Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

دہشت گردی کے بدلتے رجحانات اور خطرات کا تجزیہ

دہشت گرد تنظیمیں جدید ابلاغی ٹیکنالوجی کو بھی ہتھیاروں کی طرح استعمال کرتی ہیں اور بعض اوقات ریاستیں پیچھے رہ جاتی ہیں ، جس کی وجہ سے صورتحال کنٹرول میں کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، دہشت گرد تنظیموں کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کو ہی مانیٹر کیا جائے تو صورتحال کا نہ صرف ادراک ممکن ہے ، بلکہ مستقبل کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ہمارے خطے میں ٹی ٹی پی سب سے بڑا خطرہ ہے ، جسے افغان طالبان کادوست سمجھاجاتا ہے ، لیکن سچ یہ ہے کہ دہشت گرد کسی کا دوست نہیں ہوتا ،لہٰذا ٹی ٹی پی کا افغان طالبان کا دوست ہونا ممکن نہیں ، البتہ وہ صورتحال سے فائدہ ضرور اٹھا رہی ہے ۔ تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں تو ہمارے خطے میں استعماری مفادات کی پیداوار اور آلہ کار کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں ، جنہیں بعض ممالک دوست خیال کرتے ہوئے پناہ بھی دے رہے ہیں ، لیکن سچ یہ ہے کہ جتنی تیزی سے ان تنظیموں میں روابط بڑھ رہے ہیں ، آنے والے وقت میں اگر پورے خطے شمول چین نے مل کر اس عفریت کے خلاف کوئی بڑا قدم نہ اٹھایا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا ۔
داعش خراسان نے اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی اپنی پبلی کیشنز کا بھرپور طریقے سے آغاز کردیا ہے ، ان پبلی کیشنز کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے بیانئے میں بڑی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے ۔ اگست کے پہلے ہی روز ایک میگزین اور ایک ویڈیو جاری کردی گئی ہے ، جس سے داعش کی خطے میں پالیسی کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ اگست کے آغاز پر جاری کیا جانے والا یہ داعش کا اردو زبان کا اب تک پہلا میگزین ہے جس کا نام ان کے انگریزی میگزین کے نام کا ترجمہ ہے۔ داعش خراسان نے اردو پبلیکیشنز کے لئے اپنا ایک اردو زبان میں آفیشیل میڈیا ہائوس بھی سوشل میڈیا پر لانچ کیا ہے ، یہ میگزین اس کی پہلی پراڈکٹ ہے ۔اس میں پاکستان، کشمیر اور افغان طالبان کے بارے میں تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ میگزین کا اداریہ اور پہلا آرٹیکل پاکستان سے متعلق ہے اور اس کا ہدف صرف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بنایا گیا ہے ، مضمون میں پاکستان کے قوم پرست دہشت گردوں کی جانب سے ریاست پاکستان اور اداروں پرلگائے جانےوالے الزامات کو دہرایا گیا ہے۔ بی ایل اے سے لے کر ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کے تمام الزامات داعش نے اختیار کرکے اس میگزین میں سمو دئیے ہیں ۔ افغان طالبان کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر چلنے کا طعنہ اوردیگر سب کچھ ہی شامل ہے ۔ میگزین کا دوسرا مضمون بھی پاک آرمی کے خلاف ہے ، اس میں بھی قوم پرست دہشت گردوں والی زبان استعمال کی گئی ہے اور پنجابی فوج کا طعنہ اور وہ سب کچھ الزام تراشی اس میں شامل ہے ، جو پہلے مضمون میں کسی وجہ سے رہ گئی ہوگی ، وہی سب جو ماہرنگ بلوچ، بی ایل اے یا پی ٹی ایم کہتی ہے ۔ داعش خراسان نے پہلی مرتبہ کشمیر کا بھی ذکر کیا ہے ، اور کشمیر کو چین کے صوبہ سنکیانک سے تشبیہ دی ہے ، مضمون کا عنوان ہے’’کشمیر، مشرکوں کے قبضے میں جنت” اس مضمون میں بھی داعش نے قوم پرستوں کا نکتہ نظر بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہاں چین، پاکستان اور ہندوستان اپنے مفادات کے لیے لڑ رہے ہیں۔ طالبان کے بارے میں ایک تنقیدی مضمون میں طالبان کو “امریکی ملیشیا” کہا ہے اور ان کی حالیہ بین الاقوامی مصروفیات کو صرف داعش کے خلاف حمائت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے ۔ اس مضمون میں داعش نے چین، امریکہ، پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ طالبان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تنقید کی ہے اور طالبان کو عالمی استعمار کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان امریکہ اور چین دونوں کے غلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ۔ اسی روز یعنی یکم اگست کو دہشت گرد داعش نے اپنے پشتو کے آفیشیل میڈیا چینل پر ایک طویل وقفے کے بعد ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو کا عنوان ہے “اسلام کے خلاف جنگ میں طالبان کافروں کے دوست ہیں”۔ ویڈیو میں وائس اوور داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کاہے۔ ویڈیو میں بھی داعش نے طالبان، امریکہ، روس اور چین کو داعش خراسان کے خلاف جنگ میں حمایتی اور دوست قرار دیاہے۔ اس کا فوکس امریکہ پر نہیں بلکہ طالبان چین اور روس سے تعلقات پر تنقید کی گئی ہے ، بعض مناظر سنکیانک کے دکھائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ چین کی حمائت کرکے طالبان اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔
داعش کا یہ اردو میگزین اور پشتو ویڈیو ، دونوں ہی داعش خراسان کی نظریاتی کنفیوژن اور اس کے بدلتے ہوئے اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جس طرح سے میگزین اور ویڈیو میں اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں وہ سب کی سب ماضی میں داعش کی اصطلاحات نہیں ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں