پاکستان اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکاہے۔ بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد انتہائی فعال ہوکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں بلوچستان میں بی ایل اے ایک بار پھر متحرک ہوکر دہشت گردی میں ملوث ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ پنجابیوں کو اپنی مذموم کارروائیوں کانشانہ بنارہے ہیں۔ نیز ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایران سے زیارت کرکے واپس پاکستان آرہے ہوتے ہیں۔ نیز یہاں یہ بھی لکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ دہشت گرد بیرونی طاقتوں کے اشارہ پر بلوچستان میں ایسی صورتحال پیدا کرناچاہیے تاکہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع نہ ہونے پائے۔ ان دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی بھارت سے ہورہی ہے جو روپے پیسے دینے کے علاوہ انہیں دہشت گردی کی تربیت بھی فراہم کررہاہے۔ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں اس لئے کامیاب ہورہے ہیں کہ پاکستان میں جو لوگ اقتدار میں ہیں‘ ان کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ان میں اس کی سکت ہے وہ اس دہشت گردی کو روکنے کے سلسلے میں کوئی واضح حکمت عملی اختیار کرسکیں۔ محض حزب اختلاف خصوصیت کے ساتھ عمران خان کو تنقید کانشانہ بناکر یہ خیال کیاجارہاہے کہ اس طرح دہشت گردی رک جائے گی؟ دراصل اقتدار پر بیٹھا ہوئے ٹولے کے پاس دہشت گردی کو روکنے کے سلسلے میں کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔ بلکہ یہ عناصر ارباب اختیار کی خوشامد کرکے اپنے اقتدار کو طول دے رہے ہیں جبکہ ان کی کارکردگی سے عوام خوش نہیں ہیں۔ مزید براں جس طرح عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آئے ہوئے ہیں‘ اس کا حل بھی ان کے پاس نہیں ہے۔ حالانکہ اگر ان میں غریب عوام کے حالات کو درست کرنے کا حوصلہ یاتدبیر ہوتی تو یہ اپنے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے مہنگائی اور بے روزگاری کوختم کرنے کے سلسلے میں واضح حکمت عملی اختیار کرتے۔ لیکن ان میں عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے سلسلے میں نہ تو کوئی حکمت عملی پائی جارہی ہے اور نہ ہی ایسی کارکردگی نظر آرہی ہے جس سے عوام میں یہ امید پیدا ہوسکے کہ آئندہ چند ماہ میں ان کے سماجی ومعاشی حالات درست ہوجائیں گے نیز یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے جس پی ڈی ایم ون اقتدار پرفائز تھا۔ لیکن عوام کی بھلائی اور بہتری کیلئے کوئی کام انجام نہیں دے سکا تھا بلکہ روایتی انداز میں کرپشن میں ملوث تھا۔
دہشت گرد جس طرح اپنی مذموم کارروائیاں کررہے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں اس بات کااحساس ہے کہ اس حکومت کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہ محض ارباب اختیار کی مہربانیوں سے اقتدار میں آئی ہے جبکہ حکومت بھی اس ہی قسم کی کاتاثر دے رہی ہے لیکن دہشت گردی کے واقعات نے یہ ثابت کردیاہے کہ حکومت اس عفریت کو کچلنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ دوسری طرف دہشت گردی کامقابلہ فوج کررہی ہے جس میں لیویز بھی شامل ہے اور یہی لوگ جذبہ شہادت پر فائز ہوکر مملکت پاکستان کوتحفظ عطاکررہے ہیں۔ جبکہ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باہم ملکرایسی حکمت عملی اختیار کریں کہ دہشت گردی کاانسداد ممکن ہوسکے۔
دوسری طرف بلوچستان میں بی ایل اے ایک بار پھر بہت زیادہ متحرک ہوگئی ہے۔ وہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو ناکام بنانے او چنیوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے قتل وغارت گردی کا ماحول پیدا کرہاہے انہیں اس ’’کام‘‘ کے سلسلے میں بھارت اور دیگر پاکستان دشمن ممالک کا ہاتھ ہے۔ جس میں ان کی مالی امداد بھی شامل ہے۔ نیز وہ عناصر بھی دہشت گردوں کو ساتھ دے رہے ہیں جو بیرونی ممالک میں بیٹھے ہوئے ہیں جو بلوچ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کررہے ہیں کہ اس طرح بلوچستان کو’’ آزاد ‘‘ کرالیاجائے گا۔ حالانکہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت ایسا نہیں سوچ رہی ہے اور نہ ہی بلوچستان کو دہشت گردی کرکے تقسیم کیاجاسکتاہے۔ بلوچستان کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں بلکہ ان کے بزرگوں کا پاکستان بنانے میں قائداعظم محمد علی جنا حؒ کی سربراہی میں ایک اہم رول رہاہے۔ اور اب بھی بلوچ عوام کی اکثریت بلوچستان کو معاشی طور پر مستحکم کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر لے جارہے ہیں۔ سی پیک اس کی مثال ہے۔ جو چین کی مدد سے بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے لئے معاشی خوشحالی کا ضامن ہے۔ دہشت گرد بلوچستان کے علاقوں میں دہشت گردی کرکے دوسرے مرحلے کے سی پیک کو ناکام بناناچاہتے ہیں جس میں وہ کامیابی نہیں ہوسکیں گے۔
دوسری جانب بلوچستان کی صوبائی حکومت کو عوام کے معاشی مسائل حل کرنے کے سلسلے میں زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ معاشی محرومی بھی ہے جس کو دور کرنے کیلئے صوبائی حکومت کا کام ہے پاکستان دشمن طاقتوں کو اس بات کاادراک ہے کہ اگر سی پیک کادوسرا مرحلہ کامیاب ہوجاتاہے (انشاء اللہ ہوگا) تو بلوچستان کا معاشی وسماجی نقشہ ہی بدل جائے گا اور بلوچوں کی ’’ محرومی‘‘ بھی دور ہوجائے گی۔ چنانچہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کو ایسے منصوبے تشکیل دینے ہونگے جس کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو روزگار مل سکے۔ اگرنوجوان خالی پیٹ ہے تو وہ بہ آسانی غلط راہ پر گامزن ہوسکے ۔اس لئے دہشت گردی کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ نوجوانوں کو معقول و مناسب روزگار کے ذرائع پیدا کرنے ہونگے۔ یعنی carrot & stick go together اس حکمت عملی میں بلوچستان کی ترقی کاراز مضمر ہے اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی ۔ذرا سوچیئے۔