Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

اللہ کا پسندیدہ دین اسلام

اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسانیت کے لئے دستور حیات ہے ، ان الدین عنداللہ الاسلام ،زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے اور ہر ایک کے لئے اس کا دائرہ کار واضح کرتا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اور آپ کی گھریلو، خاندانی، معاشرتی اور قومی زندگی میں اس کی بھرپور اور کامل مثال اور نمونہ موجود ہے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت اور تعلیمات کا عکاس تھیں اور ہیں اور امت کے لئے معیار ہیں اسلام زندگی کے مختلف مراحل کو گزارنے کے لئے مرد و زن میں سے ہر ایک کو مختلف ذمہ داریاں سونپتاہے تاکہ ایک پاکیزہ پرامن مہذب اسلامی معاشرے کی تشکیل کی جاسکے اور اس کے لئے حدود و قیود کا پابند بناتا ہے ایک پاکیزہ ،پرامن، مہذب اور ترقی یافتہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں مرد و عورت دونوں کا کلیدی کردار ہے انسان کی پیدائش کے بعد اس کی اولین درس گاہ ماں کی گود ہے اسلام نے عورت کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کے ایک باکردار فرد پرورش و تربیت اور تعمیر کرے اور ایک مرد کو بھاری ذمہ داری دی کہ اس نومولود کی پرورش کے لئے اسے حلال رزق اعلیٰ معیاری تعلیم اور زندگی کی تعمیر کے مواقع فراہم کرے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جسمانی اور ذہنی تفریح انسان کی کامیابی اور ترقی کے لئے ازحد ضروری ہے اور انسان کا فطرتی اور بنیادی حق بھی ہے لیکن اسلام نے اس تفریح کے لئے بھی لازم قرار دیا کہ ایسا ماحول ہو جہاں تفریح کے لئے آنے والے اپنے ایمان و حیا ،ملی روایات اور حدود اللہ کا مکمل پاس رکھ سکیں ایک اسلامی فلاحی مملکت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا کو چاہے وہ مرد، عورتیں یا بچے ہوں جہاں ان کے روزگار تعلیم اور قوموں کی برادری میں ترقی کے لئے مکمل شرعی ماحول فراہم کرے وہاں تفریح کے لئے بھی ایسا باپردہ ماحول دے جس سے اسلامی معاشرے کی پاکیزگی کی روح آلودہ نہ ہو یہ غلط فہمی مغرب سے متاثر قلوب و اذہان میں بیٹھی ہوئی ہے کہ خدا نہ کرے مذہب اسلام یا مذہبی طبقہ معاشرے کی ترقی نہیں چاہتے صنف نازک کو معاشرے کا باکردار اور ذمہ دار فرد نہیں سمجھتے اس کے حقوق کے دشمن ہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے اسلام نے جس قدر عزت عورت کو دی جو ترقی اور عروج عورت کو اسلام نے عطا کیا تاریخ انسانی اس کی مثال دینے سے عاجز ہے لیکن اسے جنس بازار بننے سے بچایا ہے اسے بازاروں میں حیوانی نگاہوں کی ہوس اور درندگی سے بچایا ہے جسے آج کا نام نہاد ترقی یافتہ معاشرہ حقوق ، جنسی مساوات اور نسوانی ترقی کا نام دے رہا ہے عورت کے کمزور کندھوں پہ معاش کا بوجھ نہیں ڈالا بلکہ یہ مرد کے ذمہ لگایا کہ عورت کو اس کے زندگی کے اسباب و حقوق گھر کی دہلیز پہ فراہم کرو ،بہرحال اسلام نے ہر میدان میں مرد و عورت ہر ایک کو مکمل انسانی حقوق سے نوازا ہے اور اسے زندگی سے لطف اندوز ہونے کی مکمل اجازت دی ہے لیکن شرعی حدود میں رہ کر شرعیت اسلام انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اس سے بڑھ کر اگر ہمیں اس میں پابندیاں یا حق تلفی نظر آتی ہے تو دراصل ہم فطرت انسانی سے تجاوز کرنا چاہتے ہیں اور مغرب کی بدبو دار تہذیب سے متاثر ہیں ایک سوسائٹی اور معاشرہ جسے اس کی حکومت اور ارباب حل و عقد تعلیم صحت روزگار اور اس جیسی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرسکتے اور جہاں مردوزن کا اختلاط ہو، شرعی ، آئینی اور اخلاقی حدود کو سرعام پامال کیا جاتا ہو، مشرقی اور علاقائی روایات کو روندا جاتا ہو،جس معاشرے میں عورت کو بازار کی زینت بنانا قابل فخر سمجھا جاتا ہو، اور اس معاشرے کی اکثریت خاموش تماشائی بنی یہ سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔
دراصل یہ اس معاشرے کی دینی، ذہنی فکری اور سیاسی شعور کی پستی کی واضح علامت ہے،اور اگر صاحبان بصیرت اس سیلاب کے آگے بندھ باندھنے کی کوشش اور تدبیر کریں، تو انہیں دقیانوس جاہل اجڈ ترقی کے دشمن اور نہ جانے کیا کیا بھپتیاں کسی جاتی ہیں، جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی لوگ اپنی قوموں کے محسن ہوا کرتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں بیسیوں گناہ ہورہے ہیں بیسیوں کمزوریاں ہیں ان پر آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی، لیکن کسی ایک موضوع کو لیکر پہاڑ بنادیا جاتا ہے تو عرض ہے انفرادی طور پر ہونے والے جرائم کا سدباب بھی اگرچہ ضروری ہے، لیکن جہاں کھلے عام اجتماعی طور ریاستی سرپرستی میں قوم کے ارباب اقتدار قانون الٰہی سے بغاوت اور قومی روایات سے غداری پہ اتر آئیں تو انجام نہایت بھیانک ہوتا ہے، اس بنا پر اس پر قدرے سختی سے سٹینڈ لیا جاتا ہے،کہا جاتا ہے اپنی نگاہ پاک ہو دل میں حیوانی کدورتیں نہ ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں، عرض ہے جس جماعت کو مخاطب کرکے اور جس ماحول میں حجاب اور دیگر شرعی حدود کا اجرا ہوا اس جماعت سے مقدس اور پاکیزہ جماعت اور اس ماحول سے پاکیزہ معاشرہ انسانی تاریخ نے کبھی نہیں دیکھا تو ہمارا شمار کہاں ہوگا گریبان میں جھانکا جائے کہ جس معاشرے میں آئے روز غیر اخلاقی حیا سوز کیسز سیلاب کی طرح بڑھ رہے ہوں، دیمک کی طرح کھا رہے ہوں اور وہاں ایسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جارہا ہو تو آنے والی نسلوں کو کیا مستقبل دیا جارہا ہے، کہ انہیں اپنے مذہب ایمان اس کی تعلیمات اپنی انسانی اخلاقی مشرقی قومی روایات کا کچھ علم نہ ہو معاشرے کا ہر فرد ہر طبقہ سوچے اور دل سے سوچے،ہمارا معاشرہ بگاڑ کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے،لبرل،سیکولر،ملحدین اور صلیبی ،صیہونی گماشتے ،معا شرے کے بگاڑ میں اپنا اپنا کردار جی بھر کر ادا کر رہے ہیں۔
ستم درستم اب برائی کو برائی کہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے،معا شرے کو با قاعدہ اجتماعی گناہوں کی ترغیب دی جاتی ہے، گناہوں کو رواج دینے والے شیطانوں کو دجالی چینلز کے ذریعے ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے، پاکستان ہو یا آزاد کشمیر ،یہاں جب تک عملی طور پر اسلامی نظام نافذ نہیں ہو گا ،اس وقت تک بگڑے ہوئے معاشرے کو سدھارنا ممکن نہیں ہو گا، یہاں بے پناہ مہنگائی،انتہا درجے کی غربت،اپنی جگہ ،مگر بے حیائی فحاشی و عریانی کا سیلاب بلا ایک ایسا درد سر ہے جس سے جان چھوٹتی اسلئے نظر نہیں آ رہی کیونکہ طاقت ور قوتیں اس کا راستہ روکنا ہی نہیں چا ہتیں۔

یہ بھی پڑھیں