Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

کاش کروڑوں کے انعامات ذاتی جیب سے دیئے جاتے

اگر آپ کی جیب میں 20 ہزار روپے ہوں اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ اس رقم سے میں نے ایک مہینے کے لئے پورے گھر کے اخراجات پورے کرنا ہیں تو آپ کیا کریں گے؟ یقیناً آپ ایک ایک روپیہ سنبھال سنبھال کر خرچ کریں گے۔ آپ کی پوری کوشش ہوگی کہ چاہے گھر میں کنجوسی کرنا پڑے، بچوں کے مطالبات کو رد کرنا پڑے، روکھی سوکھی کھانا پڑے یا مثلاً کوئی اور مشکل جھیلنا پڑے آپ سب کچھ برداشت کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں گے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اگر یہ رقم ختم ہوگئی اور مہینے کے کچھ دن باقی رہ گئے تو باقی ایام فاقوں میں گزریں گے جس سے موت واقع ہوسکتی ہے اس لئے آپ بہرصورت فضولیات سے گریز کریں گے لیکن اس کے برعکس اگر آپ کے پاس مہینے بھر کے اخراجات کے لئے20 ہزار روپے ہیں مگر آپ کو ساتھ یہ بھی امید ہو کہ جیسے ہی یہ رقم ختم ہوگی ادھار لے کر مہینے کے باقی ایام گزارے جاسکتے ہیں تو آپ کا رویہ بالکل مختلف ہوگا۔ اس حالت میں آپ کبھی بھی کفایت شعاری سے کام نہیں لیں گے۔ عیش و عشرت میں زندگی گزاریں گے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ادھار سے کام چل رہا ہے اس لے آپ عیاشی میں کبھی کمی لانے اور کفایت شعاری سے کام لینے کی شعوری کوشش نہیں کریں گے۔
یہی حال اس وقت ہمارے حکمرانوں کا ہے،ہمارےحکمران گھر کے سربراہ ہیں۔ اس مملکت خداداد کوچلانے کی ذمہ داری عوام نےانہی کےہاتھوں میں دی ہے۔ یہ قومی خزانے کے محافظ ہیں۔ قومی خزانے کا استعمال کس طرح کرنا ہے اس کا اختیار ان حکمرانوں کے پاس ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکمران سمجھداری سے کام لیتے ۔ انہیں معلوم تھا کہ ہمارے ملک کی معاشی حالت کیسی ہے؟ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قومی خزانے میں اتنی رقم بھی موجود نہیں کہ جس سے ہم سال بھر تو ایک طرف ایک مہینہ بھی چلاسکیں۔
ریاست ماں جیسی ہوتی ہے عوام اس کی اولاد کی مانند ہے اس کی اولاد بھوک سے بلک رہی ہے۔ خودکشیاں ہو رہی ہیں۔ غربت کے خوف سے لوگ اپنی اولادوں کو قتل کررہے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جون2024 ء تک وفاقی حکومت کا قرض بڑھ کر68914 ارب روپے ہوچکا ہے۔ ملک کی عزت و ناموس گروی رکھ چکے ہیں۔ پوری دنیا میں اسی غربت اور ادھار کی بھیک مانگنے کےسبب پاکستانی سبزپاسپورٹ رسواو ذلیل ہوچکا ہے۔ پاکستانیوں کی قدر و عزت کسی بھی ملک میں نہیں حتی کہ اپنے برادر اسلامی ممالک میں بھی نہیں۔ عرب امارات، سعودیہ اور دیگر اسلامی ممالک انہیں بھکاری سمجھ کر سلوک کرتے ہیں۔ کیا ان تمام حالات سے ہمارے حکمران آگاہ نہیں ہیں؟ کیو ں نہیں … لیکن پھر بھی ہم اپنی حالت بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتے؟ آپ کہیں گےکہ ہمار ے حکمران تو بے چارے ہروقت معیشت کی بہتری کے لئے ہمہ تن مصروف ہیں۔ کیا واقعی ہمارے حکمران معیشت کی بہتری کے لئے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں؟ کم از کم میں تو اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے قطعاً تیارنہیں ہوں کہ ہمارے حکمران معیشت کی بحالی کے لئے سنجیدہ ہیں؟ دلیل کے بغیر بات کرنا مناسب نہیں۔
کالم کے ابتداء میں ،میں نے گھر کی مثال دی آپ اسی مثال کو مملکت خداداد پر لے آئیں اور پھر بتائیں کہ کیا ہمارے حکمران واقعاً معاشی حالت کو درست کرنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔ حکمرانوں کی اپنی حالت دیکھیں،ان کے اللے تللے دیکھیں، ان کے غیر ملکی دوروں پر نظر کریں، قومی خزانے کو بےرحمی سے جس طرح ہمارے حکمران استعمال کررہے ہیں۔ اگر عوام اپنی آنکھوں سے اپنے ملک کے خزانے کو لٹتا دیکھ لیں تو وہ انہیں ایک لمحے کے لئے برداشت نہ کریں۔ کیا وزیراعظم ہائوس کے سالانہ اخراجات میں کمی ہوئی ہے؟ نہیں اضافہ ہوا ہے۔ کیا صدر ہائوس کے اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ کیا وزراء کی تعداد میں کمی دیکھنے کو ملی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ کیا غیر ملکی دوروں میں کمی ہوئی ہے؟ نئی گاڑیوں کی خریداری کا کام رک پایا ہے؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے حکمران ملک کے وفادار اور سنجیدہ ہیں۔
آپ کو تازہ ترین مثال سے سمجھاتا ہوں شائد آپ میری بات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ ابھی حال ہی میں چند روز قبل ارشد ندیم نے اولمپک میں جیولین تھرو میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔ یقیناً ارشد ندیم ہمارے ملک کا فخر ہے اور ہمیں اس نوجوان پر فخر ہے اس کی عزت افزائی اسی طرح ہونی چاہیے جس طرح پاکستانیوں نےکی ہے وہ اس کا بجاطور پر حق رکھتا ہےمگر کیا حکمرانوں کا اس طرح قومی خزانے کو بےدریغ لٹانا جائز ہے؟ وزیراعظم نے 15کروڑ روپے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے 10کروڑ روپے، وزیر اعلیٰ سندھ نے 5کروڑ روپے کیوں؟ ارشد ندیم کو انعامات سے نوازیں اس سے بھی زیادہ دیں مگر قومی خزانے سے نہیں اپنی جیب سے دیں۔ قومی خزانہ امانت ہے یہ کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ کیا عوام صرف بجلی اور گیس کے بل بھرنے کے لئے باقی رہ گئی ہے؟ اور اگر کوئی ان حکمرانوں سے سوال کرے تو اس کی زبان کاٹ دی جاتی ہے اس ملک میں کسی کو بولنے کا بھی حق حاصل نہیں۔ ارشد ندیم کو بھی چاہیے تھاکہ وہ زندہ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے ان حکمرانوں کو برملا کہتا میں قومی خزانے سے ایک روپیہ انعام نہیں لوں گا۔
قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کی تازہ ترین مثال فائر وال ہے۔ لوگوں کی آواز دبانے کے لئے فائر وال کا استعمال کیا جارہا ہے اور اس فائر وال پر20 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں اب آپ ان 20کروڑ ڈالر کو روپوں میں تبدیل کرتے رہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار مثالیں کہ قومی خزانے کو کس بے رحمی سے لوٹا جارہا ہے۔ مگر افسوس کہ کوئی روکنے والا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں