Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

آواز کی بجائے دلائل بلند کرو

یاایھا الذین آمنوا قواانفسکم واھلیکم نارا وقودھاالناس والحجارۃ
اسلام ایک پاکیزہ، پرامن مہذب معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے اور اس کیلئے مختلف مدارج میں مختلف افراد کی ذمہ داریاں لگائی ہیں ۔
اولاً والدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ اولاد کی تربیت حلال اور پاکیزہ رزق سے کریں قرآن و سنت کی روشنی میں اس تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں اسے اس کے خالق و مالک کا تعارف کروائیں اسے صاحب شریعت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے روشناس کروائیں‘اپنی عملی زندگی کو سنت کے مطابق بناکر اسے عملی نمونہ بنائیں‘ دوسرے نمبر پہ اساتذہ ہیں جن کی گود میں قوم کے نونہال ایک طویل عرصے تک اور زندگی کے قیمتی ترین لمحات گزارتے ہیں ‘اساتذہ کرام کی ذمہ داری والدین سے بھی دو گنا ہے کہ وہ قوم کے بچوں کو معلم بن کر علوم دینی اور دنیاوی کے زیور سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے علم نافع اور مضر کی پہچان کروائیں‘ علم سے مقصود جو کہ کارساز عالم کی پہچان معرفت اور ابدی کامرانی ہے اس سے آگاہ کریں قوم کے مستقبل کے معماروں کی اس سطح پر نظریاتی فکری اور اخلاقی تربیت کریں کہ وہ کل کو ایک مہذب باشرع اور باشعور قوم کی قیادت کرسکیں ‘اساتذہ اپنے عمل کو نمونہ بنائیں اور یہ دینی اور عصری اداروں اور تربیت گاہوں کے اساتذہ کی یکساں ذمہ داری ہے۔
تیسرے نمبر پہ مملکتی امور کے ذمہ داران یعنی حکمران اس کے پابند ہیں کہ وہ ایک پاکیزہ پرامن مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے قوم کے افراد کو اولاد کی طرح سنبھالیں ان کو تعلیم و تربیت اور کسب معاش کے وسائل گھر کی دہلیز پہ فراہم کریں تاکہ قوم امن و سکون کے ساتھ اپنی دینی‘اخلاقی‘معاشی‘ معاشرتی زندگی کی تعمیر کرسکے۔
چوتھے نمبر پہ قوم کے محافظ ادارے ہیں جو مملکت کے باشندوں کے امن و سکون اور سلامتی کو دشمن سے محفوظ رکھنے کیلئے سرحدات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں تاکہ مملکت کے شہرودیہات قصبے اور محلے پرامن اور محفوظ رہیں۔
پانچویں نمبر پہ عدل و انصاف کے ادارے ہیں جو قوم کو یکساں چھوٹے بڑے امیر کبیر کے درمیان امتیاز کے بغیر عدل و انصاف فراہم کریں تاکہ کوئی کسی کا حق غصب نہ کرسکے اور حقیقی معنوں میں ایک مہذب پر امن پاکیزہ دینی معاشرہ تشکیل پاسکے جہاں کسی کو کسی سے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔
حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ’’آج عالم اسلامی کے قائدین و مفکرین اور اس کی جماعتوں اور حکومتوں کیلئے کرنے کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کا تخم دوبارہ بونے کی کوشش کریں، جذبہ دینی کو پھر متحرک کریں اور پہلی اسلامی دعوت کے اصول و طریقہ کار کے مطابق مسلمانوں کو ایمان کی دعوت دیں اور اللہ و رسولﷺ اور آخرت کے عقیدہ کی پوری طاقت کے ساتھ دوبارہ تبلیغ و تلقین کریں، اس کیلئے وہ سب طریقے استعمال کریں جو اسلام کے ابتدائی داعیوں نے اختیار کئے تھے، نیز وہ تمام وسائل اور طاقتیں کام میں لائیں جو عصر جدید نے پیدا کردی ہیں‘‘۔
ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہماری جدید تہذیب اور موجودہ فکری قیادت معاشرہ انسانی کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے افراد تیار کرنے اور انسان کی سیرت سازی میں بری طرح ناکام رہی ہے۔وہ سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرسکتی ہے،وہ خلا میں سفر کرنے والے محفوظ اور سریع السیر(تیز رفتار) آلات پیدا کرسکتی ہے،وہ انسان کو چاند اور دوسرے سیاروں پر پہنچا سکتی ہے،وہ ذرائی طاقت سے بڑے بڑے کام لے سکتی ہے،وہ ملک سے غریبی دور سکتی ہے،وہ علم ہنر کو آخری نقطہ عروج تک پہنچا سکتی ہے،وہ پوری کی پوری قوم اور ایک ملک کی آبادی کو خواندہ و تعلیم یافتہ بناسکتی ہے۔اس کی ان کامیابیوں اور فتوحات سے کسی کو انکار کی گنجائش نہیں۔لیکن وہ صالح اور صاحب یقین پیدا کرنے سے عاجز ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی ناکامی اور بدقسمتی ہے اور اسی وجہ سے صدیوں کی محنتیں ضائع اور برباد ہورہی ہیں اور ساری دنیا مایوسی اور انتشار کا شکار ہے۔
کالم کے آخر میں مولانا جلال الدین رومی کے چند اقوال کہ جنہیں حکمت کے موتی قرار دیا جائے یہ کہنا درست ہوگا ۔
1۔ اپنی آواز کی بجائے دلائل بلند کرو2۔ پھول بادلوں کے گرجنے سے نہیں برسنے سے اگتے ہیں3۔ سچائی کے بہت سے راستے ہیں مگر میں نے جو راستہ چنا وہ محبت کا ہے4۔ تھوڑی دیر قبرستان جا اوربولنے والوں کو خاموش دیکھ5۔ روح کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی مرض نہیں کہ تو خود کو کامل سمجھنے لگے6۔ اگر عظمت چاہتے ہو تو دل میں نفرت کے بجائے محبت کو ٹھکانہ کرائو7۔ کسی ولی کی صحبت میں چند لمحے گزارنا سو سال کی عبادت سے افضل ہے۔ 8۔ تیری داڑھی تیرے بعد پیدا ہوئی اور سفید ہوگئی مگر تو ابھی تک کالے کا کالا ہی ہے۔9۔ اگر بیکار پتھر ہے تو کسی صاحب علم کے پاس جا گوہر بن جائیگا۔10۔ موت کا ذائقہ سب نے چکھنا ہے، مگر زندگی کا ذائقہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔11۔ تمہاری اصل ہستی تمہاری سوچ ہے باقی صرف ہڈیاں اور گوشت ہے۔12۔ رومی اس وقت تک مولائے روم نہ بنا جب تک شمس تبریز کا وہ غلام نہ ہوگیا۔ تو بھی نیک صحبت کو لازم پکڑ لے۔
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزے نہ شد

یہ بھی پڑھیں