(گزشتہ سے پیوستہ)
امام ابو حنیفہؒ کی ذہانت، حاضر جوابی اور معاملہ فہمی مشہور ہے۔ کوفہ کے گورنر این ہیرہ نے ایک بار امام صاحبؒ سے اپنے پاس آنے کی درخواست کی۔ آپؒ پہنچے دیکھا کہ ایک نگینہ اس کے سامنے پڑا ہے اور وہ کچھ سوچ رہا ہے، آپؒ نے دریافت کیا کہ کس سوچ میں گم ہو؟ کہنے گا۔ ’’یہ نگینہ مجھے پسند آ گیا ہے میں چاہتا ہوں اسے استعمال کروں لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس پر دوسرے آدمی کا نام کھدا ہوا ہے۔‘‘ امام صاحبؒ نے نگینہ لے کر دیکھا تو اس پر نقش تھا ’’ عطا بن عبداللہ۔‘‘امام صاحبؒ نے سامنے بیٹھے ایک شخص کو نگینہ دیا اور اسے ہدایت دی اس نگینہ پر کھدے ہوئے الفاظ ’’عطا بن عبداللہ‘‘ میں صرف اتنی تبدیلی کروا دو کہ ’’بن‘‘ کو ’’من‘‘ اور ’’عبداللہ‘‘ کی ’’ب‘‘ کانقطہ مٹا کر ’’عبد‘‘ کے اندر نون کا لفظ لگوا دو۔ وہ شخص گیا اور تھوڑی دیر میں نگینہ لے کر لوٹ آیا۔ آپؒ نے نگینہ ابن ہیرہ کے حوالے کیا اور فرمایا۔ اب آپ اسے پہن سکتے ہیں۔‘‘ابن ہیرہ نے تعجب سے پوچھا۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ امامؒ صاحب نے کہا ’’اب پڑھئے‘‘ ابن ہیرہ نے پڑھا تو نگینہ پر کھدے الفاظ میں معمولی سی تبدیلی کے بعد اب جو الفاظ پڑھے جا رہے تھے وہ تھے ’’عطا من عنداللہ‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے دی ہوئی چیز۔ امامؒ صاحب کی ذہانت پر ابن ہیرہ اچھل پڑا، فوراً سنار کے پاس بھیجا کہ انگوٹھی میں جڑ کر واپس کرے۔قاضی ابو یوسفؒ فرماتے ہیں۔ ’’ایک بار میں خلیفہ کی ڈیوڑھی میں تھا، سامنے سے ایک آدمی گزرا، لوگ آپس میں کہنے لگے، یہ بڑا حساب دان ہے، مجھے ایک حسابی مسئلے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ میں اس شخص کے پاس پہنچا اور مسئلہ پیش کیا۔ اس نے ایک طریقہ بتایا لیکن اس طریقے سے مسئلہ حل کرنے پر جواب درست نہیں آیا، تب اس شخص نے کہا، اب بس ایک طریقہ رہ گیا ہے جو مجھے امام ابو حنیفہؒ نے بتایا تھا، قاضی ابو یوسفؒ کہتے ہیں کہ اس طریقے سے مسئلہ حل کیا تو بالکل صحیح جواب آ گیا۔‘‘
ایک بار ایک شخص امامؒ صاحب کے پاس آیا، اس نے کہا ’’میں نے اپنی رقم ایک جگہ احتیاط سے رکھ دی تھی اب یاد نہیں آتا کہ کہاں رکھی ہے مجھے رقم کی سخت ضرورت ہے۔ کوئی تدبیر بتایئے۔‘‘ امامؒ صاحب نے کہا۔ ’’بھائی یہ کوئی فقہی مسئلہ نہیں ہے، مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔‘‘ وہ شخص منت سماجت کرنے لگا۔ آپؒ نے فرمایا۔ ’’جاؤ آج ساری رات نماز پڑھو۔‘‘
وہ شخص گیا اس نے جا کر نماز شروع کی تھوڑی دیر میں اسے یاد آگیا کہ رقم فلاں جگہ رکھی تھی۔ دوڑا ہوا امامؒ صاحب کے پاس آیا کہنے لگا۔ ’’آپؒ کی تدبیر درست ثابت ہوئی۔‘‘ امامؒ صاحب نے فرمایا ’’ہاں شیطان کب گوارا کرتا کہ تم رات بھر نماز پڑھتے رہو اس نے جلد یاد دلا دیا۔ تاہم مناسب یہ تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے رات بھر نماز پڑھتے۔‘‘امام ابو حنیفہؒ نے جس قدر مسائل مدون کئے، ان کی تعداد بارہ لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ امام صاحبؒ نے جس طریقے سے فقہ کی تدوین کا ارادہ کیا تھا وہ بہت وسیع اور دشوار تھا۔ انہوں نے اتنے مشکل کام کو تن تنہا انجام دینا مناسب نہ سمجھا اور اپنے شاگردوں میں سے چالیس ماہر افراد کا انتخاب کیا، ان کی ایک مجلس بنائی۔ ان میں امام ابو یوسفؒ اور امام رفرؒ بھی شامل تھے۔ اس طرح فقہ کے اعلیٰ درجے کے ایک ادارے کی بنیاد پڑی۔ اس ادارے نے امام ابو حنیفہؒ کی سربراہی میں تیس برس تک کام کیا۔ امام ابو حنیفہؒ کی زندگی ہی میں اس مجلس کے فتاویٰ تیار ہو کر ملک بھر میں پھیلنے لگے تھے۔امام ابو حنیفہؒ نے اپنا اصول تحقیق کچھ یوں بیان کیا۔ ’’میں کتاب اللہ سے اخذ کرتا ہوں۔ اگر کوئی مسئلہ مجھے وہاں نہ ملتا تو سنت رسول اللہﷺ سے لیتا ہوں اور جب وہاں بھی نہ ملے تو صحابہ کرامؓ میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور جب معاملہ ابراہیم، شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ مجہتد تھے، اس وقت میں بھی انہیں لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں۔‘‘ (تہذیب التہذیب)امام ابو حنیفہؒ دینی مسائل میں غور و فکر کے بعد اپنے شاگردوں سے بحث کرتے تھے اور پھر حاصل بحث کو لکھوا دیا کرتے تھے۔ آپؒ کی اولاد میں س آپؒ کے بیٹے حمادؒ اور پوتے اسماعیلؒ نے فقہ اسلامی میں بڑا نام پیدا کیا۔ آپؒ کے اہم شاگردوں میں حضرت داؤد الطائی، امام ابو یوسفؒ، اسد بن عمروؒ، امام محمدؒ، امام زفرؒ اور حضرت عبداللہؒ بن مبارک جیسے جلیل القدر بزرگ شامل ہیں۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں امام ابو حنیفہؒ کے فتاویٰ کو پورے ملک میں قانون کا درجہ حاصل تھا۔ آپؒ کے شاگردوں کی تعداد ۷۳۰ اور ایک دوسری روایت کے مطابق ۸۸۰ ہے۔امامؒ ابو یوسفؒ کے والد چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا کوئی ہنر سیکھے لیکن امامؒ ابو یوسفؒ، امام ابو حنیفہؒ سے علم حاصل کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ ایک دن حضرت ابو حنیفہؒ کے درس میں شریک تھے کہ والد آئے اور امام ابو یوسفؒ کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ گھر آ کر سمجھایا ’’بیٹا ابو حنیفہؒ کو رزق کی طرف سے اطمینان ہے تم ان کی برابری کیوں کرتے ہو؟‘‘ امام ابو حنیفہؒ نے دو چار دن بعد پوچھا۔ ’’یعقوب (امام ابو یوسفؒ) اب نہیں آتے؟‘‘ لوگوں نے بتایا کہ ان کے والد نے منع کر دیا ہے۔ امامؒ صاحب چپکے سے امام ابو یوسف کے پاس پہنچے، سو درہم کی تھیلی ان کے حوالے کی اور کہہ گئے کہ جب یہ رقم خرچ ہو جائے تو مجھ سے اور لے لینا، اسی طرح ان کی مدد کرتے رہے، یہاں تک کہ امام ابو یوسفؒ فقہ کے عالم بن گئے۔
جب ۱۳۲ھ/۷۴۹ء میں سلطنت عباسیہ قائم ہوئی تو خلیفہ منصور نے بغداد کو دارالخلافہ بنایا۔ ۱۴۶ھ/۷۶۳ء میں آپؒ کو خلیفہ نے بلایا اور قاضی کا عہدہ پیش کیا۔ آپؒ نے انکار کر دیا اور فرمایا ’’مجھ میں اس کی قابلیت نہیں ہے۔‘‘ منصور نے کہا، ’’آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘ آپؒ نے جواب دیا۔ ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو آپ ایک جھوٹے کو قاضی مقرر نہیں کر سکتے۔‘‘ خلیفہ لاجواب ہو گئے۔ پھر آپؒ نے انہیں سمجھایا کہ میں عربی النسل نہیں ہوں، اس لئے اہل عرب کو میری تقرری ناگوار گزرے گی۔ لیکن منصور نے قسم کھا کر کہا کہ آپ کو عہدہ قبول کرنا ہوگا۔ آپؒ نے بھی قسم کھا کر کہا کہ ہر گز قبول نہ کروں گا۔ خلیفہ نے آپ کو قید کر دینے کا حکم دے دیا۔
قید کے دوران میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ امام محمدؒ نے جیل ہی میں آپؒ سے تعلیم پائی۔ بالآخر لوگوں کے بے حد زور دینے پر محض خلیفہ کی قسم پوری کرنے کے لئے آپؒ نے فرمایا کہ دجلہ کے پار ایک چھوٹی سی آبادی ’’رصافہ‘‘ کے قاضی کا عہدہ قبول کر لیتا ہوں۔ خلیفہ اسی پر راضی ہو گئے۔رصافہ میں آپؒ پانچ دن گزارنے پر بیمار پڑ گئے اور چھ دن تک بیمار رہے اور اسی بیماری کے عالم میں اپنے رب سے جا ملے۔ ۱۵۰ھ/۷۶۷ء میں علم کا یہ چمکتا ہوا آفتاب غروب ہو گیا۔