ ’’تقوی‘‘ کا ترجمہ اللہ سے ڈرنا کیا جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ بات صحیح ہے، لیکن اس کا اصل مفہوم ڈرنا نہیں،بچناہے۔ دیکھئے، ہم اپنی نمازوں میں اللہ سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وقِناعذاب النار‘ خدایاہمیں بچا لے نار(جہنم) کے عذاب سے’’۔ سورہ الانفال آیت ۵۲ میں فرمایا:‘‘ اور اس فتنے سے بچو جو خصوصیت کے ساتھ انہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں گنہگار ہیں۔ ’’یعنی جب اللہ کا عذاب آئے گا تو عام ہو گا صرف خاص مجرموں پر ہی نہیں آئے گا۔ اسی طرح قرآن مجید میں فرشتوں کی اہل ایمان کے لیے دعا کے الفاظ ہیں: (وقِہِم السیِاتِ ط)(المومن:9)پروردگار (انہیں برائیوں سے بچا لے۔)’’معلوم ہوا کہ لفظ تقویٰ کا بنیادی مفہوم بچنا ہے۔ عام طور پرانسان کا معاملہ یہ ہے کہ جس سے کسی نقصان یا پکڑ کا اندیشہ ہو اس سے بچتاہے۔
قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتابوں میں سارا زور ہی انذار پر ہے۔ قرآن انسان کو اس کا انجام بد یاد دلاتا اور جہنم سے ڈراتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ بچو، ڈرو، اس جہنم سے جو تیار کی گئی ہے نا فرمانوں ، بد کاروں اور کافروںکے لئے ۔’’ا تقوا اللہ‘‘کے معنی ہیں: ’’اللہ سے بچو‘‘۔ اللہ سے بچنے کے معانی ہیں: اللہ کی ناراضی سے بچنا، اس کی نافرمانی سے بچنا، اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرنا ۔اس لیے کہ اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو اللہ کا عذاب مجرموںکا منتظر ہے ،جس کا بار بار قرآن میں اور حضورﷺ کی احادیث میں ذکر آتا ہے ۔
تقویٰ کایعنی اللہ کا خوف اختیار کرو ، اس معنی میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں کوئی ایسی ہستی ہے کہ جس سے انسان ہر وقت خوفزدہ رہے۔یقینا اللہ تعالیٰ قہار بھی ہے، لیکن وہ رحمان اور رحیم بھی ہے۔ اس کے ساتھ ایک بندہ مومن کے تعلق کی کیفیت کچھ ایسی ہے کہ ایک طرف وہ اس کی رحمت کا امید وار رہتا ہے، تو دوسری طرف اسے اللہ کی پکڑ کا بھی احساس ہوتا ہے ۔ ہم دنیا میں بھی دیکھتے ہیں کہ ایک سعادت مند بیٹے کو اپنے شفیق باپ کی ناراضی کا ڈر ہوتا ہے۔رب رحمان و رحیم نے بہرحال قانون جزا و سزا بنایا۔ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان کو یہ حکم دیا کہ میری بندگی کرو۔ یہ دنیا کی زندگی عارضی اور مہلت عمل ہے، اسے میری وفاداری میں گزار و۔ زندگی میں کھائو پیو، لیکن حرام سے بچو، جائز اور نا جائز کو ملحوظ رکھو۔ تمہارے اندر جو جبلی تقاضے اور داعیات رکھے گئے ہیں ،ان سب کے لیے جائز راستہ اختیار کرو۔ اس کا بدلہ یہ ہو گا کہ تمہیں آخرت میںعظیم ترین نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ وہ نعمتیں جو نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں، نہ کسی کان نے ان بارے میں سنا اورنہ کسی دل میں ان کا کبھی خیال ہی پیدا ہوا۔ ساتھ ہی یہ وعید بھی سنادی کہ اگر میری بندگی کی بجائے بغاوت کا راستہ اختیار کرو گے اورمیرے باغی شیطان کے راستے پر چلو گے تومیر ا عذاب بھی بہت سخت ہے ۔ اس سزا سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ تمہار ے اندر تقویٰ ہو، تم گناہوں سے بچو، حرام سے مجتنب رہو، اللہ کی نا فرمانی سے بچو، اور اپنے آپ کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی فکر کرو۔
تقویٰ کی روح اللہ کے سامنے حاضری اور جوابدہی کا خوف ہے۔سورہ النازعات آیات ۰۴۔۱۴ میں فرمایا: ’’اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہااس کا ٹھکانہ بہشت ہے۔‘‘ یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ہماری ہر چیز ریکارڈ ہو رہی ہے۔ ایک توفرشتے بھی سب کچھ ریکارڈ کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ خود علیم و بصیر ہے۔ اسے ہماری نیتوں تک کے بارے میں علم ہے۔ روز قیامت ہم اللہ کی عدالت میں کھڑے ہوں گے تو وہ ہر شے کا حساب لے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ :’’قیامت کے دن اللہ کی عدالت سے کوئی شخص ہٹ نہ سکے گا یہاں تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں کھپائی؟ دین کے علم پر کہاںتک عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا اور اسے کہاں خرچ کیا؟ اپنے جسم(اور جوانی)کو کس کام میں گھلایا؟‘‘ (ترمذی)
اگر انسان یوم جزا کا خیال ذہن میں رکھے اور ہر کام کرنے سے پہلے دیکھے کہ کہیں اللہ کا حکم تو نہیں ٹوٹ رہا، کہیں میں اللہ کو ناراض تو نہیں کر رہا،جو کچھ میں کرنے چلا ہوں، کیااس کا جواب میں اللہ کو دے سکوں گا،توپھر وہ شریعت سے انحراف نہیںکرے گا ،بلکہ اس کا اتباع کرے گا۔ یہی تقویٰ ہے۔ اگرچہ ہم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہم نے کچھ ایسی چیزیں شامل کر دی ہیں جس سے عملاً محاسبہ اخروی کا خوف زائل ہو جاتا ہے، مثلا ًہم کہتے ہیں کہ ہم تو بخشے بخشائے ہیں۔ یہی سوچ درحقیقت یہودیوں کی بھی تھی، جس کی قرآن میں سخت مذمت کی گئی۔ ’’وہ(یہودی بے تامل) دنیائے ادنی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دئیے جائیں گے۔‘‘ (آیت ۹۶۱) اور ’’اور کہتے ہیں کہ(دوزخ کی)آگ ہمیں چند روز کے سوا چھوہی نہیں سکے گی۔’’ (البقرہ آیت ۰۸)
کوئی بہت ہی بدکار اور ظالم ہوتو شاید اسے دنیا کو دکھانے کے لیے چند دن کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے، ورنہ ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جہنم تو دوسرے لوگوں کے لیے ہے ۔آج اِسی طرح کی چیزوں نے ہمیں بھی عمل سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ محاسبہ اخروی کے حوالے سے اس طرح کی بے خوفی حقیقت میں آخرت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔سورہ الانفطار آیات ۷ تا ۵۱میںفرمایا گیا:اے انسان تجھ کو اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکا دیا؟ (وہی تو ہے)جس نے تجھے بنایا اور(تیرے)اعضا کو ٹھیک کیا اور(تیری قامت کو)معتدل رکھا۔ اور جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا ،مگر ہیہات(ہر گزنہیں)تم لوگ جزا کے دن کو جھٹلاتے ہو۔حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں۔عالی قدر( تمہاری باتوں کے( لکھنے والے۔جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں۔ بیشک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے۔ اور بدکردار دوزخ میں۔ یعنی جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے’’ آدمی کہتا ہے کہ اللہ تو معاف کرنے کے لئے بہانہ تلاش کرتا ہے۔ وہ 70 مائوں سے زیادہ رحیم ہے، وہ کیسے سزا دے گا۔ یہ خواہ مخواہ کا ڈراوا ہے۔ یہ انداز فکر جو آخرت فراموشی کا باعث بنے اور آدمی محاسبہ اخروی سے بے خوف ہو جائے یہ دراصل عملًا تکذیب آخرت کے مترادف ہے۔ اس طرح آدمی اللہ کی تعریف نہیں کر تا بلکہ ایک لاکھ سے زیادہ نبی اور سینکڑوں رسولوں نے آ کر جس بات کی خبر دی ہے اس کا انکار کرتاہے۔افسوس کہ آج مسلمانوں کی ایک عظیم اکثریت اپنا مستقبل اسی دنیا ہی کو بنائے ہوئے ہے۔ آگے نگاہ ہی نہیںجاتی۔ ہمارا سارا میڈیا آپ کو یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ تم نے بڑھاپے کے لئے کیاسامان کیا ہے،تا کہ بھرپور عیش و آرام میں اپنا بڑھاپا گزارو۔ اپنی اولاد کے لیے کیا کیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ اولاد کے حوالے سے فکر ہونی چاہیے۔ لیکن اس بات کی کہ انہیں دنیا میں ارب پتی بنانا ہے، بلکہ اس بات کہ انہیں عذاب جہنم سے بچانا ہے۔