Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

امریکہ کی آمش قوم

آمشوں کے بارے میں پڑھ سن تو رکھا تھا کہ امریکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی آباد ہیں جو بجلی استعمال نہیں کرتے، خچروں کے ذریعے کھیتی باڑی کرتے ہیں، گھوڑا گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، اور باقی دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزارتے ہیں، مگر دیکھنے کا اتفاق ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو ہوا۔ میرا خیال تھا کہ ایسے لوگ اگر ہیں بھی تو کسی جزیرے میں ہوں گے یا امریکہ کی کسی دور دراز سرحد پر آباد ہوں گے، لیکن پتہ چلا کہ امریکہ کے وسط میں اور واشنگٹن ڈی سی (دارالحکومت) سے صرف اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں رہتے ہیں۔ اپنے اردگرد چاروں طرف جگمگاتی روشنیوں اور ٹیکنالوجی کی جدید ترین سہولتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آج بھی موم بتیوں اور لالٹینوں کی مدہم سی روشنی پر قناعت کیے ہوئے ہیں اور مختلف علاقوں کے سیاحوں اور تماشائیوں کی تفریح اور تجسس و تحقیق کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔
جوہر آباد خوشاب میں ہمارے ایک پرانے بزرگ کلیم علی احمد خان رہتے ہیں جو جمعیت علماء اسلام کے سینئر حضرات میں سے ہیں۔ ان کے فرزند محمد اشرف میرے پرانے دوست ہیں اور ورجینیا امریکہ میں گزشتہ پندرہ برس سے آباد ہیں۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ کسی روز آمشوں کا علاقہ دیکھنے جانا ہے تو وہ تیار ہو گئے، اور ان کے ساتھ ہمارے ایک اور دوست علی ناہن صاحب بھی شریک سفر ہوئے جو سیالکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں، یہاں کاروبار کرتے ہیں اور دینی کاموں میں دلچسپی کے ساتھ حصہ لیتے ہیں۔ یہ آمش حضرات امریکہ کی ریاست پینسلوینیا کی لنکاسٹر کاؤنٹی میں آباد ہیں اور ان کا مرکزی گاؤں ’’انٹرکورس‘‘ کہلاتا ہے جس کے بارے میں اشرف صاحب نے بتایا کہ انگریزی محاورہ میں یہ لفظ کسی اچھے معنی کا حامل نہیں ہے، مگر بہرحال آمشوں کے مرکزی مقام کا نام یہی ہے۔
ہم تقریباً تین گھنٹے کا سفر کر کے ساڑھے گیارہ بارہ بجے کے لگ بھگ ’’انٹرکورس‘‘ کی جانب سڑک پر مڑے تو ایک سفید ریش بزرگ نظر آئے جو ادھر جانے والی گاڑیوں سے لفٹ مانگ رہے تھے۔ سیاہ پینٹ کوٹ کے اوپر سیاہ ہیٹ اور لمبی سفید ڈاڑھی تھی جبکہ مونچھیں صاف تھیں۔ ہم نے گاڑی روک لی اور ان سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ آ جائیں۔ یہ ہماری کسی آمش سے پہلی ملاقات تھی۔ انہوں نے دو تین میل تک جانا تھا، جہاں ان کی بگھی کھڑی تھی۔ وہ ہمارے ساتھ بیٹھے تو ہم نے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم آمش لوگ کم و بیش تین سو سال قبل جرمنی سے یہاں آئے تھے۔ یہاں تقریباً چالیس میل کے رقبہ میں ہمارے تین ہزار سے زائد خاندان آباد ہیں۔ ہم سادگی کے ساتھ پرانی وضع پر زندگی بسر کرتے ہیں، بجلی استعمال نہیں کرتے، البتہ مقامی طور پر خود بنائی ہوئی گیس استعمال کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ ہمارا تعلق عیسائیوں کے بیپٹسٹ فرقہ سے ہے، چرچ کی قیادت پر یقین رکھتے ہیں اور اسی کی رہنمائی میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہمارے تمام فیصلے چرچ کرتا ہے جن کی پابندی ہم پر لازمی ہوتی ہے۔ عورتیں گھریلو زندگی بسر کرتی ہیں، لمبا کرتا پہنتی ہیں، سر پر سکارف لیتی ہیں، بند بوٹ پہنتی ہیں اور گھریلو زندگی کے ساتھ ساتھ زرعی فارموں میں اپنے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں، اس کے علاوہ کوئی ملازمت وغیرہ نہیں کرتیں۔
ہم یہ باتیں کر رہے تھے کہ ایک جگہ سڑک کے کنارے بڑی بلڈنگ کے ساتھ بگھی اور گھوڑا بندھا ہوا نظر آیا۔ چھت والی بند بگھی تھی جس کے آگے ایک گھوڑا تھا۔ بگھی میں دو آدمی بیٹھ سکتے تھے اور نیچے تھوڑا بہت سامان رکھنے کی جگہ تھی۔ ہم گاڑی روک کر وہاں اتر گئے، بگھی دیکھی بلکہ میں تو اس میں تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ بھی گیا۔ اس بزرگ نے میرے بارے میں کہا کہ وہ اس بگھی پر مجھے اپنے گاؤں کی سیر کرا سکتا ہے، مگر اکیلے ایسا کرنا میرے لیے مشکل تھا، اس لیے اسے شکریہ ادا کر کے رخصت کر دیا اور وہ بگھی پر بیٹھ کر گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔
اس جگہ کے قریب ایک میدان میں دو بگھیاں لے کر گھوڑے گول دائرے میں تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ ان کے بارے میں اس سفید ریش بزرگ نے بتایا کہ یہاں گھوڑوں کو ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ وہاں سے آگے بڑھے تو تھوڑے فاصلے پر ایک انفارمیشن سینٹر اور اس کے ساتھ آمش گاؤں کا ایک ماڈل بنا ہوا ہے۔ سینٹر کے ساتھ ایک دکان ہے جہاں معلوماتی لٹریچر کے ساتھ ساتھ کچھ قابل (فروخت) اشیا بھی ملتی ہیں۔ اس کے ساتھ ایک بریفنگ روم ہے، اس میں داخلہ ٹکٹ کے ذریعے ہوا اور اس میں ایک بوڑھی خاتون نے ہمیں آمش قوم، ان کی تاریخ اور رہن سہن کے طریقوں کے بارے میں بریفنگ دی اور بہت سی معلومات فراہم کیں۔ بریفنگ میں ہمارے علاوہ اور بھی بیسیوں سیاح شریک تھے جو مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔
اس نے بتایا کہ ان لوگوں میں ابتدائی تعلیم چرچ میں ہوتی ہے، اور اس کے بعد ایک مقامی سکول میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے، اس کے بعد کسی کو مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لڑکیاں پورا لباس پہنتی ہیں جس کے ساتھ سکارف ضروری ہے۔ لڑکے بھی پورا لباس پہنتے ہیں، نیکر پہننے کی اجازت نہیں ہے، اور سر پر ہیٹ ضروری ہے، ننگے سر پھرنا مرد و عورت دونوں کے لیے ممنوع ہے۔ ہیٹ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے مگر شادی شدہ اور غیر شادی حضرات کے ہیٹ مختلف ہوتے ہیں اور ان کی ساخت میں تھوڑا فرق رکھا گیا ہے۔ مردوں کے لیے سیاہ لباس ضروری ہے، جبکہ عورتیں نیلا، سبز اور سفید لباس بھی پہن سکتی ہیں۔ گھروں میں تصویر رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور آمش لوگ فوٹو کھنچوانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ کپڑے گھر میں ہی سلے جاتے ہیں، بچے کی ولادت گھر میں ہوتی ہے اور عام طور پر وفات بھی گھر میں ہوتی ہے۔ چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج گھر میں جڑی بوٹیوں سے کرتے ہیں۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں