خوش بخت شجاعت سینیٹر رہی ہیں۔ وہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں ایک بہت اچھی debater تھیں۔ ان کا مقابلہ بہت کم مقررین کرسکتے تھے۔ 14اگست کے موقع پر ایف پی سی سی آئی میں ہونے والی ایک تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی انہوں نے ایک ایسی تقریر کی جس نے وہاں موجود لوگوں کو ایک نئے انداز میں سوچنا پرمجبور کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج کل ہرسطح پر پیسے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ پیسے کی حرص نے ایک عام آدمی کے اخلاق کوبھی متاثر کیاہے۔ پیسے کی حرص کی وجہ سے پاکستان میں ہرسطح پرکرپشن زوروں پر ہے۔ پاکستان کو موجودہ حالات میں لانے میں کرپشن کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس کرپشن میں زیادہ تر سیاستداں ملوث ہیں جو ووٹ لینے وقت وعدہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کی بے لوث خدمت کریں گے اور کرپشن میں ملوث عناصر کا سدباب کریں گے اور نوکریوں کے حصول میں میرٹ کو فروغ دیں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کا کام عوام کی خدمت کرنا نہیں ہوتا بلکہ ناجائز طور پر پیسہ کمانا ہوتاہے۔ عوام ان کرپٹ سیاستدانوں کو اچھی طرح جانتے اور پہنچانتے ہیں لیکن کیونکہ عوام کے پاس ان عناصر کی تادیب کرنے کے سلسلے میں کوئی طاقت نہیں ہے اس لئے وہ اس منظر کو دیکھ کر اندر اندر کڑھتے رہتے ہیں اوران کی بربادی کیلئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
پاکستان کو مالی اور معاشی طور پر کمزور کرنے میں ایسے ہی عناصر کاہاتھ ہے۔ جواقتدار حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے اپنا پیٹ بھرتے ہیں، اس کے بعد رشتہ داروں اور پھر دوستوں کا نمبر آتاہے۔ رہ گئے عوام تو ان کاکوئی پرسان حال نہیں ۔ قائداعظم پاکستان کو ایک فلاحی ریاست(welfare state) بناناچاہتے تھے۔ وہ اسلامی مساوات کے زبردست حامی تھے بلکہ بعض جگہ انہوں نے اپنی تقریروں میں اسلامی سوشلزم کا بھی ذکر کیا ہے۔یہی سوچ شہید ملت لیاقت علی خان کی تھی یعنی امیراور غریب کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوناچاہیے جیسا کہ آج دیکھنے میں آرہاہے، لیکن ان کے بعد جو سیاستداں بھی آئے انہوں نے قائداعظم کے افکار کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے مفادات کے حصول کے لئے پالیسیاں تشکیل دیں۔جس کانتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان معاشی ترقی کے لحاظ سے وہ مرتبہ حاصل نہیں کرسکا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھاتھا چنانچہ آج جہاں ہر طرف پیسے پیسے کی رٹ لگی ہوئی ہے، اس وجہ سے کرپشن کا عفریت پیدا ہوا ہے جس نے ملک سے ہرقسم کے اقدار کو پامال کرتے ہوئے صرف پیسہ کو ایمان کادرجہ دے دیا ہے ۔خوش بخت شجاعت نے جس دردمندانہ انداز میں پاکستان کی اس صورتحال کاذکر کیاہے ۔ اس پر جتنا بھی افسوس کیاجائے کم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پیسے کی اس بے لگام حرص پرکون قدغن ڈالے گا؟ ماضی اور حال کی حکومتیں بلاامتیاز اس دوڑ میں شامل رہی ہیں انہوں نے ملک کو مالی اور معاشی طور پر کمزور کرنے اور عوام کو ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کردیاہے۔ اس گھمبیر صورتحال نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو متاثر کیاہے جو پاکستان چھوڑ کر غیر ممالک میں رہنا اور کام کرنے کوترجیحی دے رہے ہیں۔ دوسری طرف پیسے کی حرص وطمع نے اخلاقی اقدار کو شدید متاثر کیاہے۔ آج پاکستان میں اخلاقی اقدار کی تباہی کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جو اقتدار میں رہے ہیں اور طاقتور حلقوں سے تعلقات استوار کرکے جہاں اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کی ہے وہیں کرپشن کے ذریعے اپنی جائیدادوں میں غیر معمولی اضافہ کیاہے۔ ان ہی لوگوں نے پاکستان کے عوام کے وسائل کے بیدردی سے لوٹ کر اپنا خزانہ بھرا ہے، ان عناصر سے پاکستان کے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھینس کے آگے بین بجانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اس طرح مملکت کے کاروبار کو احسن طریقے سے چلایاجاسکتاہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتاہے اور نہ ہی موجودہ فرسودہ سیاسی ومعاشی نظام بہت عرصے تک چل سکتاہے۔ احتساب کاعمل صرف چند افراد تک محدودنہیں ہوناچاہیے بلکہ اس میں انہیں بھی شامل کرناچاہیے جوماضی اور حال میں اقتدار میں رہے ہیں اور بڑی چالاکی اور عیاری سے کرپشن کرکے پاکستان کی دولت کو بیرونی ممالک منتقل کررہے ہیں۔
میں یہ سب کچھ اس لئے لکھ رہاہوں کہ 14اگست کو خوش بخت شجاعت نے جو تقریر کی تھی اس میں انہوں نے مطالبہ کیاتھا کہ کرپشن کرنے والوں کو سخت سزائیں کیوں نہیں دی جاتی ہیں؟ تاہم یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ان پر حکومت وقت ہاتھ ڈالنے سے گھبراتی ہے بلکہ ان کے ساتھ شامل ہوکر وہی کچھ کرتی ہے جو پاکستان اور اس کے عوام کے مفاد نہیں ہوتاہے۔
آج پاکستان کو قائم ہوئے 77سال ہوگئے ہیں لیکن ترقی اس لحاظ سے نہیں ہوسکی ہےجس کا خواب قائداعظم نے دیکھاتھا۔ اس کی بڑی وجہ حکمرانوں کی جانب سے کرپشن کاارتکاب تھابلکہ نوازشریف صاحب نے 1988 میں ایک قانون بنایاتھا جس کے تحت پاکستانی سرمایہ بیرونی ممالک سے منتقل کیاجاسکتاہےچنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس کے منفی اثرات سے پاکستان آج تک چھٹکارا نہیں پاسکاہے۔ مزید براں پیارا پاکستان ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور شاہانہ اخراجات کی وجہ سے اتنا مقرض ہوچکاہے کہ اس سے چھٹکارا پانا ناممکن ہے۔ قرضے لیکر مملکت کا کاروبار چلانا کوئی دانش مندی نہیں ہے بلکہ یہ تباہی وبربادی کا کھلا ہوا راستہ ہے جس سے آج پاکستان کے عوام دوچار ہیں۔ اس لئے اگر پاکستان کو قائداعظم کے افکار کے تحت چلانا ہےتو حکمرانوں کو کرپشن سے توبہ کرنی ہوگی۔ سادگی اختیار کرتے ہوئے عوام کی معاشی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔ ورنہ قائداعظم کا پاکستان سے متلعق تصور ذاتی مفادات کے حرص میں اپنی شناخت کھودے گا اور ہر طرف پیسہ پیسہ کی گونج کرپشن کو مزید تقویت پہنچائے گی۔