اجتہاد احکامِ شرعیہ کے چار بنیادی مآخذ میں سے ہے جسے قرآن کریم میں ’’لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم‘‘ کی صورت میں بیان فرمایا گیا ہے اور جناب سالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبلؓ کی طرف سے ’’اجتھد برایی‘‘ کے عزم کے اظہار پر ان کی حوصلہ افزائی اور تصویب فرما کر اسے سند توثیق بخشی ہے۔ پھر یہ جناب نبی اکرمؐ پر نبوت و رسالت کے مکمل اور ختم ہونے کا ناگزیر تقاضا بھی ہے کہ قیامت تک وحی کے عدمِ نزول کے دور میں پیش آنے والے واقعات و مسائل کا وحی کے ساتھ رشتہ قائم رکھنے کی کوئی صورت ضرور موجود ہو تاکہ نسل انسانی ان امور میں وحی الٰہی کی راہنمائی سے محروم نہ رہے۔ چنانچہ جناب رسول اکرمؐ پر مکمل ہوجانے والی آسمانی وحی اور قیامت تک نسل انسانی کو پیش آنے والے مسائل و مشکلات کے درمیان اسی علمی ارتباط کا نام ’’اجتہاد‘‘ ہے جس کی بدولت اسلام دنیا کے ہر خطہ، نسل اور زمانہ کے لوگوں کے لیے ایک قابل عمل بلکہ واجب العمل نظام حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔
اجتہاد کا یہ عمل جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شروع ہوگیا تھا لیکن نبی اکرمؐ کے اجتہادات کو چونکہ وحیٔ الٰہی کی تائید یا سکوت کی صورت میں خود وحی الٰہی کا درجہ حاصل ہے اس لیے اصطلاحی معنوں میں اجتہاد کا آغاز حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سے شمار کیا جاتا ہے جو اس وقت سے مسلسل جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ اجتہاد کے بارے میں ایک بات تسلسل کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ پہلی تین یا چار صدیوں کے بعد اجتہاد کا دروازہ علماء نے بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے بعد سے کوئی مستقل مجتہد سامنے نہیں آرہا، لیکن یہ غلط فہمی علوم و فنون کی تشکیل و تدوین کے فطری مراحل سے بے خبری کا نتیجہ ہے ورنہ اجتہاد کا دروازہ کسی دور میں بند نہیں ہوا اور تمام تر کمزوریوں کے باوجود یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ البتہ اجتہاد کے اصول و قواعد کی ترتیب و تدوین کا باب ضرور بند ہوا ہے اور یہ ایک منطقی اور فطری عمل ہے۔ دنیا میں مختلف علوم و فنون کے آغاز، تشکیل اور ترقی و کمال کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک بات سب میں مشترک نظر آتی ہے کہ انسانی معاشرہ کی کوئی نہ کوئی ضرورت، مناسبت رکھنے والے ذہن میں داعیہ پیدا کرتی ہے جو رفتہ رفتہ ذوق کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ تک اس ذوق کا انفرادی اظہار ہوتا ہے اور مختلف جہات سے سامنے آنے والا یہ ذوق بتدریج ایک علم اور فن کی صورت اختیار کر جاتا ہے، یہی صورتحال ’’اجتہاد‘‘ کے ساتھ بھی پیش آئی۔ اجتہاد ایک شرعی ضرورت تھی جس نے اجتہادی صلاحیت سے بہرہ ور ذہنوں میں داعیہ پیدا کیا، کچھ عرصہ تک اس ذوق کا انفرادی اظہار ہوتا رہا، پھر اصول و ضوابط وضع ہوئے، استنباط و تطبیق کے قواعد ترتیب پائے، مختلف شخصیات کی طرف سے وضع کردہ اصول و قواعد نے توافق و تقابل کے مراحل سے گزرتے ہوئے رفتہ رفتہ ایک باضابطہ علم کی حیثیت اختیار کر لی اور متعدد فقہی مکاتب فکر وجود میں آگئے۔
اس پس منظر میں مجتہدینِ مطلق یا مستقل مجتہدین جو اجتہاد کے اصول و قواعد وضع کرتے ہیں، ان کے ظہور کا دور وہی تھا جب بنیادی قواعد و ضوابط تشکیل پا رہے تھے۔ اور اس دور میں بیسیوں مستقل مجتہدین سامنے آئے اور انہوں نے اپنے فقہی حلقے قائم کیے جن میں سے چار، یا ظواہر کو شامل کر کے پانچ مکاتب فکر کو امت نے قبول کر لیا اور باقی فقہی حلقے فطری عمل کے مطابق تاریخ کی نذر ہوگئے۔ اس کے بعد کسی مستقل مجتہد کی ضرورت باقی نہیں رہی اور اس علم کے بنیادی قواعد و ضوابط کی تشکیل و ترتیب کا باب بند ہوگیا۔ بالکل اسی طرح جیسے مثلاً علم نحو کے قواعد و ضوابط کی ترتیب کا ایک دور تھا، اس دور میں مختلف ائمہ نے قواعد و ضوابط وضع کیے جو قیامت تک اس علم کی بنیاد بن گئے۔ اب ان بنیادی قواعد و ضوابط کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی تشریح و تعبیر، ترمیم و اضافہ اور اضافی قواعد کی تدوین کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے اور ہر باصلاحیت کا حق ہے کہ وہ اس جولانگاہ میں اپنے رہوارِ فکر کو جہاں تک اس کے بس میں ہو دوڑاتا چلا جائے، لیکن اگر وہ نحو کے بنیادی قواعد مثلاً ’’الفاعل مرفوع والمفعول منصوب والمضاف الیہ مجرور‘‘ کو تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کرے گا تو کوئی ذی ہوش شخص اسے یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ اس لیے اگر علوم و فنون کی تشکیل و تدوین کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں اجتہاد کے بنیادی قواعد و ضوابط کے وضع و تدوین کا باب بند ہوا ہے تو اسے علماء یا فقہاء نے بند نہیں کیا بلکہ اس کے پیچھے فطری عمل اور تاریخ کا تسلسل کارفرما ہے۔
(جاری ہے)