(گزشتہ سے پیوستہ)
نمبر10:آرمی ویلفیئر ٹرسٹ ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے جو کہ حکومت پاکستان کو ٹیکس دیتا ہے۔ اس ادارے میں فوج سے 44 سال کی عمر میں ریٹائر ہونے والے 90فیصد افسران کو دوبارہ ملازمت دی جاتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس کسی بھی سول محکمے میں ملازمین کو 60 سال عمر سے پہلے ریٹائر نہیں کیا جاتا۔
نمبر 11:فوجی افسران کے بارے سب سے بڑی اور عام غلط فہمی یہ پھیلاء جاتی ہے کہ یہ صرف ایف اے پاس ہوتے ہیں۔ فوج کے تمام افسران کیلئے گریجویشن ضروری ہے۔ وہ ملٹری اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے دو سال اندر گریجویشن یعنی بی ایس کی ڈگری حاصل کرلیتے ہیں۔ بی ایس کا یہ پروگرام بھی 4 سال کا ہے جو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے پی ایم اے میں 2 سال اور باقی سروس کے پہلے 2 سال۔ اس کے علاؤہ کچھ ٹیکنکل شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افسران کو انجینئرنگ کے مختلف فیلڈز میں ملک کی چوٹی کی جامعات سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری کروائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ملکی اور غیر ملکی کورسز،کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور اعلیٰ تعلیم کیلئے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ایم ایس کی ڈگری حاصل کی جاتی ہیں۔ باقی دنیا بھر میں پاک فوج کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارت کی داد دی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ سب کسی ایف اے پاس کے بس کی بات نہیں کے عالمی‘قومی منظر نامے پر ہر فورم پر پر اعتماد ہو کر ملک کی نظریاتی اساس کا دفاع کر سکے۔
نمبر 12:فوج میں یہ بلڈی سویلین جیسا جملہ بولنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی کیونکہ آج کی پاک فوج میں 90 فیصد سے زائد وہ ہیں جن کے والدین سویلین ہیں۔ جو باقی دس فیصد فوجی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں انھیں اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے جذبات اور خاندانی پس منظر کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ فوجی ڈسپلن اور تربیت کی بناء پر ایسی بداخلاقی کرنے کا سوچتے بھی نہیں۔
نمبر13: ہر بڑے ادارے کی طرح فوج میں بھی کبھی کبھار ایسے لوگ شامل ہو جاتے ہیں جو اپنی ذاتی فعل کی بناء پر ادارے کیلئے بھی باعثِ تشویش بن جاتے ہیں۔ سول اداروں کے بر عکس جہاں پاکستان سول سروس کے افسران کو نوکری سے برخاست کرنے کی مثال شاذو نادر ہی ملتی ہے۔ پاک فوج نے اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کی بناء پر حالیہ کچھ سالوں میں 200 سے زائد افسران کو نوکری سے برخاست کیا ہے اور سخت سزائیں دی ہیں۔ جرائم جیسا کہ عہدے کا ناجائز استعمال اور کرپشن فوج میں ناقابل قبول ہے مگر ادارے کے وقار کو مرکوز خاطر رکھتے ہوئے ان سزائوں کی عوامی سطح پر تشہیر نہیں دی جاتی۔
نمبر14: پاک فوج اور اس کے افسران و جوان اسی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ اپنے ملک کی مجموعی صورتحال اور مسائل سے بخوبی واقف بھی ہیں اور ان مسائل کا سامنہ بھی کرتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو یا کرونا کے باعث لاک ڈائون ہوں ان سب کافوجی چھاؤنیوں پر برابر نفاذ کیا جاتا ہے۔
نمبر 15:فوجی چھاؤنیوں میں نظر آنے والی صفائی اور نظم ونسق کی وجہ اضافی وسائل نہیں بلکہ اعلیٰ تنظیم اور حکام اعلیٰ کی نگرانی اور توجہ ہے۔ جبکہ سول میٹروپولٹن کارپوریشن میں افرادی قوت ہونے کے باوجود ان خصوصیات کا فقدان نظر آتا ہے۔
نمبر 16: دفاعی بجٹ کے بارے میں منفی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ شاید پاکستان کی ضروریات سے بہت زیادہ ہے اور بجٹ کا 80 فیصد حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے موجودہ بجٹ میں دفاع کا حصہ 20 فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ ہمارے پڑوسی دشمن ملک کا دفاعی بجٹ دس گنا بڑا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم نے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنالیا ہے۔ جس بجٹ کو زیادہ سمجھا جاتا ہے اس کے بارے میں جان لیں کہ پاکستان کے فی فوجی جوان اخراجات دنیا میں پہلے پچاس ممالک سے بھی کم ہیں۔ پاکستان کے ایک فوجی پر فی کس خرچہ دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔
نمبر17: اور سب سے ضروری بات جو ہم سب پاکستانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم سب اور یہ فوج اسی دھرتی ماں کی اولاد ہیں۔ ہم میں سب کی کوشش ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال اور پرامن زندگی دے سکیں۔ کوئی ایک پیشہ دوسرے پیشہ سے بہتر نہیں ہے، ہم کسی بھی پیشے کو نظر انداز نہیں کر سکتے نہ ہی کسی کو اس کا حق ہے۔ کیونکہ سب ہی پیشے کام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا خوشحال ہوگا۔
نمبر18:ہمارا اتحاد ہی ہماری طاقت ہے، دنیا کی کوئی فوج بھی اپنی عوام کی مدد اور مرضی کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیت سکتی۔ اور ہمیں اس حقیقت کا اچھی طرح ادراک ہے۔ بہادرعوام کی اخلاقی حمایت کے بغیر فوج چاہے جتنی بھی اسلحہ بارود سے لیس ہو جنگ شروع تو کر سکتی ہے مگر جیت نہیں سکتی۔
نمبر19: عوام بھی یہ ذمے داری سمجھے کہ کم از کم ان لوگوں کا نشانہ نہ بنیں جو فوج اور عوام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے شرپسندوں اور سازشیوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ان سے دفاعی بجٹ جیسے موضوعات پر رائے لی جائے۔ آپ خود دیکھیں گے کہ یہ کیسے ثابت حقائق اور اعدادوشمار میں ہیرا پھیری کریں گے۔ لہٰذا ہمیں بحیثیت قوم تمام تر مشکلات کے باوجودِ ایک ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ملک دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نا ہوسکیں۔