Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

افغانستان !چھین کر حاصل کر لی آزادی

14 اگست کا دن کابل کی فتح کی تیسری سالگرہ کا دن ہے۔ تین سال قبل اس دن امارت اسلامیہ کے مجاہدین تقریبا ًدو ہفتے تک جاری رہنے والی لڑائی میں 32 صوبوں کی فتح اور امیر المومنین حفظہ اللہ کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے بعد عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کابل میں داخل ہوئے، افغان حکومت نے اپنی پوری قوم کو اس عظیم فتح کی تیسری سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ حق و باطل کی کشمکش اور گزشتہ بیس برسوں کے دوران ملک پر غیروں کے تسلط نے افغانستان میں بڑے مسائل پیدا کیے۔ ہمارے ہزاروں ہم وطنوں کی شہادت ہوئی اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ ہزاروں گھر تباہ ہوئے اور گائوں بمباریوں میں ملامیٹ ہو گئے۔ بیس سال کی قربانیاں اور ہر قسم کی سختیاں برداشت کرنے کے بعد بالآخر امارت اسلامیہ کے مجاہدین ایسے ہی دن حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح مسیحائی لے کر اور حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح آنکھوں کی ٹھنڈک بن کر قوم میں وارد ہوئے۔ امارت اسلامیہ نے ان تین سالوں میں اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں بہت سی کامیابیاں سمیٹی ہیں اور حکام نے ہمیشہ خود کو اس بات کا ذمہ دار سمجھا ہے کہ قوم کے لیے ہر شعبے میں سہولتیں پیدا کریں اور انہیں اقتصادی اور سیاسی راہیں کھول کر دیں۔دریں اثنا کابل سے آمدہ اطلاعات کے مطابق امارت اسلامیہ کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے انگریز استعمار سے آزادی کی 105 ویں سالگرہ کے موقع پر وزارت دفاع کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی چھین کر لی جاتی ہے، طشت میں کوئی پیش کرکے نہیں دیتا، آزادی تلوار اور ہمت سے حاصل کی جاتی ہے، دنیا میں بہت سارے ایسے ممالک ہیں جنہیں آزادی دی گئی ہے لیکن اب تک وہاں قابض افواج کے فوجی اڈے قائم ہیں، ان کے قوانین لاگو ہیں اور ان کی فرمائشوں پر چل رہے ہیں، آزاد صرف وہ ممالک ہیں جنہوں نے قربانیوں کی بدولت آزادی حاصل کی ہے۔
برصغیر پر قابض انگریز استعمار نے تین بار افغانستان پر حملے کئے اور ہر بار انہیں منہ کی کھانی پڑی، پہلی بار 1839 ء میں افغانستان پر حملہ کیا، مجموعی طور پر اس جنگ میں انگریزوں کی ساڑھے سولہ ہزار فوج میں سے فقط ایک آدمی زندہ سلامت ہندوستان واپس پہنچا۔ اور شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا۔ پھر 36 سال بعد 1878 ء میں امیر شیرعلی خان کے دور اقتدار میں انگریز استعمار نے دوسری بار افغانستان پر حملہ کیا، تاہم اس بار پھر افغان عوام نے شدید مزاحمت شروع کر دی، غازی ایوب خان، ملا مشک عالم، محمد جان وردگ، میر باچا خان کو ہدامنی، نجب الدین اخوند زادہ ودیگر کی قیادت میں جہاد کرکے انگریز استعمار کو شکست دے دی، انگریز استعمار نے 26 مئی 1879 ء کو ننگرہار کے ضلع خوگیانی کے علاقے گندمک میں افغان حکمران یعقوب خان کے ساتھ گندمک معاہدہ کیا، اس معاہدے کے تحت برطانوی افواج تو افغانستان سے نکل گئیں اور ملک آزاد ہوا تاہم افغانستان کی خارجہ سیاست انگریز کے زیر اثر ہو گئی، پھر تین ادوار امیر یعقوب خان، امیر عبدالرحمن خان اور ان کے بیٹے امیر حبیب اللہ خان تک یہ معاہدہ برقرار رہا، جب 1919 ء میں امیر حبیب اللہ خان مارا گیا اور ان کے صاحبزادے امیر امان اللہ خان نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت افغانستان نے اس معاہدے سے انکار کر دیا جس پر افغان انگریز کی تیسری جنگ چھڑ گئی۔آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے چند ضروری نکات پیش کرتا ہوں۔
1۔ نظام کے استحکام کے لئے معنوی اقدار اسلام اور شریعت کی پاسداری لازمی ہے کیونکہ ہم نے ہمیشہ آزادی جہاد کے جذبے اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے حاصل کی ہے اور اسی روحانی تعلق کی بنا پر اس کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔2۔ عوام کی حمایت ضروری ہے کیونکہ عوام کی حمایت سے ہی ہم نے آزادی حاصل کی ہے، ان کے اعتماد سے ہی ہم یہ نظام مستحکم رکھ سکتے ہیں۔3۔ عسکری طاقت کا حصول کسی بھی ملک اور نظام کے تحفظ کا بااعتماد ذریعہ ہے جس پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔4۔ معاشی خود کفالت اور ملک کی ترقی ضروری ہے کیونکہ آج کی دنیا میں کسی کی محتاجی سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور اقوام کو غلام بنایا جاتا ہے۔5۔ باہمی اتحاد اور قومی یکجہتی بھی ضروری ہے کیونکہ اقوام اس وقت غلام بن جاتی ہیں جب آپس میں تقسیم ہوجائیں، جس سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کا فارمولہ یہی ہے کہ لڑائو اور حکومت کرو۔6۔ نظام کے استحکام کے لئے ایک ضروری عنصر یہ بھی ہے کہ اس غیر محفوظ اور غیر مستحکم دنیا میں خود کو ٹکراو اور چیلنجز سے دور رکھے۔7۔ سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات استوار کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔8۔ اپنے عوام کا اعتماد اور تعاون حاصل کرنا اور ان کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی قائم رکھنا درحقیقت نظام کی جڑیں اور بنیاد مضبوط کرنا ہے۔ 9۔ نیک اور برے کاموں کا موازنہ کرنا، نیک کاموں کے حصول کے لئے عوام کی حمایت حاصل کرنا، اپنے ساتھیوں اور عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔10۔ ایک ایسا نظام جو آزاد اور خود مختار ہو، کسی بھی غیر ملکی طاقت کے زیر اثر نہ ہو، جس میں عقیدہ، ثقافت، اقدار، روایات سمیت تمام مادی اور معنوی اقدار محفوظ ہو، شدید محنت اور مشقت کی ضرورت ہے تاکہ ملک تمام شعبوں میں خود کفیل اور دوسروں کی محتاجی سے آزاد ہو۔

یہ بھی پڑھیں